افغانستان کےصوبہ فریاب میں سڑک کنارے بم دھماکے میں 11 شہری ہلاک


645699-afg-1478271966-899-640x480

افغانستان کےصوبہ فریاب میں سڑک کنارے بم دھماکے میں 11 شہری ہلاک

افغانستان کے صوبہ فریاب میں سڑک کنارے بم دھماکے کی زد میں باراتیوں کا قافلہ آنے سے خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبہ فریاب کے کوسہ قلعہ نامی گاؤں میں سڑک کنارے بم دھماکے کی زد میں شادی کا قافلہ آگیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

img20285468

7-killed-in-tank-blast-1433113434-9216-768x576

karachitrainaccident

خوشیاں مناتے ہوئے اپنے گھر جانے والا شادی کا قافلہ پل بھر میں چیخوں اور سسکیوں میں بدل گیا جب کہ دھماکے کے فوری بعد قریبی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب صوبائی پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے کی زد میں آنے والے تمام شادی کے قافلے کے لوگ تھے جنہیں ہدف بنا کر نشانہ نہیں بنایا گیا تاہم یہ تخریب کاری کا واقعہ ہے جب کہ اب تک کسی گروپ کی جانب سے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔ تاہم خیال رہے کہ صوبہ فاریاب کو افغان طالبان کا اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے اور یہ طالبان کی کاروائی ہے مگر سویلیں اموات کی وجہ سے ،طالبان ذمہ داری لینے سے گریزاں ہیں۔
دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.معصوم اور بے گناہوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔ عورتوں اور بچوں کو حالت جنگ میں بھی قتل نہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ جہاد نہ ہے اور ایسے جہاد کو جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ کہا جاتا ہے کیونکہ جہاد کرنا حکومت وقت اور ریاست کی ، نا کہ کسی گروہ یا جتھے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ مزید براں جہاد اللہ کی خاطر ، اللہ کی خوشنودی کے لئے کیا جاتا ہے۔
جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئےہوتا ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ طالبان اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں اور اپنا ہی ملک تباہ کر رہے ہیں۔بچوں اور عورتوں کا قتل اسلام میں جائز نہ ہے اور یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے۔
دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔

Advertisements