پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ ہے، سیکیورٹی الرٹ جاری


indexvderdc

پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ ہے، سیکیورٹی الرٹ جاری

وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کو سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا ہے اورانھیں سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے چاروں صوبوں کو لکھے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ طالبان گرلزاسکولز کے علاوہ کالجوں اور یونیورسٹیز پرحملے کرسکتے ہیں اورملک بھرمیں حساس تنصیبات کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔

timthumb.php

544991-police-1467177481-408-640x480

وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ اس سیکیورٹی الرٹ کے بعد محکمہ داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ پولیس اورڈی جی رینجرزکوایک خط کے ذریعے صورت حال سے آگاہ کردیا ہے اوران سے کہا ہے کہ سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے جائیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے 13 خود کش بمبارافغانستان سے پاکستان میں داخل ہو گئے ہیں۔ ان کی قیادت تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈرز عمر نارے اورابوظفرکررہے ہیں ۔دہشت گردوں کے حملے پشاور کی کھارخانو مارکیٹ اور چارسدہ یونیورسٹی کے حملوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔

news-1461403463-1679_large
ان اطلاعات کے پیش نظرقانون نافذ کرنے والے اداروں کو سول اور فوجی تعلیمی اور تربیتی اداروں کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے چاہئیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے کا تدارک کیاجا سکے ۔ اس کے علاوہ دیگر ممکنہ اہداف مثلاً قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مراکز،حساس تنصیبات، ایئرپورٹس، ایئربیس اور پبلک مقامات کی سیکیورٹی بھی سخت کردی جانی چاہیے۔آئی جی سندھ پولیس اورڈی جی رینجرز سندھ سے کہا گیا ہے کہ وہ سیکیورٹی کے ضروری اقدامات کریں اورنگرانی کوسخت کریں۔
http://www.express.pk/story/544991/
اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے 13 خود کش بمبار افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو گئے ہیں۔ ان کی قیادت تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ز عمر نارے اور ابوظفر کررہے ہیں۔ دہشت گردوں کے حملے پشاور کی کارخانو مارکیٹ اور چارسدہ یونیورسٹی کے حملوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔
دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔طالبان‬ ,‫‏پاکستان‬ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناسور ہیں۔
طالبان دہشتگرد ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور وہ انارکسٹ فلسفہ کے پیروکار ہیں اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر دین اسلام اور پاکستان کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں۔ دونوں تکفیری اور اسلام دشمن ہیں۔
طالبان جہاد نہ کر رہے ہیں ۔ ان کا نام نہاد جہاد اسلامی جہاد کے تقاضون کے منافی ہے۔
طالبان کےدہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں .طالبان دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئےنہ لڑ رہے ہیں بلکہ یہ اپنے اقتدار کےلئے لڑ رہے ہیں۔ یہ گمراہ لوگ ہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ رمضان کے مقدس مہینہ میں خودکش حملے کرنا ، کو ئی غیر مسلم ہی سوچ اور کر سکتا ہے۔
دہشتگرد، پاکستان ،پاکستانی عوام اور اسلام کےد شمن ہیں اور ہمیں ان سے ہر دم چوکنا و ہوشیار رہنا ہو گا اور ان کو دوبارہ اپنے گل کھلانے کا موقع بہم نہ پہنانا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان اور اسلام دشمنی ظاہر کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں۔

Advertisements