مہمند ایجنسی کی مسجد میں’خودکش‘ دھماکہ، 28 ہلاک


news-1474044359-3692_large

مہمند ایجنسی کی مسجد میں’خودکش‘ دھماکہ، 28 ہلاک

 مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے مبینہ خودکش دھماکے میں اب تک 28 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہیں۔بعض زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہیں جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ جمعے کی دوپہر ڈیڑھ بجے نماز جمعہ کے دوران گل مسجد میں ہوا اور دھماکے کے وقت مسجد میں دو سو کے قریب نمازی موجود تھے۔

1615211_l
اپر مہمند ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد حسیب نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں بائیس لوگ ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ زخمی افراد کو باجوڑ، یکہ غنڈ اور پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق یہ دھماکہ خودکش تھا ان کے مطابق اس علاقے میں مواصلاتی نظام کی خرابی کے باعث معلومات مشکل سے پہنچ رہی ہیں تاہم ان کے مطابق مسجد کی عمارت گرنے کے بعد وہاں ریسکیو اپریشن جاری ہے ۔

607721-blast-1474181799-945-640x480

l_146692_081048_updates

160916115616_mohmand_blast__640x360__nocredit

بی بی سی اردو کےنامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کےمطابق کالعدم تنظیم جماعت احرار نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف حکومت کے حامی امن کمیٹی کے اراکان تھے۔
شدید زخمیوں میں سے سات کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیاگیا ہے جبکہ پینتیس زخمیوں کو باجوڑ کے ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔ جن میں ایک بچہ عارف گل ہسپتال میں ہلاک ہوگیا ہے۔ مقامی شخص شاکر کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد مسجد کا برآمدہ گرنے سے متعدد لوگ ملبے تلے دب گئے ہیں جس کے بعد خدشہ ظاہر کیاجا رہا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
دشوار گزار راستوں اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک شدگان اور زخمیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ نماز جمعہ کے دوران علاقے میں مساجد پر کسی قسم کی سکیورٹی تعینات نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ خودکش بمبار باآسانی مسجد میں داخل ہو سکا۔
خیال رہے کہ مہمند ایجنسی افغانستان سے متصل سرحدی علاقہ ہے اور ماضی میں یہ علاقہ شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے۔
فوجی آپریشن کے بعد یہ علاقہ شدت پسندوں سے خالی کروا لیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود علاقے میں باردوی سرنگوں کے دھماکوں میں ہلاکتوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
مہمند ایجنسی میں گذشتہ چند ہفتوں سے سکیورٹی اہلکاروں اور حکومت کے حامی قبائلی مشران اور سرداروں پر حملوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/09/160916_mohmand_blast_si

