داعش کا بچوں کو خودکش بمبار بنانا اور لڑنےکیلئے فوجی تربیت دینا


isis-children-2-v3

داعش کا بچوں کو خودکش بمبار بنانا اور لڑنےکیلئے فوجی تربیت دینا

(خلافت کے شیر کے بچےCubs of Caliphate  داعش کے نام نہاد  طویل المیعاد حکمت عملی کی پلاننگ کاحصہ ہےجس کی تحت ایک آئیڈیالوجیکل پاک فوج کی تشکیل کیا جاناہے۔ ہزاروں بچےجو عراق اور شام کے دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ حصوں میں رہتے ہیں ،داعش ان بچوں کو زبردستی اپنی فوج میں  بطور جنگجووں کی اگلی نسل کے طور پر،بھرتی کر رہا ہے ۔ داعش ہزاروں بچوں کو ،فائٹر بچے بنانے کے لئے اغوا کر رہی ہےجن کو حکم عدولی کی صورت میں کوڑے مارے جاتے ہیں، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،ریپ کیا جاتا ہے اور قتل کر دیا جاتا ہے۔

1446157203_3318_isisinafghanistanpromo-1024x576

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق موصل ،عراق سے 800 سے لیکر 900 بچوں کو ان کے خاندانوں سے لیکر زبردستی داعش کی فوج میں شامل کیا گیا۔ 18 بچوں کے ایک گروپ کو انبر صوبہ میں داعش کی فوج سے بھاگ جانے کی پاداش میں 14 اگست کو قتل کر دیا گیا۔ بچوں کو برین واش کر کے انہوں ان کے والدین کو قتل کرانے کے لئے کہا گیا۔داعش کی ایک ویڈیو میں، جو کہ موصل شہر میں ریکارڈ کی گئی، ایک ننھا بچہ ایک قیدی کو گولی مار کر ہلاک کرتا نظر آتا ہے۔ اس کی عمر 10 سال سے بھی کم نظر آتی ہے اور وہ داعش کی مخصوص فوجی وردی میں ملبوس ہے۔ داعش کا ایک جنگجو ننھے بچے کو پستول تھماتا ہے، جسے وہ قیدی کے سر کی جانب اٹھاتا ہے اور گولی چلادیتا ہے۔

v2-isis-children-1
خراسان گروپ جبر اور دباو ڈال کر بچوں کواپنی فوج شامل کرتے ہیں۔ عسکریت پسند اکثر زور اور زبردستی کرتے ہیں اور غریب والدین کو ڈرا دھمکا کر اپنے بچوں کو  داعش کے حوالے کرنے پر مجبور کرتے ہیں، یا اگر یہ حربہ کارگر ثابت نہیں ہوتا تو بچوں کو مختلف مقامات سے اغوا کرلیتے ہیں جو پھر ظلم و زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔داعش ،دنیا بھر میں بچوں کو مجبور کرتی ہے کہ بچے ،داعش کے لئے لڑیں اور خودکش دہماکے کریں۔داعش نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ نوجوان بچے رقعہ، شام میں مسلمان نوجوانوں کو ، جن کو داعش نے پکڑا ہوا تھا ،قتل کر رہے تھے ۔ان نوعمر بچوں کو سکول میں تعلیم حاصل کر رہا ہونا چاہئیے تھا,یا کھیل کود میں مصروف جبکہ ان نو عمروں کو زبردستی قتل کے لئے کہا گیا اور ان کی برین واشنگ کی گئی۔کیوں کوئی خوشدلی سے داعش کا ساتھ دے گا یا اس عفریت کی حمایت کرے گا؟ داعش کمزور ہے اور ان کو جلد شکست دے دی جائے گی۔

37_isistrainingkids
داعش معصوم بچوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ معصوم و بیگناہ لوگوں کے خلاف خودکش حملے کریں۔حال ہی میں، عراقی پولیس کے سپاہیوں نے ایک نو عمر بچے کو گرفتار کیا اور اس کی خودکش جیکٹ کو جو اس نے پہنی ہوئی تھی ،ناکارہ بنایا۔اس لڑکے کو کرکوک، عراق کی ایک مسجد میں بیجھا گیا تھا تاکہ وہ خودکش دہماکہ کرے اور نمازیوں کو دوران عبادت مارے۔داعش ایک برائی ہے اور ان میں عزت نام کی کوئی چیز نہ ہے۔وہ بزدل ہیں۔وہ بچوں کو اغوا کرتے ہیں تاکہ بچے ان کی جگہ لڑیں اور مریں اور خود نہ لڑنا چاہتے ہیں۔

