لشکر جھنگوی العالمی اورداعش کا گٹھ جوڑ


5188dee1bd38d

لشکر جھنگوی العالمی اورداعش کا گٹھ جوڑ

لشکرجھنگوی العالمی کے ترجمان نے کہاہے کہ گروپ کے ایک دھڑے کے پاکستانی جنگجوﺅں نے کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملے میں داعش کی مدد کی ۔
رائٹرز کے مطابق دونوں تنظیموں کے درمیان رابطوں سے عراق اورشام میں سرگرم جنگجوگروپ داعش کی پاکستان میں موجودگی کے خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ پاکستانی حکام نے لشکر جھنگوی کے ایک گروہ العالمی کو مورد الزام ٹھہرایا۔

index

images

malik-ishaq

malik-ishaq-release-2011

اوراس سے پہلے سیکیورٹی حکام کی طرف سے دعویٰ کیاجاچکاہے کہ ملک میں قدم جمانے سے پہلے ہی داعش کا خاتمہ کردیاگیا اور گروپ کے وجود سے بھی انکار کیا جاتارہا۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ لشکر جھنگوی کی انتہا پسند سوچ داعش کے نظریات سے میل کھاتی ہے اور لشکر جھنگوی دہشتگردی کے عالمی عزائم رکھتی ہے اور موجودہ حملہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کےد اعش کےساتھ تعلقات بھی ہیں۔
لشکر جھنگوی العالمی کا قیام بنیادی طور پر فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث گروپ لشکری جھنگوی کے ٹوٹنے سے عمل میں آیا تھا۔ اس کے علاوہ ایشیئن ٹائیگرز، جنداللہ اور جند الحفصہ نامی دیگر ایسے گروپ تھے جنھوں نے لشکر جھنگوی سے جنم لیا تھا۔
لشکر جھنگوی خود بھی سنہ 1996 میں ایک دوسری فرقہ وارانہ تنظیم سپاہ صحابہ کی کوکھ سے پیدا ہوئی تھی اور کراچی سے لے کر قبائلی علاقوں تک فوجی آپریشن ضرب عضب سے قبل اپنا وجود رکھتی تھی۔ لشکر جھنگوی ایک دیو بندی عقائد رکھنے والا، فرقہ ورانہ ,سفاک ا ور بے رحم ,جہادی گروپ ہے، 1996 میں معرض وجود میں آیا۔لشکر جھنگوی ایک عرصہ سے شیعہ مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ حملے کرنے کی وجہ سے شہرت رکھتاہے اور اب تک ہزاروں اہل تشعیہ کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔ لشکر جھنگوی کو القائدہ کا فرقہ ورانہ چہرہ بھی کہا جاتا ہے ۔یہ گروپ جنوبی پنجاب سے اپنے کارکن بھرتی کرتا ہے مگر اب کچھ عرصہ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں مین منتقل ہو چکا ہے جہاں یہ القائدہ کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کرتا ہے۔ اس گروپ کا الحاق طالبان و القائدہ سے ہے اور لشکر جھنگوی شیعہ مسلمانوں کو کافر گردانتا ہے ۔یاد رہے کہ پاکستان میں لشکر جھنگوی کی سرگرمیوںپر 2001 میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ کچھ مبصرین سمجھتے ہیں کہ لشکر جھنگوی کا دوسرا نام ،پنجابی طالبان ہے جو جنوبی پنجاب میں سرگرم ہیں۔دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔
لشکرجھنگوی العالمی کے ترجمان علی بن سفیان نے رائٹرز کو بتایاکہ ’ہمارا داعش سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن ہم نے یہ حملہ مل کر کیا‘۔مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ’ہم اس شخص کی مدد کریں گے جو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کیخلاف کہے گااور اس کیلئے امداد قبول بھی کریں گے‘۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تین جنگجوﺅں کی تصاویر بھی جاری کی تھیں جبکہ اگست میں پاکستان نے العامی کے سربراہ سیدصفدر کی گرفتاری کیلئے معلومات دینے پر پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیاتھا ، انہیں یوسف خراسانی کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔
کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کیمپ پر حملہ جس میں 62کے قریب نوجوان کیڈٹس شہید ہوئےلشکر جھنگوی العالمی اور داعش کیطرف سے مشترکہ طور پر کیا جانیوالا سب سے بڑا دہشتگردحملہ ہے۔گروپ کےترجمان جس نے اپنا تعارف علی بن سفیان کے نام سے کرایا حملے کے بعد بتایا کہ’’ہم نے داعش کیساتھ ملکر یہ کارروائی کی‘‘ بظاہر لشکر جھنگوی العالمی کوئٹہ حملے میں بنیادی طو رپر ملوث ہے ۔ اگرچہ یہ گروپ خود کو لشکر جھنگوی العالمی کہتا ہے لیکن درحقیقت اس نے کالعدم لشکر جھنگوی کا خلا پر کیا ہے اور ایک نئے نام لشکر جھنگوی العالمی کے نام سے دوبارہ ابھری اورجنگجو گروپوں کیطرف سے مختلف ناموں کے ذریعے کام کرنےکارواج برقرار رکھ کرعوام اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیلئے بدستور خطرہ بنی ہوئی ہے۔داعش کا نیٹ والی تا حال خفیہ ہے ۔ محرم الحرام کے دوران واہ کینٹ میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کے حملے کے بعد راولپنڈی پولیس نے محکمہ داخلہ پنجاب اور قومی انسداد دہشتگردی اتھارٹی (نیکٹا) کو اس گروپ کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کی تھی یہ بات محکمے کے ذرائع نے بتائی ۔رواں ماہ محرم کے دوران اسی گروپ نے کوئٹہ، واہ کینٹ اور کراچی میں کم از کم 3دہشتگرد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی جس میں ایک اقلیتی فرقے کو نشانہ بنایا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو اپنے فعال ہونے کا واضح پیغام دیا۔ قبل ازیں لشکر جھنگوی ملک میں خطرناک ترین عسکریت پسند گروپوں میں سےایک تھاجو القاعدہ سے بھی منسلک رہاہے، لشکر جھنگوی ، القائدہ کا فرقہ ورانہ چہرہ کہلاتا تھا۔ پہلے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ سال29جولائی کو کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کے اس تنظیم کے 3دیگر رہنمائوں کیساتھ متنازع پولیس مقابلے میں مارے جانے کے بعد یہ گروپ ملک سے مکمل طورپر ختم ہو چکا ہے تاہم پولیس اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو اس وقت ہزہمت کا سامنا کرنا پڑا جب اس خطرناک تنظیم نے اپنی موجودگی ثابت کی اور صرف 17روز کے اندر پھر حملہ کر دیا۔ کالعدم لشکر جھنگوی نے16اگست 2015ء کو اٹک میں دہشتگرد کارروائی کر کے اس پولیس مقابلے کا بدلہ لیا جب انہوں نے ’’خود کش بمبار بھیج کر وزیر داخلہ پنجاب کرنل(ر) شجاع خانزادہ کو انکےشہراوررہائشگاہ کو نشانہ بنایا مذکورہ حملہ کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نے ایک اور عسکریت پسند تنظیم سے ملکر کیا۔ دہشتگردی کے حوالے سے آزادماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس تنظیم نے روایتی طور پر دوبارہ جنم لیاہے۔گزشتہ چند سالوں میں لشکر جھنگوی دو مرتبہ خود کو منظم کر کے نئی قیادت سامنے لائی ہے۔لشکر جھنگوی کے رہنمائوں بشمول اسکے بانی ریاض بسرا کو 2002ء میں ہلاک کئے جانے سے فرقہ وارانہ قتل و غارت میں معمولی وقفہ آیا لیکن 2004ء میں دہشتگردی کی ایک نئی لہر آئی جو2008میں اسکےرہنمائوں کےمارےجانےکےبعد تھمی،اسکےبعد 2010ء میں فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں میں ایک دم پھر تیزی آئی جب آصف چھوٹو اور نعیم بخاری سمیت نئی قیادت نے گروپ کی سربراہی سنبھالی یہ قیادت زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور ’’اے ٹو زی آف جہاد یزان پاکستان کے مصنف عامر رانا کاکہناہےکہ یہ اس گروپ کا دوبارہ جنم ہے اور اس سے فرقہ وارانہ تشدد کی نئی لہر آ سکتی ہے۔
لشکر جھنگوی العالمی اور داعش کے دہشت گرد ،مسلمانوں اور انسانیت کو ایک حقیقی خطرہ ہیں اور ان دونوں کا اتحادپاکستان کے لئے ایک بڑے خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے۔
فرقہ ورانہ تشدد پاکستان و افغانستان کے لئے زہر قاتل ہے۔ یہ لوگ بدامنی و فرقہ ورانہ تشدد کی آگ بھڑکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کے درپے ہیں۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲

Advertisements