دہشتگردی اور بم دہماکے خلاف اسلام ہیں ۔بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے طالبان و مجلس احرارکے سفاک دہشت گرد اسلام کے کھلے دشمن ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے . طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔ مسجد پر دہشت گردوں کا حملہ اسلامی اور انسانی اقدار کیخلاف ہے۔ ظالم دہشتگردوں کو مسجد، جو اللہ کا گھر ہوتی ہے کی حرمت کا بھی خیال نہ ہے؟ طالبان کے ایک گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ یہ خودکش حملہ انہوں نے کیا ہے ۔ جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ امن لشکر کے لوگ اس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کررہے تھے اس لئے مسجد پر نماز کے دوران حملہ کیا گیا یہ وہ لوگ ہیں جوملک میں شرعی نظام رائج کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ پاکستان کو تباہ کرنے اوروہاں پر اسلامی امارت قائم کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں حالانکہ اسلام میں خودکشی حرام ہے اور خودکشی کرنے والا جہنمی ہے ۔
قران میں ارشادہے کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے ۔ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے ۔
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 114 )
مسجد اللہ کا گھر ہے ۔ مسجد میں اللہ ہی کی عبادت کی جاتی ہے ۔
اورمسجد کی اہمیت وخصوصیت کے بارے میں اللہ کے رسول فرماتے ہیں :
أحب البلاد إلى الله مساجدها
اللہ کو مسجدیں بہت زیادہ محبوب ہیں ۔
( مسلم ، کتاب المساجد ، باب فضل الجلوس فی مصلاہ بعد الصبح وفضل المساجد ، حدیث : 1560 )
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ {التوبہ18}
قرآن کریم میں مساجد کی تعمیر کو اہل ایمان کی صفت قرار دیا گیا ہے:
”انما یعمر مساجد اللّٰہ من آمن باللّٰہ و الیوم الآخر و اقام الصلوٰة و اتی الزکوٰة و لم یخش الا اللّٰہ… الخ۔“ (التوبہ:۱۸)
مساجد بنانے والے اور ان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے‘ نبی آخر الزمان‘کی ‘زبانی ”اللہ کے پڑوسی‘ اللہ کے اہل‘ اللہ کے عذاب کو روکنے کا سبب اور اللہ کے محبوب“ کا خطاب پانے والے ہیں۔
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے
مسجد کو شریعت میں اللہ تعالی کا گھر کہا گیا اور اسکی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ۔ دہشتگردوں کو چاہئیے کہ مساجد جو اسلام میں ایک تقدس کی جگہ ہے اس کو برباد نہ کریں۔
مساجد پر خود کش حملے ، مساجد کو نمازیوں سے خالی کرنے کی دہشتگردوں کی کھلی اور ناپاک سازش وشرارت ہے اور کوئی راسخ العقیدہ مسلمان اس طرح کی شیطانی حرکات کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاریخ میں صرف مسجد ضرار کی تباہی کا حکم خدا کی طرف سے آنحضرت صلعم کو آیا تھا ۔ مساجد اسلام کو زندہ و تابندہ رکھنے میں بڑی ممد و معاون ہیں اور مساجد کی تباہی جیسی غلیظ حرکتوں سے اسلام اور پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
طالبان کے دہشتگرد طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، مسلمانوں پر زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں ۔ دہشتگرد مسجدوں کی جو کہ اللہ کے گھر ہیں، بے حرمتی کر رہے ہیں۔
خودکش حملہ ہر حال میں حرام ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں واضح طور پر اسےمنع فرمایا ہے
۔ ارشاد ربانی ہے :
وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَةِج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَo
البقرة، 2 : 195
”اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہےo”
امام بغوی نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 30 کی تفسیر کے ذیل میں سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت نمبر 195 بیان کرکے لکھا ہے :
وقيل : أراد به قتل المسلم نفسه.
بغوی، معالم التنزيل، 1 : 418
”اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا خودکشی کرنا ہے۔”
ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ يَسِيْرًاo
النساء، 4 : 29، 30
”اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo”
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
رازی، التفسير الکبير، 10 : 57
”(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو)۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔”
مزید برآں امام بغوی نے ”معالم التنزیل (1 : 418)” میں، حافظ ابن کثیر نے ”تفسیر القرآن العظیم (1 : 481)” میں اور ثعالبی نے ”الجواھر الحسان فی تفسیر القرآن (3 : 293)” میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874
”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔”
یہ حکمِ نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خودکش حملوں (suicide attacks) اور بم دھماکوں (bomb blasts) کے ذریعے اپنی جان کے ساتھ دوسرے پرامن شہریوں کی قیمتی جانیں تلف کرنے کی اجازت دے! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں ‌دیا جاسکتا ۔
نظیم اتحادِ امت کے زیر اہتمام منعقدہ’’شیوخ الحدیث کانفرنس‘‘میں شریک دو سو شیوخ الحدیث والقرآن ،مفتیان کرام اورجید علماء نے اپنے اجتماعی شرعی اعلامیہ میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے دیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان اور اُن جیسی دوسری نام نہاد جہادی تنظیموں کا فلسفہ جہاد گمراہ کن، طرزِ عمل غیر اسلامی اور فہم اسلام ناقص اور جہالت پر مبنی ہے۔اِن تنظیموں کا طریقۂ جہاد اسلامی جہاد کی شرائط کے منافی ہے۔فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث عناصر فساد فی الارض کے مجرم ہیں۔ اسلام فرقے کے اختلاف کی بنیاد پر کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

Advertisements