شاہ نورانی کے مزار میں خودکش دھماکا،62 افراد ہلاک،100سے زائد زخمی


_92414005_09c54e99-a6ee-4f34-8311-a2a7682f6cd9

شاہ نورانی کے مزار میں خودکش دھماکا،62 افراد ہلاک،100سے زائد زخمی

حب کے قریب درگاہ شاہ نورانی میں خود کش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 62 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ حکام کی جانب سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، خودکش دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ہفتہ کو دھماکا مغرب کے وقت اس وقت ہوا جب درگاہ کے احاطے میں دھمال ڈالی جا رہی تھی،دھماکے سے افراتفری مچ گئی اور ہر طرف خون اور انسانی اعضاء بکھر گئے ۔ ہفتے اور اتوار کو چھٹی کے باعث درگاہ میں سندھ ،بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے 600 سے زائد زائرین موجود تھے۔پاکستانی صوبہ بلوچستان میں شاہ بلال نورانی کے مزار پر گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔

news-1479022064-1054_large

a63e6d86d9abb2d492cb3f64b65133f8_l
پولیس کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع درگاہ شاہ نورانی میں خود کش دھماکے میں جاں بحق کی تعداد 62 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ درگاہ شاہ نورانی میں ہفتے کے روز شام کے اوقات میں دھمال کا آغاز ہوتا ہے، جس میں سیکڑوں افراد شرکت کرتے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت درگاہ کا احاطہ کھچا کھچ لوگوں سے بھرا ہوا تھا، جہاں دور دور سے لوگ حاضری کیلئے آئے ہوئے تھے۔ دھماکا اس جگہ ہوا جہاں دھمال اور رقص جاری تھا۔ عقیدت مندوں کی بڑی تعداد یہاں سالہا سال حاضری کیلئے موجود رہتی ہے۔

vgyhb

36374447_401

_92414064_669068d5-5bc8-419a-879c-0874bbd211c3

_92414067_31ea3622-1e8e-4401-b1d7-143a8e8d2932

36374405_303

ڈسٹرکٹ اسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں جاں بحق و زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیراعظم کا مذمتی بیان میں کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمے داروں کو کٹہرے میں لایا جائے،انھوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

