خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی فضائی کارروائی میں 5ٹھکانے تباہ ، متعدد دہشت گرد ہلاک


news-1471326730-8119_large

خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی فضائی کارروائی میں 5ٹھکانے تباہ ، متعدد دہشت گرد ہلاک

سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کے علاقوں میں فضائی کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس دوران دہشت گردوں کے 5ٹھکانے تباہ کیے گئے ۔

2071942

نیو نیوز کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے علاقوں میں فضائی کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ۔ فضائی کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی کے دوران راجگل ، ستارکلے اور خیر بہ کے علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ۔
http://dailypakistan.com.pk/khyber/16-Aug-2016/430141

سیکیورٹی فورسز کی وفاق کے زیر انتظام فاٹا کی خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی کے نتیجے میں 15 مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائی کی۔

وادی تیراہ کے علاقوں راجگال اور ستار کلے میں کی جانے والی فضائی کارروائی میں 15 مشتبہ دہشت گرد ہلاک، جبکہ ان کے 5 ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔

تاہم انتہائی دور افتادہ مقام ہونے اور علاقے تک میڈیا کو رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔

http://www.dawnnews.tv/news/1042097/
پاکستان گزشتہ کئی سال سےطالبان کی بے رحم دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹ رہا ہےلیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گرد ابھی تک قبائلی علاقوں کے مختلف حصوں میں چھپے ہوئے ہیں اور وقفے وقفے سے دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے ملک اور عوام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر تے رہتے ہیں۔
دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں طالبان اوران کے دوست دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں ۔ دہشتگردوں کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔ پاکستان میں22 ہزار1 سو شہری اور8ہزار 214سیکورٹی اہلکار دہشتگردی کی وجہ سےجان سے گئے،40 ہزار 792زخمی ہوئے۔
اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔ دہشتگرد ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں.
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور اس میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی برائیوں کی کوئی گنجائش نہیں.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خلاف اسلام ہےاور جہاد نہ ہے ،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے ۔.

 

Advertisements