Children-in-training-camp-belonging-to-ISIS.-Archival-photo.
داعش بچوں کو معصوم و بے گناہ مسلمانوں کے خلاف خودکش بم حملے کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔داعش نے ایک بچے کو خودکش جیکٹ پہنائی اور اس کو مجبور کیا کہ وہ غزانٹپ، ترکی میں مسلمانوں کو شادی کی ایک تقریب میں قتل کرے ۔اس نے 51 مسلمان جان بحق ہو گئے۔داعش آپ کے خاندانوں کو تباہ اور بچوں کو مار کر خوف و ہراس اور عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے۔داعش کو، آپ اپنے بچے نہ لے جانے اور ان کی منفی ذہن سازی ، کرنے دیں کیونکہ وہ لوگوں کو ایک برے مقصد کے لئے قتل کرنے کر سکیں۔

Daish-Killed-Children_s.jpg_11-1-2015_202714_l
داعش ہم پرایسے سخت طریقہ سے حکومت کرنا چاہتی ہے، جس میں ہماری روایات اور قبائل کے تانا بانا، کی کو ئی قدر نہ ہو ۔ وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہمارے خاندان اس جنریشن میں ہی ختم ہو جائیں۔ اپنے بچوں کو داعش سے متعلق تعلیم دیں تاکہ بچے داعش میں شامل نہ ہوں اور نہ ہی داعش کے لئے لڑنے کیلئےملک شام کا سفر کریں۔  داعش جنگ ہار رہی ہےاور جلد ہی اسے شکست ہو جائے گی۔
داعش ہمارے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کر کے اس پر حکومت کرنا چاہتی ہے۔ داعش کے بہت سارے لیڈران شام اور افغانستان میں مارے جا چکے ہیں اور داعش کو اپنے جنگجووں کو دینے کےل ئے اور نیا حملہ کرنے کےل ئے روپے پیسے نہ ہیں۔ چونکہ داعش کے پاس کوئی حکمت عملی نہ ہے لہذا انہوں نے ہمارے بچوں کو بطور سپاہی اور خودکش بمبار بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔د اعش گروپ کےساتھ یہ سوچ کر شامل نہ ہوں کہ آپ ایک پر تعیش زندگی گزاریں گے۔ اپنی قوم کو فروخت نہ کریں۔اگر ہمارا ملک کمزور ہو گیا اور ٹوٹ گیا تو ہم ہمیشہ کےلئے بیرونی امداد پر انحصار کر یں گے اور کبھی بھی اپنے پاوں پر کھڑے نہ ہو سکیں گے۔
خراسان گروپ و داعش کے لوگ نو عمر بچوں کو اغوا کر کے انہیں فوجی و خودکش بمبار بنا کر جنگ کا ایندھن بنا رہے ہیں۔
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں داعش کے دہشت گردوں کا افغانستانی و پاکستانی بچوں کو فوجی اور خودکش بمبار بنانے کی تربیت دینا ،ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور اس کی آیندہ نسلوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے، افغانستان و پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے ۔ افغانستان و پاکستان کےعوام دہشت گردوں کو اس مجرمانہ کاروائی پر انہیں کبھی معاف نہ کریں گے. دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کی اجازت نہیں دیتا  اور نہ ہی بچوؓ اور عورتوں پر جہاد ، اسلام کی رو سے واجب ہے۔

