طالبان جنگجووں کی عورت سے اجتماعی جنسی زیادتی


Taliban-gang-rape-woman

طالبان جنگجووں کی  عورت سے اجتماعی جنسی زیادتی

افغان طالبان جنگجووں کے ایک گروپ نے جو کہ کمانڈر عمری کے زیر کمان لڑ رہے ہیں ،افغانستان کےجنوبی ہلمند صوبہ کے بالوجان گاوں واقع نحر سراج ضلع میں 4 روز پہلے ، ایک عورت کے گھر میں زبردستی گھس کر ،عورت کے بچوں کے سامنے مزکورہ عورت کو گینگ ریپ کیا، بچوں میں مذکورہ عورت کا 14 سالہ لڑکا بھی شامل تھا جس کے سامنے عورت کو گینگ ریپ کیا گیا۔

index
مقامی سیکورٹی اہلکاروں کے مطابق، طالبان کمانڈر عمری نے اس واقعہ میں ملوث جنگجووں کو گرفتار کر لیا۔ کمانڈر عمری نے مذکورہ عورت کو خبردار کیا اور اس معاملہ کو خفیہ رکھنے اور کسی کو نہ بتانے کا کہا۔
طالبان نے اس واقعہ کی رپورٹ پر اب تک کوئی تبصرہ نہ کیا ہے۔

images
طالبان کا اس جنسی زیادتی میں ملوث ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہ ہے۔ اس سے پہلے بھی طالبان کندوز شہر کے ایک ہوسٹل میں کچھ عورتوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب ہوئے تھے۔

Taliban militants gang rape woman in Helmand, official claims

بقول طالبان ،وہ افغانستان میں مصروف جہاد ہیں اور اسلامی نظام نافذ کرنے کے بڑے داعی ہیں مگر طالبان کا یہ دعوی، مذکورہ بالا واقعات کی روشنی میں ، جھوٹ اور فریب کے علاوہ کچھ نہ ہے اور ناقابل یقین اور ناقابل اعتبار دعوی ہے۔
مذکورہ واقعہ نہ صرف اسلامی جنگی اصولوں کی صریحا خلاف ورزی بلکہ موجودہ عالمی جنگی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے ۔

مذکورہ ملزموں کو اسلامی قوانین کے تحت ابھی تک سزا کا نہ دیا جانا، طالبان کے دہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
جہاد اللہ کی خشنودی کےلئے اور اللہ کی خاطر کیا جاتا ہے اور یہ ایک پاکیزہ اور مقدس عمل ہے۔، جس کے اپنے اصول اور تقاضے ہیں۔ علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں جس میں اپنے مخالف علماء ومشائخ کے گلے کاٹیں جائیں ،بے گناہ لوگوں حتی کہ عورتوں اور سکول کے بچوں کو بے دردی کیساتھ شہید کیا جائے اور عورتوں کی بے حرمتی کی جائے ،لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر ان سے جبراً نکاح کیا جائے، جس میں اسلامی سٹیٹ کو تباہ اور بے گناہوں کو شہید کرنے کیلئے خود کش حملہ آوروں کو جنت کے ٹکٹ دیئے جائیں، ایسا جہاد ،جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے۔ اور حرابہ کہلاتا ہے۔
قرآن مجید کی حرابہ کی یہ اصطلاح اپنے عموم کی وجہ سے دہشت گردی کی اصطلاح سے زیادہ وسیع اور جامع ہے، کیونکہ یہ خوف و دہشت، ظلم و ستم، قتل و غارت، ڈکیتی و رہزنی اور فتنہ و فساد کی تمام صورتوں کو محیط ہے، خواہ ان کا ارتکاب سیاسی، ذاتی، انفرادی، اجتماعی اور مادی کسی بھی قسم کے اغراض و مقاصد کی خاطر کیا گیا ہو، اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام فتنہ و فساد اور دہشت گردی کا کتنا شدید مخالف ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ خالصتاَایک للہیٰ عمل ہے۔ مجاہد کا دل ذاتی اغراض سے پاک اور صرف رضائے الہیٰ کی تمنا لئے ہوتا ہے ۔ اسے نہ مال و دولت سے غرض ہوتی ہے نہ غنیمت کی آرزو، نہ جاہ و جلال کا عارضہ لاحق ہوتا ہے ،نہ نام و نمود کی ہوس ۔
طالبان کے نظریات، پالیسیوں اور اقدامات نے اسلام اور مسلمانوں کو من حیث و جماعت کوئی فائدہ نہ پہنچایا ہے بلکہ طالبان نے بے گناہوں کے قتل،مار دھاڑ اور قتل وغارت گری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور قران کی غلط تشریحات کی ہیں۔
اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان صرف اپنے اقتدار کےلئے کام کر رہے ہیں اور اسلام کے مقدس نام کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کر رہئے ہیں اور اسلام کو بدنام کرنے کے مرتکب ہیں۔

 

Advertisements