اباخیل گرلز اسکول کے باہر بم پھٹنے سےایک بچی جاں بحق،3 زخمی


584e6264732c3

اباخیل گرلز اسکول کے باہر بم پھٹنے سےایک بچی جاں بحق،3 زخمی

وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے فاٹا کی شمالی وزیرستان ایجنسی میں گرلز اسکول کے گیٹ کے قریب بارودی مواد پھٹنے سے ایک بچی جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکا خیز مواد شمالی وزیرستان کی تحصیل اسپن وام میں اباخیل گرلز اسکول کے گیٹ کے باہر نصب کیا گیا تھا۔

imagesdabedaafd8aa

terrorists

primary-school
ذرائع کے مطابق 12 ربیع الاول کےموقع پر عام تعطیل کی وجہ سے اسکول بند تھا، تاہم بچیاں وہاں کھیلنے جارہی تھیں کہ اچانک گیٹ کے باہر نصب بم پھٹ گیا۔دھماکے کے نتیجے میں ایک بچی جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئیں، جنھیں طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

bombed1
گذشتہ ماہ کے آخر میں بھی شدت پسندوں نے مہمند ایجنسی میں ایک سرکاری اسکول کو بارودی مواد سے اڑا دیا تھا۔یاد رہے کہ فاٹا میں سب سے زیادہ اسکول مہمند ایجنسی میں تباہ کیے گئے، جن کی تعداد 127 ہے اور جس میں سب سے زیادہ 64 اسکول تحصیل صافی میں تباہ ہوئے۔شدت پسند عناصر نے کئی سال پہلے مہمند ایجنسی کے واحد ڈگری کالج کو بھی تباہ کردیا تھا جس کے بعد آج تک وہاں تدریسی عمل شروع نہ ہوسکا۔
http://www.dawnnews.tv/news/1048508

oreopen_p1_full_380
طالبان نہایت بے دردی کے ساتھسکولوں کو جو کہ قومی دولت کو تباہ کر رہے ہیں ۔ دہشتگردوں کی سکول دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہ ہے۔ قرآنی احکامات کی صریح اور کھلی خلاف ورزی کر کے بھی یہ نام نہاد طالبان کے دہشتگرد اسلام اور شریعت کا ڈھول پیٹ رہے ہیں. اُن کی جہالت کا سب سے بڑا شاہکار بچوں کے سکولوں کا نذرِ آتش کرنا اور طالبعلموں کا قتل ہے۔ مذہبی جنونیوں و دہشت گردوں کا سکول پر حملہ کرنا نہایت قبیح اور قابل مذمت کاروائی ہے۔ سکول ایک قومی دولت ہیں جہاں اس ملک کے بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر آئندہ ملک و قوم کی خدمت کر تے ہیں۔ تعلیم ایک ایسی بنیاد اور ستون ہے جس پر ملک کی سلامتی کا تمام دارومدار و انحصار ہے. پاکستان میں پہلے ہی ۲۵ ملین بچے اور بچیاں حصول تعلیم کی نعمتوں سے محروم ہیں اور طالبان سکولوں کو تباہ کرکے اور اساتذہ کو قتل کر کے اس محرومی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
ا ن دہشت گردوں کا سکولوں کی تباہی اور سکول دشمنی کا رویہ بتاتا ہے کہ وہ جاہلان ہیں. سکول دشمنی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسلام اور پاکستان دونوں کے مخلص نہیں اور نہ ہی ان کو پاکستانی عوام میں دلچسپی ہے بلکہ یہ تو اسلام ،پاکستان اور عوام کے دشمن ہیں کیونکہ یہ ہمیں ترقی کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے۔ سکولوں کو جلانے اور طالب علموںپر حملوں کے معاملہ میں دہشتگردوں کی سرگرمیاں اسلام کے سراسر خلاف ہیں لہذا ہمیں نہیں چاہئے طالبان کا اسلام جس کی تشریح تنگ نظری پر مبنی ہو اور نہ ہی ہم دہشت گردوں کو اس امر کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنا تنگ نظری والا اسلام ، پاکستان پر مسلط کریں۔
غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ان سکولوں کی تباہی سے کوئی سات لاکھ سے زیادہ بچوں کا تعلیمی سلسلہ بڑی طرح متاثر ہوا ہے۔ ان دھماکوں کی وجہ سے سینکڑوں طلبہ تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں سرکاری سکول اور نجی تعلیمی ادارے حملوں کے خوف کے باعث بند پڑے ہیں۔ سکولوں کی تباہی کی وجہ سے ان قبائلیوں کے آنے والی نسلوں کو تعیلم کی سہولت حاصل نہیں ہے۔
بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. طالبعلموںاور اساتذہ اور مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرنا دہشت گردی اورخلاف شریعہ ہے اورہرگز جہاد نہ ہے۔

Advertisements