کوئٹہ: پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں 61 اہلکار ہلاک، 124 زخمی


216102500868

کوئٹہ: پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں 61 اہلکار ہلاک، 124 زخمی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع پولیس ٹریننگ کالج پر شدت پسندوں کے حملے میں پولیس کے 60 اور ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 120 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ کوئٹہ مسلسل دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔

index-jpgbhu

pakistan-ap

3ba0f7e7-42fa-4c57-8f15-abd1eb2704fd_w987_r1_s
حکام نے مطابق یہ حملہ پیر کی شب رات دس بجے کے قریب کیا گیا جب دو خودکش حملہ آوروں سمیت تین شدت پسندوں نے سریاب پولیس ٹریننگ سینٹر کو نشانہ بنایا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ روئٹرز کے مطابق دولتِ اسلامیہ کی خودساختہ اعماق نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے پولیس کے تربیتی مرکز پر حملہ اس کے تین جنگجوؤں نے کیا جن کی تصویر بھی اس بیان کے ساتھ جاری کی گئی ہے۔

pt1

pt2

_92076846_3dd1ea32-75a4-4c11-96e3-2da0dcf1e7f1
کوئٹہ میں حملے کے فوراً بعد آئی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن نے میڈیا کو بتایا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی سے ہے۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ دو ماہ قبل ایک پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کیا تھا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے پاکستان میں جگہ بنانے کی کوشش کی تھی اور ملک سے تنظیم کے خاتمے کا کام جاری ہے۔
کوئٹہ پولیس کے آپریشن روم سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ہلاک شدگان میں 60 پولیس اہلکار اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والا ایک فوجی افسر شامل ہیں۔

cvnfmqiwiaaqp6u-jpg-large

_92075980_1561d4d9-199d-4594-9911-0a91e82598d2

news-1477334997-2283
پولیس حکام نے زخمیوں کی تعداد 124 بتائی ہے جن میں ریسکیو آپریشن میں شامل چار فوجی اور دو ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے 20 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
بلوچستان کی حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ پولیس سینٹر پر حفاظتی انتظامات مثالی نہیں تھے۔
لوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے رات گئے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سب سے پہلا حملہ پولیس ٹریننگ سینٹر کے عقبی علاقے میں واقع واچ ٹاور پر کیا گیا جہاں موجود سنتری نے بھرپور مقابلہ کیا لیکن جب وہ مارا گیا تو حملہ آور دیوار پھلانگ کر کالج کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
حملے کے وقت ٹریننگ سینٹر سے باہر نکلنے والے ایک زیرِ تربیت اہلکار نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساڑھے نو سے دس بجے کے درمیان شدت پسندوں نے اندر داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حملے کی اطلاع ملتے ہی ایف سی، پولیس اور کمانڈوز کے دستے وہاں پہنچ گئے اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔
سکیورٹی فورسز کے مطابق اب تمام حملہ آور مارے جا چکے ہیں اور علاقے کو سرچ آپریشن کے بعد کلیئر کر دیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ حملہ آوروں میں سے دو نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ ایک کو سکیورٹی اہلکاروں نے مار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی چار گھنٹے میں مکمل کی گئی۔
آئی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن نے میڈیا کو بتایا کہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی سے تعلق رکھنے والے حملہ آوروں کو افغانستان سے ہدایات مل رہی تھیں۔
انھوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ ممکن ہے کہ کچھ پولیس اہلکار بھی حملہ آوروں سے ملے ہوئے ہوں۔
http://www.bbc.com/urdu/37758103

گزشتہ رات کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کے نتیجے میں 61 اہلکاروں کی شہادت پر وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ اس موقع پر صوبے میں تمام سرکاری عمارتوں اور دفاتر پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے بھی صوبے بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ دہشتگرد ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں. ان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
خوراسان گروپ ْ داعش کےدہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔ دہشتگرد ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا داعش دہشت گر دوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ مٹھی بھر دہشت گردوں کو ملک میں اب کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

Advertisements