مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکہ، چار اہلکار ہلاک


13566960_267099463646052_2019514724738866927_n

مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکہ، چار اہلکار ہلاک

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس شہر مدینہ میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دھماکہ پیر کی شام مسجدِ نبوی کے قریب ہوا اور خودکش بمبار نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب اسے مسجد نبوی کے باہر روکا گیا۔

تاہم العربیہ ٹی وی چینل کے مطابق خودکش بمبار نے سکیورٹی اہلکاروں سے کہا کہ وہ ان کے ہمراہ افطار کرنا چاہتا ہے اور اس کے بعد اپنے آپ کو اڑایا۔
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ قاری زیاد پٹیل نے جو دھماکے کے وقت مسجد نبوی میں موجود تھے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے سمجھے کہ افطار کا وقت ہونے پر گولہ چلنے کی آواز ہے۔

13606836_267099436979388_4949868031132987394_n
’لیکن پھر زمین لرز اٹھی اور اتنی شدت سے لرزی کہ ایسا محسوس ہوا کہ عمارت گر رہی ہو۔‘
خیال رہے کہ مسجدِ نبوی میں پیغمبرِ اسلام دفن ہیں اور اسے مکہ میں مسجد الحرام کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔
مدینہ میں دھماکے سے قبل نمازِ مغرب کے وقت ہی سعودی عرب کے مشرقی شہر قطیف میں بھی ایک دھماکہ ہوا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
قطیف سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ آبادی کا گڑھ ہے اور یہ دھماکہ بھی ایک مسجد کے قریب ہوا۔
مسجدِ نبوی کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔

13606836_267099436979388_4949868031132987394_n
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس سلسلے میں منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور سعودی حکام اور عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، تحفظ اور سکیورٹی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دہشت گردوں نے سب حدیں عبور کر لی ہیں اور جب تک سنّی اور شیعہ متحد نہیں ہو جاتے دونوں نشانہ بنتے رہیں گے۔
مصر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد کسی مذہب، عقیدے اور انسانیت پر یقین نہیں رکھتے۔
57 مسلم ممالک کی اسلامی تعاون کی تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے حملے سعودی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہیں کیونکہ سعودی عرب کی سکیورٹی خطے اور عالمِ اسلام کے تحفظ اور استحکام کی بنیاد ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/world/2016/07/160704_medina_attack_as
عرب ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ مدینہ میں خود کش حملہ کرنے والادہشت گرد سعودی شہری تھا،عرب ٹی وی کے مطابق 18سال کا عمر عبدالہادی عمر جعد العتیبی سیکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا۔

سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ الشیخ کا کہنا تھا کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ یہ جرم نہیں کرسکتا۔

مصر کی مشہور جامعۃ الازہر نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اللہ کے گھروں کی حرمت قائم رکھنے پر زور دیا۔

سعودی عرب کے علما کی سپریم کونسل کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں نے ثابت کردیا کہ اسلام کے باغی تمام مقدس مقامات کے دشمن ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے گذشتہ روز مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب خود کش دھماکے پر کہا ہے کہ اس حملے میں ذمہ داروں سے ’آہنی ہاتھ‘ سے نمٹا جائے گا۔ شاہ سلمان نے کہا ’جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے دل و دماغ کو ٹارگٹ کرتے ہیں ہم ان سے آہنی ہاتھ سے نمٹیں گے۔‘
ان حملوں کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے مگر تمام شواہد داعش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ حملہ داعش کے کسی حمایتی نے کیا ہو۔

اسلام میں انفرادی طور پر جہاد کا کوئی تصور نہ ہے اور نہ ہی اسلام انفرادی جہاد کی اجازت دیتا ہے۔انفرادی جہاد کے پرچارک اسلامی شریعہ کے منافی اقدامات کرنے کے مرتکب ہیں ۔ جہاد شروع کرنے کی ڈیوٹی ریاست کی ہےاور قانونی ریاست کو جہاد کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔اگر ریاست جہاد کا اعلان کر دے تو جہادتمام عوام پر فرض ہو جاتا ہے۔ اسلام میں کہیں بھی ایسے جہاد کا ذکر نہیں جو بےگناہوں کی گردنیں کاٹنے اور لوگوں کے خودکش بمبار بننے کی حمایت کرتا ہو، نام نہاد جہادی ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے درمیان فساد فی الارض برپا کرنےکے ذمہ دار ہیں۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر جہاد کا ذکر ہے اور نبی کریم کے ارشادات کی روشنی میں جہاد کے پانچ مراحل ہیں جن میں روحانی، علمی، معاشرتی، سیاسی، سماجی اور دفاعی جہاد شامل ہے. پاکستانی طالبان اور دوسرے نام نہاد جہادی پہلے چار مراحل کو نظر انداز کر کے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اسلام دشمنی میں آخری مرحلے کو پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ حالانکہ آخری مرحلے پر عمل صرف دفاعی صورت میں کیا جا سکتا ہے جس کی اجازت کسی جماعت یا تنظیم کو نہیں بلکہ صرف حکومت وقت کو ہے اور اس کی شرائط میں بھی دشمن کی خواتین، بوڑھوں، بچوں، سکولوں، چرچوں اور ہسپتالوں کو تحفظ کی ضمانت حاصل ہوتی ہے۔ ویسے بھی قتال کی بڑی سخت شرائط ہوتی ہیں۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔۔ اسلامی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور خانہ جنگی کی ممانعت ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔داعش اسلام کے باغی ہیں اور تمام مقدس مقامات کے دشمن ہیں۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔

Advertisements