عیدالضحی پر قربانی کی کھالیں اور دہشتگرد


183316-cowmandi-1381141486-772-640x480

عیدالضحی پر قربانی کی کھالیں اور دہشتگرد

پاکستان میں ہر سال عید الضحیٰ کےموقع پر اربوں روپے مالیت کے جانور قربان کیے جاتے ہیں۔امسال بھی پاکستان میں 1 کروڑ 5 لاکھ جانور قربان کئے جانے کی توقع ہے۔ ان جانوروں کی کھالیں بھی ثواب کی نیت سے لوگ مختلف امدادی تنظیموں، دینی مدارس اور یتیم خانوں کو دیتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند سالوں میں مختلف جہادی اور شدت پسند تنظیموں بھی کھالیں اکٹھی کرنے کے کام میں پیش پیش ہیں۔

index%d8%a8%da%be%d8%a6

134
عید کے موقع پر بکرے یا دنبے وغیرہ کی ایک کھال پندرہ سو سے تین ہزار روپے جبکہ گائے یا بیل وغیر کی فی کھال پانچ سے لے کر دس ہزار روپے تک فروخت کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قربانی کی کھالوں سے حاصل ہونے والی رقم کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے لئے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔

ادہر پنجاب حکومت نے عید الاضحی کے موقع پر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کالعدم اور نام بدل کر کھالیں جمع کرنے والی جماعتوں پر نظر رکھیں اور انہیں ہرگز کھالیں نہ دیں ۔
پنجاب حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہری ملک دوست تنظیموں اور جماعتوں کو کھالیں دیں اور انتہا پسند ، کالعدم اور فرقہ پرست جماعتوں کو کھالیں دینے سے گریز کیا جائے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کھالیں جمع کرنے کی شکایات پر کالعدم جماعتوں کے خلاف رینجرز کارروائی کریگی ۔

عیدالضحی کے موقع پر پاکستانی طالبان سمیت دوسری دہشت گرد تنظیمیں قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کر کے، ان سے حاصل کردہ رقم کو ،اپنی جہادی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ قربانی کی یہ کھالیں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کیلئے فنڈز کی فراہمی و دستیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہونگی۔ قربانی کی کھالیں جمع کرنے والوں میں پاکستانی طالبان ، جماعت الدعوة ، تحریک غلبہ اسلام، حرکت المجاہدین، انصار الامہ ،جیش محمد اور اہل سنت والجماعت جیسی کالعدم تنظیموں شامل ہیں جو کھالیں جمع کرنے کے بعد ٹینریز کو فروخت کر دیتی ہیں۔
مگر قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے الحاقی یا ذیلی گروہوں کے ذریعے یہ عمل سرانجام دیتی ہیں۔ جماعت الدعوة فنڈز جمع کرنے کیلئے فلاح انسانیت کی ڈھال استعمال کرتی ہے، جیش محمد الرحمت ٹرسٹ کے نام سے رسیدیں جاری کرتی ہے ، انصار الامہ الہلال ٹرسٹ کے نام سے کھالیں اکٹھی کرتی ہے جبکہ اہل سنت ال ایثار ویلفیئر ٹرسٹ کا نام استعمال کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ برس لگ بھگ دس ملین جانور قربان کئے گئے تھے اور ان کی کھالوں کی قیمت پاکستان روپے میں 35,000ملین بنتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گائے کی کھال کی قیمت 50ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر تیار کرتے ہیں کہ وہ جہاد کے فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کی کھالیں انہیں عطیہ کریں۔ یہ تنظیمیں پمفلٹ اور بینرز کے ساتھ ساتھ جمعہ کے اجتماعات میں بھی اپنی مہم چلاتے ہیں۔اور اکٹھا ہونے والا روپیہ پیسہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اور اپنی طاقت بڑہانے استعمال کرتی ہیں۔ اس پیسے کے بل بوتے پر دہشتگرد اسلحہ خریدتے ہیں اور پھر خودکش حملوں اور بم دہماکے کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم و بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ

کیا ہم دہشتگردوں کے ہاتھوں اپنے ملک کومکمل تباہ وبرباد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اس کوبچانا چاہتے ہیں؟

یقیننا تمام پاکستانی، اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتے ہیں۔ لہذا ہم سب کو چاہئیے کہ وہ اپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں دہشتگرد تنظیموں کو ہر گز ہر گز نہ دیں بلکہ یتم خانوں اور دوسرے مستحق اداروں اور خیراتی اداروں کو دیں اور وطن پاکستان کو دہشتگردوں سے بچانے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔
آپ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکس کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شعور بیدار کریں کہ قربانی کی کھالیں کہیں دہشت گردی کے لئے تو استعمال نہیں ہو رہی۔

Advertisements