کوئٹہ میں تازہ دہشت گردی


2014102382057782734_20

کوئٹہ میں تازہ دہشت گردی

دہشتگردوں نے کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ پر نامعلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں نے بس نمبر سی ای 0015 پر اچانک اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں مریم زوجہ سلمان، خطامہ زوجہ محمد ندیم، مریم ولد علی خان سمیت4خواتین موقع پر جاں بحق ہوگئیں۔ نعشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر بولان میڈیکل ہسپتال پہنچادیا گیا۔ خواتین کی میتیں ہزارہ ٹاون کی مقامی امام بارگاہ منتقل کردی گئیں۔ پولیس نے بتایا جاں بحق ہونے والی خواتین کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے اور واقعہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کا نتیجہ لگتا ہے۔

57f3f0bbf3b96

57f3f0bc2afff

2-2-300x180

دہشتگردی کا یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کے نتیجے میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے جو عناصر غیرفعال ہوگئے تھے وہ ایک بار پھر سراٹھارہے ہیں۔
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بلوچستان کے ترجمان طارق احمد جعفری نے بس فائرنگ سانحہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا خواتین کی ٹارگٹ کلنگ انسانیت کی توہین اور درندگی ہے۔ انہوں نے کہا ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اقتصادی راہداری کا پورا روٹ دہشت گردوں کا خا ص نشانہ ہے۔ تحفظ عزاداری کونسل پاکستان کے چیئرمین رحیم جعفری نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ واقعہ بلوچستان کی روایات کے منافی اقدام ہے۔گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے واقعہ پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیرداخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے دہشت گرد شکست خوردہ ہونے کے بعدسوفٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنارہے ہیں خواتین کی ٹارگٹ کلنگ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے. وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا بے گناہ اور معصوم افراد اور خواتین کو گولیوں کا نشانہ بنانا انتہائی قابل نفرت فعل ہے وزیراعلیٰ نے پولیس حکام سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کوئٹہ واقعہ کی مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے افسوسناک واقعہ میں خواتین کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار ہمدردی اور تعزیت کا اظہارکیا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا خواتین پر حملہ انتہائی وحشیانہ اقدام ہے، حکومت دہشت گردوں اور منصوبہ سازوں کو فوری گرفتار کرے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی جامع اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے حالات کشیدہ ہیں اور 15 سالوں میں اقلیتی برادری کو نشانہ بنائے جانے کے ایک ہزار 400 سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں جن میں زیادہ تر حملے شیعہ مکتب سے تعلق رکھنے والے ہزارہ برادری کے خلاف ہوئے ہیں۔
چند سال پہلے تک کوئٹہ کی ہزارہ برادری مسلسل خوفناک بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے ۔ تاہم منگل کا واقعہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ دہشت گردوں نے خواتین کے کمپارٹمنٹ میں گھس کر فائرنگ کی اور حملے کا ہدف صرف خواتین کو بنایا گیا۔یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی دین کے نام پر فرقہ وارانہ منافرت اور جہاد کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دینے والی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ان رجحانات کے حامل افراد کا پاکستان دشمن قوتوں کی جانب سے بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا عین ممکن ہے۔
اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘
آل عمران، 3 :
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ.
’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔

اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔طالبان اور لشکر جھنگوی دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں.
کیا ہم ایک نبی اور ایک دین کو ماننے والےمسلمان نہیں ؟ آج مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی مسلمان ہیں۔ پھر بھی ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو رسول ہاشمی کی امت گردانتے ہیں ۔اور بعض اوقات ہم حیوانیت کے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ مسلمان اور انسان کہلانے پر شرم محسوس ہوتی ہے۔ فرقہ پرستوں کے ہاتھوں صرف شیعہ مسلمان ہی نہیں مارے جارہے بلکہ ان کے ہاتھ سنی مسلمانوں کے خون سے بھی رنگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے داخلی دفاع کو شدید نقصان، فرقہ واریت نے ہی پہنچایا ہے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت نے قومی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔.
اسلام میں دہشت گردی اور بم دہماکوں کی کوئی گنجائش نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔طالبان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے ۵۰،۰۰۰ سے زائد پاکستانی اپنی جان سے ہاتح دھو بیٹھے ہیں اور ملک کی اقٹصادیات کو زبردست نْقصان پہنچ چکا ہے۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. عورتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی ممنوع ہے۔
اس قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ محض قانونی کارروائی اور سزاؤں کے نفاذ سے ممکن نہیں۔ ایسے عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے ساتھ ساتھ دانشوروں اور علمائے کرام کے تعاون سے معاشرے میںدین کے نام پر پھیلائی جانے والی گمراہیوں کے ازالے اور اسلام کی حقیقی و اعلی تعلیمات کے فروغ کا اہتمام بھی پوری توانائی کے ساتھ کیا جائے۔

Advertisements