ترک خودکش حملے کا نشانہ بننے والے زیادہ تر بچے تھے


160821083949_turkey_640x360_epa_nocredit

ترک خودکش حملے کا نشانہ بننے والے زیادہ تر بچے تھے

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق سنیچر کو غازی عنتب نامی شہر میں شادی کے تقریب پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔اس دھماکے میں کل 54 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک شدگان میں سے 29 کی عمریں 18 سال سے کم تھیں جبکہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے 22 تو 14 سال سے بھی کم عمر کے تھے۔

160822041619_turkey_wedding_suicide_bomber_was_child_aged_12-14_640x360__nocredit

587360-TURKEY-1471770650-536-640x480

160821123754_explosion_at_a_wedding_in_turkey_killed_dozens_976x549_afp_nocredit

ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کی عمر 12 سے 14 سال کے درمیان تھی۔ ترک صدر نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
غازی عنتب شام کی سرحد کے قریب واقع ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہاں دولتِ اسلامیہ کے خفیہ گروہ سرگرم ہیں۔
اخبار کے مطابق حملے کے لیے جس طرح کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا وہ اس سے پہلے کرد نواز اجتماعات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو چکا ہے۔
پیر کو ہی دھماکے کے مزید تین زخمیوں کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 54 تک پہنچ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے دوگان کے مطابق ہلاک شدگان میں ہیں13 خواتین بھی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 66 ہے جن میں سے 14 کی حالت نازک ہے۔اس سے پہلے اتوار کو حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔نامہ نگاروں کے مطابق غم سے نڈھال رشتہ دار مرنے والوں کے تابوتوں پر گر گر کر دھاڑیں مارتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔
http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160822_turkey_bombing_si
دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے ۔

160821122537_explosion_at_a_wedding_in_in_turkey_killed_dozens_on_21_august_2016_976x549_afp_nocredit

دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی ،بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور داعش کے دہشت گرد ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔ جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔
اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔

160821122943_explosion_at_a_wedding_in_in_turkey_killed_dozens_on_21_august_2016_976x549_afp_nocredit

160821123108_explosion_at_a_wedding_in_in_turkey_killed_dozens_on_21_august_2016_976x549_afp_nocredit

معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔

اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ ۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔
داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔

Advertisements