عراق میں خود کش حملے کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک ، 65 زخمی


551644-tw-1467966299-831-640x480

عراق میں خود کش حملے کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک ، 65 زخمی
عراق کے شمالی شہر بلد میں واقع سید محمد بن علی الھادی کے مزار پر خودکش حملے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔

160707150051_baghdad_640x360_epa_nocredit
غیر ملکی میڈیا کے مطابق خود کش حملہ آور پہلے سید محمد بن علی الھادی کے مزار میں داخل ہوا اور لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ عید کی وجہ سے دربار پر کثیر تعداد میں لوگ آئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے متعدد افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد لوگ زخمی ہوگئے۔

news-1467955637-9398_large
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ خود کش حملے کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔ خود کش حملے کے نتیجے میں 35 افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔ آج ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/international/08-Jul-2016/409776
عراق کے دارالحکومت بغداد سے 93 کلومیٹر شمال میں واقع شہر بلد میں سید محمد ابن امام ہادی کے مزار پر 3 خود کش حملہ آوروں سمیت ایک درجن سے زائد مسلح افراد نے مارٹر گولوں اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کرکے کم از کم 35 افراد کو ہلاک جبکہ 60 کو زخمی کردیا۔
عراق کے حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 2 خودکش حملہ آوروں نے مزار کے قریب ایک تجارتی منڈی میں خود کو دھماکے سے اڑایا جب کہ تیسرے خود کش بمبار کو دھماکے سے پہلے ہی فورسز نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ دھماکوں اور حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش قبول نے قبول کی ہے۔
http://www.express.pk/story/551644
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے ۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔

داعش اسلام کی نمائندہ نہیں ہے ،مذہب کوہائی جیک کرنے کی کوشش کرنے والے جنونی ہرمذہب میں ہوتے ہیں،داعش بھی ویسی ہی جنونی اسلامی جماعت ہے۔

داعش مزاروں اور پیغمبروں کے مزاروں پر حملے کرنے کی بری شہرت رکھتا ہے۔

Advertisements