سانحہ کوئٹہ ، پاکستان سوگوار


160809025537_quetta_blast_640x360_afp

سانحہ کوئٹہ ، پاکستان سوگوار

کوئٹہ دھماکہ، مزید 2زخمی دم توڑ گئے، شہدا کی تعداد 72 ہوگئی، سانحہ پر فضا سوگوار،کراچی سے خیبر تک ہر آنکھ اشکبار، شہدا کی تدفین کا سلسلہ جاری،وکلا کاعدالتی بائیکاٹ جاری ہے۔

160809052919_quetta_blast_976x549_reuters

13906614_1466228673406469_821773647723243559_n

13891987_10208745620251767_4020772584303250398_n

13913750_10208745635732154_5568834341904428887_o

l_153449_050844_updates
سول اسپتال کوئٹہ میں خودکش حملے میں72 افراد کی شہادت کے بعد آج کوئٹہ شہر کی فضا سوگوار ہے۔ ملک بھر سوگ کی فضا برقرار ہے ۔ سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کی اپیل پریوم سوگ منایا جارہا ہے ۔ کوئٹہ کی تمام جامعات،کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند ہیں  ۔تاجروں نے بھی کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

CpUxquUXEAAeDC1
بلوچستان ایک عرصے سے دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنا ہوا ہے مگر اس بار ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے۔

160808100617_quetta_blast_640x360_afp_nocredit

578059-QUETTABLAST-1470682561-769-640x480
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیر کو ہونے والے دھماکے میں 72 ہلاکتوں کے بعد صوبے میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔
سول ہسپتال کے حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 72گئی ہے اور 110 سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ شدید زخمی ہونے والے 28 افراد کو خصوصی جہاز کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔دھماکے میں ہلاک ہونے والے وکلا کی تعداد 40 سے زائد ہے۔
دھماکے پر بلوچستان میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سات روزہ سوگ منا رہی ہے۔
بلوچستان حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، قومی پرچم سرنگوں ہے، وادی کوئٹہ میں آج فضا سوگوار ہے ۔

وفاق اور پنجاب حکومت کی جانب سے ایک روزہ سوگ کے باعث تمام سرکاری اور نیم سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہے۔سانحہ کوئٹہ میں اپنے ساتھیوں کے جانی نقصان پر وکیل بھی غمزدہ ہیں، سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کی اپیل پر آج یو م سوگ منایا جا رہا ہے۔لاہور اور ڈسٹرکٹ بار ملتان میں سانحہ کوئٹہ کے شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی، سانحہ کوئٹہ پر پسرور بار ایسوسی ایشن کی ہڑتال جاری ہے، وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے، پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے بھی آج یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

داعش اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے میڈیا سے رابط کر کے کوئٹہ میں وکیل رہنما کی ہلاکت اور بعد میں سول ہسپتال میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق جماعت الاحرار گروپ کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ای میل میں کہا کہ آئندہ دنوں میں اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے اور اس حوالے سے ایک ویڈیو رپورٹ بھی جلد جاری کی جائے گی۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جماعت الاحرار گروپ نے اس سے قبل لاہور کے گلشن اقبال پارک کے قریب خودکش دھماکے کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں بچوں اور خواتین سمیت 72 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
جماعت احرار اور داعش دونوں ہی اس دہماکہ کی زمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ یہ کس طرح کے مسلمان ہیں جو کہ بے گناہ لوگوں کی ہلاکتیں بھی کر رہے ہیں اور اس پر خوشی کا اظہار بھی۔ اس قبیل کے لوگ نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان بلکہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے حقدار نہ ہیں اور یہ انسانیت کی توہیں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جماعت احرار اور داعش دونوں خوارج ہیں اور مسلمانوں اور اسلام کے دشمن۔دونوں کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

ایک اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا  کہ حکومت سانحہ کوئٹہ میں بہنے والاخون رائیگاں نہیں جانے دے گی،  ہم ایک نظریے کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں جو ہمارا طرززندگی بدلنا چاہتے ہیں، قوم متحد ہے اوردہشت گردوں کے مکمل صفائے کے لئے حکومت کے ساتھ ہے۔ ہم نے ملک کو درست راستے پر گامزن کر دیا ہے، اب پرامن،مستحکم اور خوشحال پاکستان کے ثمرات ہر شہری تک پہنچیں گے اور ہم ملک کو ہر قسم کی دہشت گردی  و انتہاپسندی سے پاک کریں گے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ فاٹا میں کامیاب آپریشن کے بعد دہشت گرد مایوس ہو کر اہداف تبدیل کر رہے ہیں، دہشت گرد سمجھتے ہیں وہ قوم میں عدم برداشت اور اختلاف کے بیج بوسکتے ہیں، بہترنتائج کے لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے سے تعاون بڑھائیں جب کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں بھی رابطہ کاری بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

افغان امور کے ماہر،سینئر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نےکہا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی عوام سے انتقام لے رہے ہیں کیونکہ پاکستانی عوام ان کی حمایت نہیں کرتے۔حکومتی اور سکیورٹی اداروں پر حملوں میں ان کو ناکامی ہوئی ہے ، اسی کوئٹہ شہر میں ائیربیس پر حملے کئے گئے مگر ناکام رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت الاحرار ٹی ٹی پی کا ایک دھڑا ہے اس کے سربراہ کا نام عبد الولی یا عمر خالد خراسانی بھی تھا،ان لوگوں کے اکثر کئی نام ہوتے ہیں۔ یہ اپنا انتقام لینے کی کوشش کر رہے ہیں اور پاکستانی عوام پر حملے کر رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اب بھی جہاں چاہیں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سعد محمد کا کہنا ہے کہ اگرچہ دہشت گردوں کی حملے کرنے کی صلاحیتوں میں کچھ حد تک کمی آئی ہے، لیکن انھیں نہیں لگتا کہ وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہو رہے ہیں۔
ریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے اور دہشت گرد کسی شہر میں بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد نے اس واقعے کی وجہ سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کو قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے بڑے واقعات کے بعد جواب طلبی نہیں ہوتی تاکہ یہ پتا چل سکے کہ غلطی کس سے ہوئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جس سے بھی غلطی ہوئی ہو اس کے خلاف ایکشن لینا ضروری ہے، چاہے وہ پولیس ہو یا سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار۔
سینئر تجزیہ کار امتیاز گل کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کئی مسائل کا سامنا ہے، لیکن جس طرح کا واقعہ کوئٹہ میں ہوا اسے روکنا بہت مشکل ہے۔
جماعت احرار/ طالبان ان کے ساتھی دہشتگرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. دہشتگرد پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔ دہشتگردوں کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو 28 ارب 45 کروڑ 98 لاکھ ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔دہشتگرد قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ خیبرپختونخوا میں شکست کھانے کے بعد دہشت گردوں نے بلوچستان کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہوئے اسے اپنا نشانہ بنا لیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان سے ملحقہ سرحد پر بھی سیکیورٹی کا نظام زیادہ موثر بنایا جائے۔
جس طرح پورے ملک میں دہشت گردی پھیل چکی ہے، تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو تعاون کر کے عوام کو اس کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرنا ہو گا اور دہشتگردی کا مستقل بنیادوں پر سدباب کرنے کے لئے عوام کا تعاون درکار ہے کیونکہ عوام کے تعاون کے بغیردہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

 

Advertisements