آجکل پاکستان میں بچوں اور بچیوں کے اغوا کے واقعات عام ہیں۔ یہ تمام بچے دہشتگرد اغوا کرتے ہیں اور بعد میں ان کو فوجی تربیت دے کر خودکش بمبار بنا کر جنگ میں دہکیل دیا جاتا ہے۔
اسلام نے بچوں کو بھی وہی مقام دیا ہے جو بنی نوع انسانیت کے دیگر طبقات کو حاصل ہے۔ رسول اکرم سلم نے بچوں کے ساتھ جو شفقت اور محبت پر مبنی سلوک اختیار فرمایا وہ معاشرے میں بچوں کے مقام و مرتبہ کا عکاس بھی ہے اور ہمارے لیے آئندہ کے لئے راہِ عمل اور سرمایہ افتخار بھی۔ اسلام میں بچوں کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کے حقوق کا آغاز ان کی پیدائش سے بھی پہلے کیا ہے۔ ان حقوق میں زندگی، وراثت، وصیت، وقف اور نفقہ کے حقوق شامل ہیں۔ دنیا کے کسی نظامِ قانون میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
سرزمین عرب پر بچوں کے قتل و خون کی جو ظالمانہ رسم رائج تھی’ اسے آپۖ نے ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ رسول اکرم سلم نے اپنی شفقت’ محبت اور انسیت جو آپۖ کو بچوں سے تھی اس کا اظہار کچھ اس طرح فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔”
رسول مقبول نے بچوں کو ”ہمارا” کہہ کر جس محبت’ شفقت اور انسیت کا اعلان کیا وہ معصوم بچوں کے مقام و مرتبہ اور ہمیت و افادیت کے تعین کے لیے مشعل راہ ہے۔ حضورۖ کو بچوں سے بڑی محبت تھی۔ بچے جہاں بھی ملتے آپۖ انہیں محبت سے گود میں اٹھا لیتے’ چومتے’ پیار کرتے اور ان سے کھیلتے۔ نیا پھل جب آپۖ کے پاس آتا تو سب سے کم عمر بچے کو جو اس وقت موجود ہوتا عطا فرماتے۔ راستے میں جو بچے مل جاتے تو خود ان کو سلام کرتے اور ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے۔
رسول اکرم سلم بچوں کے لئے دعا کیا کرتے تھے کہ االلہ میں ان سے محبت کرتا ہوںتو بھی ان سے محبت کر(بخاری)
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم سے بڑھ کر بچوں کےساتھ شفقت کرنے والا کوئی اور نہیں دیکھا۔
اِسلام سے پہلے لوگ اپنی اولاد کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے۔ اِسلام نے اِس قبیح رسم کا خاتمہ کرنے کی بنیاد ڈالی اور ایسا کرنے والوں کو عبرت ناک انجام کی وعید سنائی :
. قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَO
’’واقعی ایسے لوگ برباد ہو گئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بغیر علم (صحیح) کے (محض) بیوقوفی سے قتل کر ڈالا اور ان (چیزوں) کو جو اﷲ نے انہیں (روزی کے طور پر) بخشی تھیں اﷲ پر بہتان باندھتے ہوئے حرام کر ڈالا، بے شک وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت یافتہ نہ ہو سکےo‘‘
الانعام، 6 : 140
بھوک اور اَفلاس کے خدشہ سے اولاد کے قتل کی ممانعت کرتے ہوئے قرآن حکیم فرماتا ہے :
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ.
’’اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو، ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)۔‘‘
القرآن، الانعام، 6 : 151
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم إنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئاً كَبِيرًاO
’’اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہےo‘‘
بني اسرائيل، 17 : 31
اِسلام سے قبل بیٹیوں کی پیدائش نہایت برا اور قابل توہین سمجھا جاتا تھا اور انہیں زندہ درگور دفن کر دیا جاتا تھا۔ اِسلام نے اس خیالِ باطل کا ردّ کیا اور بیٹیوں کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا۔ قرآن حکیم ایک مقام پر روزِ محشر کی سختیاں اور مصائب کے بیان کے باب میں فرماتا ہے :
وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْO بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْO
’’اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گاo کہ وہ کس گناہ کے باعث قتل کی گئی تھی‘‘
التکوير، 81 : 8،
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بچوں کو قتل نہ کرو، ولید لغت میں مولود کے معنی میں ہے۔ یوں تو ہر انسان مولود ہے مگر عادتاً اس لفظ کا استعمال چھوٹے بچوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کی دلیل ہے کہ بچوں کا قتل جائز نہیں (خاص طور پر) جبکہ وہ قتال میں شریک ہی نہ ہوں۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔
”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔

Advertisements