بغداد میں 2کاربم دھماکوں میں ہلاک افرادکی تعداد167ہوگئی


160703083313_baghdad_iraq_640x360_epa_nocredit

بغداد میں 2کاربم دھماکوں میں ہلاک افرادکی تعداد167ہوگئی

عراقی دارالحکومت بغداد میں دو کاربم دھماکوں میں ہلاک افراد کی تعداد 167ہو گئی ۔ مرنے والوں کی یاد میں 3روز سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ شہریوں نے شمعیں جلا کر مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔

548356-tw-1467529496-654-640x480
عراقی حکام کے مطابق پہلا کار بم دھماکا بغداد کے ضلع کرادہ کے مصروف تجارتی مرکز میں ہوا جہاں عید کی خریداری کے لیے لوگوں کا رش تھا ۔

577898cc86eef
جس کے کچھ دیر بعد شلال مارکیٹ میں دوسرا کار بم دھماکا کیا گیا ۔ دونوں دھماکوں میں 200سے زائد افراد زخمی بھی ہیں شدت پسند تنظیم داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ عراقی حکومت نے مرنے والوں کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ۔
http://search.jang.com.pk/latest/132137-baghdad-167-persons-were-killed-in-2-bomb-blasts

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے شہر بغداد میں یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک جب کہ 200 زخمی ہوگئے۔ عراق کی وزارت دفاع نے دھماکو ں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا  کہ پہلا دھماکا بغداد کے مرکزی علاقے کرادہ کے بازار میں ہوا جہاں خود کش بمبار نے دھماکا خیز مواد سے بھری کار عید کی خریداری میں مصروف شہریوں پرآکر اڑا دی۔

مقامی حکام کے مطابق دوسرا دھماکا تجارتی علاقے الشباب کی الشلال مارکیٹ میں ہوا، حکام کا کہنا ہے کہ الشلال میں کئے جانے والا دھماکا دیسی ساختہ بم کی مدد سے کیا گیا جو بازار میں نصب کیا گیا تھا۔

http://www.express.pk/story/548356/

عراق کے دارالحکومت بغداد کے معروف تجارتی مرکز پر داعش کے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 213 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس حملے کو رواں برس کی خطرناک ترین ترین کارروائی قرار دیا جا رہا ہے جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

http://www.dawnnews.tv/news/1039755/

160704013646_iraq_baghdad_funeral_640x360_ap_nocredit
عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے اتوار کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور انھوں نے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔سنیچر کو کرادہ میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔خبررساں ادارے اے پی کے مطابق مرنے والوں میں بہت سے بچے شامل ہیں۔
دہشت گردی، خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے . جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔

داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل
اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔
بچوں اور عورتوں کا قتل خلاف اسلام ہےعورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندھن نہ بنایا جا سکتا ہے۔حالت جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت ہے۔
اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔

Advertisements