آلو بخارا کے فوائد


bhgbn

آلو بخارا کے فوائد

آلو بخارا طبی اہمیت کا حامل پھل ہے اور اس کے انگنت طبی فوائد ہیں۔ بخار اور بیماری کے بعد ذائقہ کو تبدیل کرنے کیلئے آلو بخاراکا استعمال کیا جاتا ہے. مشہور و معروف مسلم اطباءابن بیطار نے جامع المفردات اور ابن ہبل نے کتاب المختارات میں آلو بخاراکے عربی نام اجاص کے عنوان سے فوائد تحریر کیے ہیں۔

index-jpgbhu

شیخ الرئیس بوعلی سینا‘ علامہ برہان الدین نفیس اور ملاسدیدی نے بھی اپنی اپنی تصانیف میں آلو بخارا کے استعمالات لکھے ہیں۔ سرد تر تاثیر کا حامل یہ پھل حقیقی طور پر ترش ہے مگر پختہ ہوکر جب اس کا رنگ سیاہی مائل ہوجائے تو شیریں ہوجاتا ہے۔ اس کے پودے کشمیر‘ ہمالیہ‘ پاکستان‘ افغانستان اور ایران میں بکثرت پائے جاتے ہیں جبکہ اس کا اصلی مسکن دمشق ہے۔ آلو بخارا پاکستان میں موسم گرما کے عوارضات اور حدت صفرا کیلئے بکثرت کھایا جانے والا پھل ہے جس کی خصوصیات کے بارے میں تحریر کی گئی طبی کتب سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت کاملہ نے صفراوی اور دموی امراض میں مبتلا افراد کیلئے اسے مخصوص طور پر تخلیق فرمایا ہے۔ اس میں دوائی اور غذائی دونوں قسم کی خصوصیات نمایاں ہیں۔

mnbv
اس پھل میں چکنائی، پروٹین ، وٹامنس اے، بی، سی،کے اور ای پائے جاتے ہیں علاوہ ازیں کیلشیم ،آئرن ،پوٹاشیم ،سوڈیم اور میگنیشم بکثرت پائے جاتے ہیں۔ آلو بخارا اینٹی آکسیڈنٹ کا حامل ہے یہ کینسر کے امکان کو ختم کرتا ہے۔ یہ جسمانی اور دماغی صحت کیلئے بھی بہتر ہے۔ یہ کولیسٹرال کی شرح کو کم کرتا ہے اور جگر کی صحت کیلئے اکسیر مانا جاتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ اس لئے بی پی کو کنٹرول بھی کرتا ہے۔

images-jpgnji

رگوں اور ہڈیوں کے امراض میں مفید مانا گیا ہے۔ بدہضی، قبض کی شکایت میں آلو بخار کا استعمال کرایا جاتا ہے جس کے حیرت انگریز نتائج برآمد ہوئے ہیں اس کا شربت، گرمی کے دانوں میں توانائی فراہم کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آلو بخارے کے استعمال سے خون کی کمی کی شکایت کافور ہوجاتی ہے اور یہ چھاتی کے کینسر سے بچاؤ میں معاون ہے۔ شوگر کے مریض بھی اسے ہچکچاہٹ کے بغیر کھا سکتے ہیں۔ آلو بخارے کا استعمال بالوں،جلد اور بینائی کیلئے بھی مفید ہے۔ گرمیوں میں آلو بخارے کا شربت نہ صرف تازہ دم کرتا ہے بلکہ توانائی بھی پہنچاتا ہے۔

images

nhnbh
کینسر ایک موذی مرض ہے اور اس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔کینسر میں کولون(آنت) کینسر ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے صرف امریکہ میں ہر سال 50ہزار افراد مر جاتے ہیں لیکن ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خشک آلوبخارے کے ذریعے اس مرض کا علاج کیا جاسکتا ہے۔میساچیوسز کی بائیولوجیکل کانفرنس میں ٹیکساس یونیورسٹی کی تحقیق کار پروفیسر نینسی ٹرنر نے بتایا ہے کہ خشک آلو بخارے میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے آنت میں ایسے جرثومے پیدا ہوتے ہیں کہ کینسر سے بچا جاسکتا ہے۔ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں بھی ایسی ہی باتیں سامنے آچکی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ ہمارے معدے میں اربوں طرح کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں اور ابھی تک سائنسدان صرف 400کا صحیح طریقے سے پتہ لگاسکے ہیں جس کی وجہ سے انہیں خشک آلو بخارے اور ان جرثوموں کے درمیان تعلق کے بارے میں جاننے کا موقع ملا ہے۔
خشک آلو بخارا اور کولون کینسر
یہ کینسر ہماری آنت میں ہونے والی سوزش سے پیدا ہوتا ہے اور اگر جرثوموں کو نقصان پہنچنے لگے تو یہ کینسر تیز ہوجاتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشک آلو بخارے کی وجہ سے ہمارے جسم میں ’فینولک‘کمپاﺅنڈبڑھتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے انٹی آکسیڈینٹس بنتے ہیں جو کولون کینسر کو کم کرتے ہیں۔سائنسدانوں کا کہناہے کہ آلو بخارا کھانے سے جسم میں ذیل تبدیلیاں آتی ہیں:
*آنت میں مائیکروبائیوٹاکی تعداد میں اضافہ جس کی وجہ سے کینسر کم ہوتا ہے۔
*ان جراثیم میں کمی جن کی وجہ سے کولون کینسر پیدا ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشک آلو بخارے کی وجہ سے کینسر کے خطرات نہ صرف کم ہوتے ہیں بلکہ کینسر کی صورت میں اس میں بہتری بھی آتی ہے۔

Advertisements