حزب اسلامی اور افغان حکومت کے درمیان امن معاہدہ کے اثرات


hekmatyar-isil-isis

حزب اسلامی اور افغان حکومت کے درمیان امن معاہدہ کے اثرات

افغان حکومت اور حزب اسلامی میں امن معاہدہ طے پا گیا۔ افغان صدر اور عسکریت پسند تنظیم حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے گزشتہ روز ویڈیو لنک کے ذریعے اس پر دستخط کئے۔ اس موقع پر گلبدین حکمت یار نے بجا کہا کہ جنگ کا کسی کو فائدہ نہیں۔ امن ہونا چاہئیے طالبان حکومت ختم ہونے کے بعد سے افغانستان مسلسل خانہ جنگی اور بدامنی کا شکار ہے اور لاکھوں بے گناہ مرد ، عورتیں اور بچے اس خانہ جنگی کا شکار ہو چکے ہیں۔

99042308_in_this_undated_and_unknown_location_photo_the_new_leader_of_taliban_fighters_mullah_haibat-xlarge_transpka-2wszj_u_csrofjoaje0ppz6lu3uprsakghjqske
” حزب اسلامی افغانستان کے مشرق میں صوبہ ننگرھار ، کنڑ، نورستان ، لغمان اور شمال کے ساتھ مرکز میں کابل کے نواحی علاقے، خوست ، پکتیا، لوگر ،میدان وردگ ، غزنی ، کپیسااور ایسے علاقے کافی اثرورسوخ رکھتاہے جہاں پر پشتون آباد ہے ، ان علاقوں پر مرکزی حکومت کی عملدارہ یا توکمزور ہے اور یا وہاں پر جنگ جاری ہے۔

Face-covered militants who they say are Talibans, pose with RPG and AK47, in Zabul province, southern of Kabul, Afghanistan Saturday, Oct. 7, 2006. A Taliban commander said in a sit-down interview that insurgent fighters will battle "Christian" troops until they leave Afghanistan and a fundamentalist government is established in Kabul, warning that hundreds of militants are ready to launch suicide attacks to again install strict Islamic law. (AP Photo/Allauddin Khan)

taliban-fighters-in-afgha-001

حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدہ ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کی طرف ایک خوش آئند پیشرفت قرار دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ بعض حلقے اسے محض ایک علامتی معاہدہ قرار دے رہے ہیں تاہم اس کے باوجود اس سے افغانستان میں ایک اچھا تاثر ابھرے گا اور یہ دوسرے گروپوں کیلئے ایک ممکنہ مثال بھی بن سکتا ہے جو اسی طرح مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ طالبان میں کچھ لوگوں کو اپنی رائے تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے اور طالبان کے رینک میں امن سے متعلق ایک نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔
اب طالبان کے اُوپر بھی دباؤ بڑے گا کہ وہ امن مذاکرات کے لئے افغان حکومت کے ساتھ بیٹھ کربات چیت شروع کر یں۔ حزب اسلامی کی طرح اگر طالبان اور دوسرے عسکری گروپ جنگ اور قتل و غارت گری چھوڑ کر کابل حکومت اور عوام کے ساتھ مل کر امن کے کارواں کا حصہ بن جائیں  اور وہاں امن قائم ہو گا جس کی اس ملک کواس وقت اشد ضرورت ہے۔ دوسری طرف بدقسمتی سے طالبا ن نے مکمل طور امن مذاکرات کو مسترد کریا اور اپنے ایک مطالبے پر ڈٹے رہے کہ بیرونی افواج کے موجودگی میں مذاکرات نہیں ہو سکتے ہیں۔ طالبان نے اس معاہدی کی بھی مخالفت کی ہے۔ طالبان نے کہا کہ کہ حکمت یار پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا کیونکہ اس نے جہاد ترک کر دیا ہے اور یہ کہ حکمت یار نے ایک بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
اس معاہدے کے بعد بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے لئے مشکلات مزید بڑھیں گے کیونکہ پہلے افغانستان میں داعش ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا تھا اور اب حزب اسلامی کاحکومت کی ساتھ معاہدہ یہ ثابت کررہا ہے کہ طالبان اب مجبور ہوکر امن کا راستہ ڈھونڈٰیں گے ۔
حزب اسلامی کیساتھ معاہدہ افغان حکومت کے فائدے میں ہے کیونکہ اس وقت افغانستان مختلف مسائل کا شکار ہیں، جن میں امن اورمعیشت کے خراب صورتحال کے ساتھ کابینہ میں اختلافات شامل ہیں۔ ان مسائل کو کم کرنے میں یہ معاہدہ مدد گار ثابت ہوگا۔ تو اس معاہدے کے بعد جنگ میں کچھ کمی آجائیگی اور وہاں کے مقامی کمانڈر گلبدین کے حکم پاسداری کرئینگے”۔ ایک حد تک یہ بات درست ہے کہ حزب کے ساتھ وہ طاقت موجود نہیں ، لیکن افغانستان کے سیاست میں اُن کی حیثیت بہت اہم ہے۔
"افغانستان میں اب طالبان افغانیوں کے خلاف لڑارہے ہیں، کیونکہ بیرونی افوج اپنے خاص جگہوں تک محدود ہیں اور کاروائیوں میں بہت کم حصہ لے رہے ہیں، دوسری بات جو اہم بات ہے وہ یہ کہ خودطالبا ن اور افغان عوام اس سوچ پر مجبور ہو جائینگے کہ حزب اسلامی اور طالبا ن کا اہم مطالبہ مذاکرات کے لئے بیرونی افواج کا افغانستان سے انخلاتھا، چونکہ ایک لاکھ پچاس ہزار سے یہ تعداد اب پندرہ ہزار تک کم ہوگئی ہیں حزب اسلامی کے معاہدے کے بعد طالبان کیو ں نہیں مذاکرات شروع کر سکتے ؟ میرے خیال میں حالات بتا رہے ہیں کہ طالبان بھی مذاکرات شروع کرنے پر مجبور ہوجائینگے۔
اس معاہدے کےحوالے افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا تھا کہ دستخط ہو جانے کی صورت میں بھی اس معاہدے پر عمل درآمد کر نا آسان نہیں ہوگا۔رحیم اللہ کے بقول ماضی میں بھی معاہدے ہوئے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
افغان امور کے ماہر کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو افغان حکومت کے مخالف ایک مسلح گروہ پر امن ہو جائے گا جس سے حکومت مخالف مسلح کارروائیوں میں کچھ کمی آئے گی۔
رحیم اللہ یوسف زئی کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ حزبِ اسلامی کے جنگجوؤں کی تعداد بہت کم ہے لیکن اس معاہدے کی سیاسی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ ملک میں امن کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
افغانستان کے عوام، جو مسلسل جنگ سے تنگ آچکے ہیں کو توقع ہے کہ طالبان جو خود اسی ملک کے سے تعلق رکھتے ہیں، فہم و فراست، دور اندیشی سے کام لیں گے اور افغان امن کے عمل میں شامل ہو کرملک میں جاری خانہ جنگی ختم کرے میں ممد و معاون ثابت ہونگے اور قومی سیاسی دھارے میں شامل ہو کر افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کریں گے۔-

Advertisements