بلخ کی شیعہ مسجد کے قریب دھماکا، 14 افراد ہلاک


balkh-embed_0

بلخ کی شیعہ مسجد کے قریب دھماکا، 14 افراد ہلاک

افغانستان کے شہر بلخ میں مسجد کے باہر کے گیٹ پر خودکش حملے کے نتیجے میں 14 معصوم اور بے گناہ افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوگئے ہیں۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے مزار شریف کے شہر بلخ میں مسجد کے باہر خود کش دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق اور 28 سے زائد زخمی ہوگئے۔

kabul-shrine_0

_57160315_013466331-1

خبر ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

624870-blast-1476299503-104-640x480

n00513030-b

topshot-afghanistan-unrest-shiites-ashura_c837b126-908c-11e6-ab84-dfe1f1607a79
صوبائی گورنر کے ترجمان منیر احمد فرہاد کا کہنا تھا کہ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے مگر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ حملہ بھی کابل حملہ کی طرح داعش خراسان گروپ نے کیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں افغانستان میں دوسرا خودکش حملہ ہے جب کہ گزشتہ روز بھی کابل میں مزار پر حملے میں 18 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔
اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔حقانی نیٹ ورک اورطالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں.
کیا ہم ایک نبی اور ایک دین کو ماننے والےمسلمان نہیں ؟ آج مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی مسلمان ہیں۔ پھر بھی ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو رسول ہاشمی کی امت گردانتے ہیں ۔اور بعض اوقات ہم حیوانیت کے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ مسلمان اور انسان کہلانے پر شرم محسوس ہوتی ہے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔
اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
د اعش دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. عورتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی ممنوع ہے۔
دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے اور افغانستان میں بھی وہ ہی حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جس طرح کے انہوں نے عراق اور شام میں پیدا کر رکھے ہیں۔۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں. داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔

Advertisements