فلوجہ کے قریب شادی کی تقریب میں خودکش حملہ، 40باراتی جاں بحق ، 60زخمی


news-1479443613-2498_large

 

فلوجہ کے قریب شادی کی تقریب میں خودکش حملہ، 40باراتی جاں بحق ، 60زخمی

عراقی دارالحکومت بغداد کے قریب شادی کی تقریب میں خودکش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چالیس افراد جاں بحق اور 60سے زائد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق عراق کے شہر فلوجہ کے قصبے میں ہونے والی شادی کی تقریب میں دہشت گرد تنظیم کے خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 40افراد ہلاک اور 60سے زائد زخمی ہوگئے۔

news-1479443142-6051_large

_92494315__92493122_4a5e6a6e-60e9-43d7-a32b-64aa76d443a4

خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری کار مجمعے میں گھسا دی جس کے بعد دھماکا ہو گیا ۔
کالعد م تظیم داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس نے فلوجہ کے قصبے میں شادی کی تقریب میں مقامی سنی مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔
http://dailypakistan.com.pk/international/18-Nov-2016/479783

2e22b5affc174a5ea4f34b18e0676647_18

fb34a2beae084cd388f1b26ffa001218_18
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. اسلام میں نان حربی لوگوں، عورتوں اور بچوں کے قتل کی اجازت نہ ہے۔
داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے اور اس نے عراق و شام میںبے گناہ اور معصوم مسلمانوں کی قتل و غارتگری کا بازار گرم کیا ہے۔
داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔

Advertisements