کابل میں مزار پر حملہ،14افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی


_91771706_f1f41539-6955-4ff2-b18f-ecb4f79929b2

کابل میں مزار پر حملہ،14افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کے مطابق ایک مزار پر عاشورہ محرم ، شیعہ اسلام کے مقدس ترین دن ، مسلح حملے میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔افغان دارالحکومت کابل کے کرتی سخی مزار میں مسلح افراد نے داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر سمیت 14 افراد زخمی اور 24 زخمی ہوگئے۔

index

An Afghan wounded woman receives a treatment after a militant attack on a Shiite shrine in Kabul, Afghanistan, Wednesday, Oct. 12, 2016. At least more than a dozen people were killed in the attack on a Shiite shrine in Kabul on Tuesday, an official said. (AP Photo/Rahmat Gul)

Afghan men carry the coffin of a relative who died in a militant attack at a Shiite shrine in Kabul, Afghanistan, Wednesday, Oct. 12, 2016. An Afghan official says several people including a policeman were killed after a militant attack on a Shiite shrine in the capital Kabul late Tuesday. Sediq Sediqqi, the interior ministry's spokesman said Wednesday that another 62 people, including 12 policemen were wounded in the attack. (AP Photos/Rahmat Gul)

Afghan men bury a victim of a militant attack at a Shiite shrine in Kabul, Afghanistan, Wednesday, Oct. 12, 2016. An Afghan official says several people including a policeman were killed after a militant attack on a Shiite shrine in the capital Kabul late Tuesday. Sediq Sediqqi, the interior ministry's spokesman said Wednesday that another 62 people, including 12 policemen were wounded in the attack. (AP Photos/Rahmat Gul)

Afghan men bury a victim of a militant attack at a Shiite shrine in Kabul, Afghanistan, Wednesday, Oct. 12, 2016. An Afghan official says at least 17 people including a policeman are dead after a militant attack on a Shiite shrine in the capital Kabul late Tuesday. Sediq Sediqqi, the interior ministry's spokesman said Wednesday that another 62 people, including 12 policemen were wounded in the attack. (AP Photos/Rahmat Gul)

وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق ایک حملہ آور کو مقابلے میں ہلاک کیا جاچکا ہے جب کہ دیگر کی تلاش کے لئے سیکیورٹی فورسز نے مزار کا محاصرہ کرتے ہوئے آپریشن شروع کردیا۔

Afghan men place flowers on the grave of victim who died a militant attack at a Shiite shrine in Kabul, Afghanistan, Wednesday, Oct. 12, 2016. An Afghan official says several people including a policeman are dead after a militant attack on a Shiite shrine in the capital Kabul late Tuesday. Sediq Sediqqi, the interior ministry's spokesman said Wednesday that another 62 people, including 12 policemen were wounded in the attack. (AP Photos/Rahmat Gul)

Afghan men carry the coffin of a relative who died in a militant attack at a Shiite shrine in Kabul, Afghanistan, Wednesday, Oct. 12, 2016. An Afghan official says several people including a policeman were killed after a militant attack on a Shiite shrine in the capital Kabul late Tuesday. Sediq Sediqqi, the interior ministry's spokesman said Wednesday that another 62 people, including 12 policemen were wounded in the attack. (AP Photos/Rahmat Gul)

Afghans pray during the funeral of victim who died in a militant attack at a Shiite shrine in Kabul, Afghanistan, Wednesday, Oct. 12, 2016. An Afghan official says several people including a policeman were killed after a militant attack on a Shiite shrine in the capital Kabul late Tuesday. Sediq Sediqqi, the interior ministry's spokesman said Wednesday that another 62 people, including 12 policemen were wounded in the attack. (AP Photos/Rahmat Gul)

24kabul03

afghan-jumbo
کابل پولیس چیف عبدالرحمان رحیمی کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد حملہ آوروں نے کرتی سخی مزار میں لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو بحفاظت نکال لیا جب کہ حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں13 شہری اور ایک پولیس افسر جاں بحق اور 3 اہلکاروں سمیت 24 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بھی 15 عورتیں ہیں۔

image_1476210069_43507063

_58b0269a-8fdc-11e6-957d-83f787ac5cdf
دوسری جانب کرتی سخی مزار پر حملے کی اب تک کسی گروپ کی جانب سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔ یوم عاشور کے موقع پر دارالحکومت کابل میں دہشت گردی کا خدشہ پہلے سے موجود تھا جس کے پیش نظر غیرملکی سفارتخانوں کے عملے کی نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔
لشکر خراسان  داعش نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘
آل عمران، 3 :
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ.
’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔
اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔

 خراسان  گروپ دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں.
کیا ہم ایک نبی اور ایک دین کو ماننے والےمسلمان نہیں ؟ آج مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی مسلمان ہیں۔ پھر بھی ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو رسول ہاشمی کی امت گردانتے ہیں ۔اور بعض اوقات ہم حیوانیت کے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ مسلمان اور انسان کہلانے پر شرم محسوس ہوتی ہے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔.
اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔  خراسان گروپ کے دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. عورتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی ممنوع ہے۔

Advertisements