آپریشن راجگل کیا آخری معرکہ ہوگا؟


150615061004_pakistan_army_soldier_624x351_afp

آپریشن راجگل کیا آخری معرکہ ہوگا؟

عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کی سکیورٹی افواج نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف ایک مشکل اور بڑے معرکے کا آغاز کیا ہے اور اس مرتبہ یہ علاقہ راجگل کا ہے۔مبصرین کے مطابق خیبر ایجنسی کے اس مشکل ترین علاقے میں فوجی آپریشن کا مقصد شدت پسندوں کے افغانستان سے پاکستان میں داخلے کو روکنا ہے۔راجگل میں فوجی آپریشن منگل کو شروع کیا گیا اور پہلے روز شدت پسندوں کے نو ٹھکانے اور اسلحے کے ڈپو تباہ کیے گئے۔

160105221501_bara_bazaar_khyber_agency_640x360_bbc_nocredit

راجگل پاکستان کے قبائلی علاقےخیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کا حصہ ہے۔اس پہاڑی علاقے میں گھنے جنگلات ہیں اور یہ خیبر ایجنسی کا ایک خوبصورت علاقہ سمجھا جاتا ہے۔وادی تیراہ وسیع رقبے پر محیط ہے اس کی سرحدیں مشرق میں پشاور سے اور مغرب میں افغانستان کے صوبہ ننگر ہار سے ملتی ہیں۔اسی طرح جنوب میں اورکزئی ایجنسی جبکہ جنوب مغرب میں کرم ایجنسی واقع ہے۔خیبر ایجنسی کی طویل سرحد افغانستان سے ملتی ہے اور راجگل کا علاقہ بھی پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔

150409140516_tirah_valley_640x360_bbcurdu_nocredit

160806173311_khyber_640x360_bbc_nocredit
راجگل کا یہ علاقہ سکیورٹی افواج کے کیے کتنا مشکل ہے اور اس محاذ کا انتخاب آخر میں کیوں کیا گیا ہے اس بارے میں عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید نذیر نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ٹو بڑے آپریشن تھے اور وہاں فوج کی بڑی تعداد تعینات تھی اس لیے راجگل میں آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس آپریشن سے ان علاقوں میں روپوش شدت پسندوں کا صفایا کرنا اور سرحد کو محفوظ بنانا ہے تاکہ شدت پسند خفیہ راستوں سے پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں۔

l_111509_064010_updates

277024_87014021
بریگیڈیر ریٹائرڈ سید نذیر کا کہنا تھا کہ راجگل شمالی وزیرستان کے علاقے شوال سے مماثلت تو رکھتا ہے لیکن راجگل اس لیے بھی مختلف ہے کہ یہاں سے فرار کے مختلف راستے ہیں اور اس کے علاوہ افغانستان میں تورہ بورہ جیسے اہم علاقے بھی زیادہ دور نہیں ہے۔
بنیادی طور پر یہ علاقہ خیبر ایجنسی کے بڑے قبیلے کوکی خیل کا ہے لیکن اس آپریشن سے کافی پہلے یہاں سے لوگ جمرود اور دیگر علاقوں کو منتقل ہو چکے تھے۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید نذیر کے مطابق راجگل اور دیگر ملحقہ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے ارکان روپوش ہیں جن میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے علاوہ لشکر اسلام شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ راجگل کا علاقہ اونچائی پر ہے اور اسی لیے یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے جب کہ سردیوں کے شروع میں یہاں دھند بہت ہوتی ہے اس لیے سکیورٹی افواج کو یہ آپریشن دو مہینوں کے اندر اندر مکمل کرنا ہوگا۔
سکیورٹی افواج اب تک باڑہ اور تیراہ کے دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن مکمل کر چکی ہیں اور بڑے علاقے کو شدت پسندوں سے صاف قرار دے دیا گیا ہے ۔
خیبر ایجنسی کے مقامی صحافی ولی خان شنواری کا کہنا ہے کہ راجگل دور دراز اور پسماندہ علاقہ ہے لیکن قدرتی طور پر انتہائی خوبصورت علاقہ ہے۔انھوں نے بتایا کہ تیراہ کے مختلف علاقے خیبر باہ، ستار کلے اور راجگل میں سکیورٹی افواج کی کارروائیاں جاری ہیں لیکن ان علاقوں میں مواصلات کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے آزاد ذرائع سے معلومات موصول نہیں ہو رہیں۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ راجگل کا یہ آپریشن کیا ضرب عضب اور خیبر ٹو کا آخری معرکہ ہوگا یا یہ آپریشن پاک افغان سرحد پر واقع دیگر علاقوں کو بھی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
(بشکریہ بی بی سی اردو)
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160817_pak_raajgaal_operation_rwa
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق ملک کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد سے متصل وادی راجگُل میں شروع کیے جانے والے آپریشن میں 14 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے آئی آیس پی آر کے حوالے سے بتایا کہ زمینی اور فضائی کارروائی میں 11 شدت پسند زخمی بھی ہوئے ہیں۔
خیبر ایجنسی سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق یہ دشوار گزار سرحدی علاقہ ہے جس کا بڑا حصہ گھنے جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ اس کی سرحد افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ملتی ہے۔ اس علاقے میں کوکی خیل قبائلی آباد ہیں۔
اس دور افتادہ علاقے میں کئی شدت پسند تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں جن میں لشکرِ اسلام، تحریکِ طالبان پاکستان اور دوسری تنظیمیں شامل ہیں جن کے ارکان علاقے کے جغرافیے سے فائدہ اٹھا کر آسانی سے سرحد کے پار آتے جاتے رہتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فضائی اور زمینی کارروائی میں شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور دروں کی گذرگاہیں تباہ کی ہیں جبکہ شدت پسندوں کے نو ٹھکانوں کو فضائی حملوں اور زمینی آپریشن کے دوران تباہ کیا گیا ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160816_khyber_agency_operation_sh

آج کی کاروائی میں  خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں فورسز کی کارروائی میں مزید 13دہشتگرد اپنے انجام کو پہنچ گئے، 6ٹھکانے بھی تباہ کردیئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق وادی تیراہ میں فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں،جیٹ طیاروں نے راجگل میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ فضائی کارروائی میں 13دہشتگر د ہلاک ہوگئے،ان کے 6ٹھکانے بھی تباہ کردیئے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق کالعدم لشکر اسلام، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش سے ہے۔
خواتین و حضرات پاکستان کی ترقی و خوشحالی ، ہمارے دشمنوں کو راس نہیں آرہی لہذا بہت سارے دشمن پاکستان کے خلاف اکٹھے ہوچکے ہیں اور پاکستان اور پاکستانی عوام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ اس چیلینج سے نبٹنے کا واحد حل قوم کا آپس میں اتحاد و اتفاق ہے اور یہ وقت کا اہم تقاضا ہے کہ تمام پاکستانی متحد و یک جان ہو کر اتفاق سے ,مصیبت کی اس گھڑی میں, دشمن کا مقابلہ کریں ۔

Advertisements