نِہاری،کل اورآج


l-bathak-com-1453390871

نِہاری،کل اورآج

یوں تو دہلی کے مغلئ کھانوں کا شمار دنیا کے بہترین کھانوں میں ہوتا ہے لیکن جو شہرت اور مقبولیت نہاری اور بریانی کے حصے میں آئ وہ کسی اور ڈش کا نصیب نہ بن سکی۔ نہاری آج بھی برصغیر میں بڑے ذوق و شوق سے بنائ اور کھائ جاتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دہلی کی جامع مسجد کے اطراف آج بھی کچھ ایسے ریسٹورنٹ یا بھْٹیار خانے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مغل دور سے پشت در پشت اس پیشے سے وابستہ ہیں ۔ بلکہ کچھ کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی نہاری مغل دور کی نہاری ہے کیونکہ وہ مغلیہ دور سے ہی دیگ میں ایک پیالہ نہاری بچا لیتے تھے اور اسکو دوسرے دن کے لئےتیار کی جانے والی تازہ نہاری کے بونگ والے گوشت و دیگر لوازمات میں شامل کر دیتے تھے اس طرح وہی مغلیہ دور کی نہاری بہرحال اب تک کی نہاری میں شامل چلی آرہی ہے۔ یہ مبالغہ آرائ ہی ہو سکتی ہے لیکن نہاری کے شوقینوں کے لئے ایک فینٹیسی کا درجہ ضرور رکھتی ہے۔

آج بھی کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں بے شمار نہاری ریسٹورنٹ ہیں جن میں سے کچھ تو اتنے مقبول ہیں کہ وہاں نہاری کھانے یا خریدنے کے لئے باقاعدہ لمبی قطار میں کھْڑا ہو کر انتظار کرنا پڑتا ہے
نہاری اٹھارویں صدی کے آخر کی ایجاد ہے۔ بہادر شاہ ظفر کے دور سے ہمیں اس کا ذکرملتا ہے۔کچھ مورخین کا خیال ہے کہ یہ مغل بادشاہ کےشاہی مطبخ میں ایجاد ہوئ اور کچھ کا خیال ہے کہ اودھ کے نوابوں نے اس کو رواج ديا – اکثر نوابان اودھ کا معمول تھا کہ نماز فجر ادا کر کے ہلکا پھلکا ناشتہ کر کے سو جاتے اور پھر ظہر تک سوتے رہتے۔۔ دوپہر کو شدید بھوک محسوس ہوتی تھی اور کمزوری بھی محسوس ہوتی تھی۔ لہٰزہ ایک ایسی ڈش ترتیب دی گئ جو نواب صاحب نہار منہ کھا کر سو جائیں تو دوپہر تک بھوک محسوس نہ ہو اور قویٰ مضمحل نہ ہوں۔ کھانے کے بعد بھاری پن نہ ہو ہاضم بھی رہے اس لئے اس کے اجزا ترکیبی میں خاص طور پر سونف اور سونٹھ شامل کی گئ۔ اس میں بکرے یا بھیڑ کى ران کے ادلےكا گوشت استعمال کیا جاتاتھا- نہاری پکانے کے لئےرات کو گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو مصالحوں کے ساتھ پانی کی مناسب مقدار شامل کرکے ایک زمین دوز دیگ میں ڈال دیا جاتا تھا۔ دیگ کے نیچے آگ جلانے کا انتظام ہوتا تھا۔ دیگ کے منہ پر ڈھکن رکھ کر اس کے چاروں طرف آٹا لگا کر ہوا بند کردیا جاتا تھا۔ آنچ اتنی مناسب رکھی جاتی تھی کی چھ سے آٹھ گھنٹے تک مستقل آگ جلتی رہے اور گوشت خوب اچھی طرح حلوان ہو جائے۔۔ صبح دیگ کھول کر اس میں آٹے کا آلن ڈال کر مزید پکایا جاتا تھا جس سے ایک گاڑھا شوربہ تیار ہو جاتا تھا۔ یوں صبح صبح تازہ گرما گرم اشتہا انگیز نہاری تیار ہوتی تھی کہ نواب صاحب تازہ تازہ نہاری گرما گرم نان کے ساتھ نوش فرما سکیں۔

بشکریہ)
http://nawadirat.blogspot.se/2016/01/blog-post_48.html

Advertisements