حقانی نیٹ ورک، جنوبی ایشیا اور دنیا کے لئے صاف اور واضع خطرہ


_84607958_gettyimages-155626966

حقانی نیٹ ورک، جنوبی ایشیا اور دنیا کے لئے صاف اور واضع خطرہ

حقانی نیٹ ورک ,پاکستان و افغان سرحد پر سرگرم ہے اور یہ جنوبی ایشیا اور دنیا کیلئے مسلسل خطرہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں شدت پسندوں کے مضبوط مرکز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

558b79a803c6d

سراج الدین حقانی،حقانی نیٹ ورک کا کرتا دھرتا اور انچارج ہے اور خلیفہ کہلاتا ہے۔حقانی نیٹ ورک افغان طالبان کا سب سے مضبوط گروپ تصور کیا جا تا جن کے پاس ٹرینڈ جنگجو ہیں اور مشرقی افغانستان میں زیادہ تر حملوں میں ملوث ہیں۔

_____________738999013

حقانی نیٹ ورک پکتیا،پکتیکا،خوست غزنی، وردک اور صوبہ کابل کے علاقوں میں خاصا متحرک ہے۔حقانیوں کا تعلق زدران قبیلہ سے ہےجو کہ زیادہ تر پکتیا اور خوست صوبہ میں رہتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں حقانی مدرسہ منبہ العلوم بھی چلاتے تھے۔حقانیوں کے بن لادن اور القائدہ کےساتھ بڑے قریبی تعلقات تھے۔
حقانی نیٹ ورک، پاکستان کے علاوہ افغانستان میں اس علاقے پر کاروائیاں کرتےہے جسے”خوست کا پیالہ” کہا جاتا ہے اور جس میں پکتیکا، پکتیا اور خوست شامل ہیں۔حقانی پاکستان میں مہمان بن کر آئے اور مالک بن کر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ میں قبائلی عمائدین کو قتل کر اکے قبائلی معاشرہ کی ساخت کو کمزور کر رہے ہیں اور قبائلیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں، اپنے ایجنڈا کی تکمیل کے لئے افغانستان میں یہ بے گناہ اور معصوم لوگوں، عوتوں اور بچوں کے قتل میں ملوث ہیں۔
یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی طالبان کے درمیان رابطہ موجود ہے”، ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے بتایا جو کہ پاکستان کے لاقانونیت کا شکار قبائلی علاقوں میں سلامتی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے غیر ملکی دہشت گردوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب ہر گروپ دوسرے سے استفادہ کرتا ہے۔ اور بالآخر اس تعلق سے سب سے زیادہ فائدہ القاعدہ کو پہنچتا ہے کیونکہ حقانی اور تحریک طالبان پاکستان دونوں ہی اسے سرحدوں کے دونوں جانب سہولیات اور دیگر امداد فراہم کرتے ہیں۔
حقانی نیٹ ورک ایک موثر اور فعال دہشتگرد گروہ ہے جو کہ پاکستان و افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم ہے اوریہ پاکستان اور افغانستان کے لئے ایک صاف،واضع اور موجودہ خطرہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے افغانستان میں بے پناہ مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔حقانی نیٹ ورک پورے جنوبی ایشیا کےخطہ کے لئے اور دنیا کے لئےایک خطرہ ہیں۔حقانی نیٹ ورک خود چھپ کر حملہ کرتا ہےاور پیچھے رہتا ہے اور طالبان، ٹی ٹی پی اور داعش کو اپنی پیدا کردہ دہشتگردی کا فائدہ بہم پہنچاتا ہے۔حقانی نیٹ ورک اغوا برائے تاوان کے لئے عورتوں اور بچوں اٖغوا کرتے ہیں اور اس سے دولت کماتے ہیں۔حقانی نیٹ ورک ایک مجرمانہ تنظیم ہےجو کہ افغانوں اور غریب پاکستانیوں کے قتل سے پیسے بنا رہی ہے ۔ طالبان نے بڑی ڈہٹائی کے ساتھ ،حقانی نیٹ ورک کو تحفظ دینے کے لئے، 19 اپریل کے کابل حملے کا کریڈٹ لیا اور دیگر حملوں کا کریڈٹ لیتے ہیں، جو کہ در حقیقت حقانی نیٹ ورک نے کیے تھے۔ افغان عوام اور افواج پر حملے حقانی نیٹ ورک کرتا ہے اور مارے دوسرے لوگ اور لیڈر جاتے ہیں اور خود حقانی فیملی بحفاظت اور عیاشی سے رہتے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک نان نہاد جہاد کا قائل و پرچارک ہے۔ حقانی نیٹ ورک جوپاک افغان سرحدی علاقوں میں موجود ہیں اس وقت بھی خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک خطرہ ہیں۔

Advertisements