dargah-shah-noorani
پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہلاک شدگان کے ورثا کے لیے پانچ، پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ شدید زخمی ہونے والوں کو دو لاکھ اور معمولی زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔
شاہ نورانی کا علاقہ خضدار سینٹر سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جس کی وجہ سے رابطے کی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اندھیرا ہونے کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔شاہ نورانی انتظامی طور پر ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کا حصہ ہے۔ شاہ نورانی میں سید بلاول شاہ نورانی کا مزارہے جہاں ہر وقت کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں سے زائرین کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔کراچی سے دو سو کلومیٹر دور پہاڑی کے دامن میں واقع شاہ نورانی کا مزار صدیوں سے مرجع خلائق ہے۔ ایسی پرامن جگہ اور اس کے معصوم زائرین کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنانا یقینا ایک انسانیت سوزاور سنگ دلانہ فعل ہے۔ داعش پاکستان اور افغانستان میں بھی اپنی قتل و غارتگری کی تاریخ دہرانا چاہتی ،جس کی داعش کو اجازت نہ دی جائے گی۔
اس سانحے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے‘ بزرگان دین کے مزارات زائرین کے لیے روحانی سکون اور قلبی تسکین کا باعث ہوتے ہیں‘ان کی کسی سے بھلا کیا دشمنی، دہشت گردوں نے بے گناہ زائرین کو نشانہ بنا کر سفاکیت کا ثبوت دیا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچستان میں پولیس کے ٹریننگ سینٹر پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کیا‘ اس سے پیشتر وکلاء کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا‘ پے در پے رونما ہونے والے ان واقعات سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ دہشت گردوں نے بلوچستان کو اپنی آماجگاہ بنا لیا اور جب بھی انھیں موقع ملتا ہے وہ اپنی کارروائی کر ڈالتے ہیں۔ بزرگان دین کے مزارات چونکہ آسان ہدف ہوتے ہیں اس لیے دہشت گرد انھیں نشانہ بنا لیتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ سیرت و کردار کے زور سے پھیلا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرا اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے سر ہے اور اس خطہ میں ان نفوس قدسیہ کا وجود اﷲ کریم کا بہت بڑا انعام ہے۔ جو کام غازیان اسلام کی شمشیر اَبدادر ارباب ظواہر کی علمیت سے نہ ہو سکا وہ خدا وند تعالیٰ کے ان مقبول و برگزیدہ بندوں نے بخوبی اپنے اعلی سیرت و کردار سے سرانجام دیا۔ انہوں نے شبانہ روز محنت اور اخلاق حسنہ سے بر صغیر پاکستان و ہندوستان کو نور اسلام سے منور کیا اور اسلام کے ننھے منے پودے کو سر سبز و شاداب اور قد آور درخت بنا دیا۔ ہمارے اسلاف اور اولیائے کرام نے مکالمہ کے ذریعے لوگوں کو پرامن رکھا اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریات اور افکار مسلط نہیں کئے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے لیکر حضرت معین الدین چشتی اور سید علی ہجویری تک کسی ایک نے بھی کبھی مزار پرستی کی تعلیم نہیں دی ۔تصوف کا مقصد تو روحانی اصلاح ہوا کرتا ہے۔
ملک میں دہشت گردی کی لہر نے اب ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے۔ پہلے بازاروں ، سرکاری دفاتر ، مساجد پر بم دھماکے ہوتے تھے اب کچھ عرصے سے اولیا اکرام اور بزرگان دین کے مزاروں پر بم دھماکوں کو سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جس سے عوام کی بےچینی اور خوف ہراس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مزاروں پر ہونے والے ان بم دھماکوں کے باعث عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کون سی ایسی جگہ ہے جو دہشت گردی سے محفوظ ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مساجد،عبادت گاہوں،نماز عید کے اجتماعات،قبائلی جرگوں،زيارت گاہوں حتٰی پبلک مقامات پر دھماکے اور حملے کئے ہیں۔یہ دھماکوں کے ذریعے ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں،لیکن اس طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں سے حکومتیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔یہ بات یہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ دہشت گردوں نے 36مزارات کو خودکش حملوں اور دھماکوں کا نشانہ بنایا اور چھ دربار صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور 200 علماء و مشائخ نے شہادت پائی۔ صوفیائے کرام کی تعلیمات امن کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔
پتہ نہیں ان داعش کےدہشت گردوں کو ان اولیا اکرام اور بزرگان دین سے کیا چڑ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں دہشت گردوں نے صوفیاء کرام کے آٹھ مزاروں کو اپنےحملوں کا نشانہ بنایا جن میں لاتعداد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ صوفیاء کرام کے مزارات اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے والے عسکریت پسندوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔
اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا داعش کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ جنگ میں طاقت کااستعمال ان لوگوں تک محدود ہونا چاہیے جو میدانِ جنگ میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہوں۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ اور نہ ہی عورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندھن بنایا جا سکتا ہے. بے گناہ لوگوں کا قتل فسادفی الارض اور اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام اورپاکستان سے کھلی بغاوت ہے. در حقیقت صوفیائے کرام کی تعلیمات تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ ہم سب لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔

داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل
اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔
جماعت اہلسنّت اور سنی اتحاد کونسل کے مفتیان کرام نے سانحہ درگاہ شاہ نورانی کے تناظر میں جاری کئے گئے اجتماعی شرعی اعلامیہ میں کہا ہے کہ خود کش حملے خلاف اسلام اور حرام ہیں، اسلام انسانی جان کی حرمت کا علمبردا ر اور قتل ناحق کا سب سے بڑا مخالف ہے، اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔ خود کش حملوں کے حرام ہونے پر پوری قوم متحد اور متفق ہے۔اسلام کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے اسلام کے باغی ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں دہشتگردی کی ہر شکل کو فساد فی لارض قرار دیا ہے۔ درگاہ شاہ نورانی پر خودکش دھماکہ کرنے والوں نے اللہ کے عذاب کو دعوت دی ہے۔ جن مفتیان کرام اور علماءنے شرعی اعلامیہ جاری کیا ہے ان میں علامہ پیر سید مظہرسعید کاظمی، علامہ سید ریاض حسین شاہ ، علامہ محمد اکرم شاہ جمالی، علامہ سید شمس الدین بخاری، سید شاہ عبد الحق قادری، مفتی محمد فضل جمیل رضوی اور دیگر شامل ہیں۔
حکومت کا فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سول اداروں کو متحرک کرے وہاں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں اور عوام میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے شعور پیدا کریں‘ اس سلسلے میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Advertisements