داعش نے لڑکیوں کا ا سکول نذر آتش کر دیا


4bkccd4eda1c23jkf4_800c450

داعش نے لڑکیوں کا ا سکول نذر آتش کر دیا

داعش سے وابستہ مسلح افراد نے افغانستان کے صوبے لوگر میں واقع ایک لڑکیوں کے اسکول کو نذر آتش کردیا ہے۔ تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، داعش دہشت گرد ٹولے سے وابستہ ایک گروہ نے افغانستان کے صوبہ لوگر میں واقع لڑکیوں کے ایک بڑے اسکول کو جلا دیا ہے۔

girls_pupils

مشرقی افغانستان میں دہشت گرد گروہ داعش نے لڑکیوں کے ایک اسکول کو نذر آتش کر دیا ہے۔ افغان حکام کے مطابق دہشت گرد گروہ داعش نے صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغا میں دس کلاسوں پر مشتمل لڑکیوں کے ایک سکول کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں درسی کتب، لیبارٹری اور دفتری سامان جل کا راکھ ہو گیا۔ مذکورہ سکول میں ساڑھے پانچ سو لڑکیاں زیرتعلیم تھیں۔

4bka4ed2b1abbef49p_800c450

اس سے پہلے افغانستان کے طالبان بھی، لڑکیوں کے سکولوں کو نذر آتش کرتے رہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں سولہ ہزار سکولوں میں تقریبا نو ملین افغان بچے زیرتعلیم ہیں جبکہ اس ملک میں جاری بدامنی افغان بچوں کی تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ افغان وزارت تعلیم نے حملہ آوروں کو تعلیم دشمن عناصر قرار دیتے ہوئے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔

%d8%a2%d8%aa%d8%b4-%d8%b2%d8%af%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d8%a8-%d8%af%d8%b1-%d9%84%d9%88%da%af%d8%b1

افغانستان کی آبادی تقریباً 3 کروڑ افراد پر مشتمل ہے اور  افغان  وزارت تعلیم کے مطابق، ملک میں ایک کروڑ افغان شہری تعلیم کی نعمتوں  سے محروم ہیں ۔ افغانستان کے 14 ہزار اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں 83 لاکھ کے قریب طلباء زیر تعلیم ہیں جن میں سے 39 فی صد لڑکیاں ہیں۔ افغانستان میں مردوں میں خواندگی کی شرح 43.1 فی صد ہے جبکہ عورتوں کی شرح خواندگی 12.6 فی صد ہے  ۔ افغانستان میں حالیہ تشدد  اور دہشت گردانہ حملوں کی لہر کے بعد ۵۰۰ سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے اور  ۳۰،۰۰۰ سے زیادہ طالبعلموں کو سکول بند ہونے کی وجہ سے گھروں میں ٹھرنا پڑا ہے۔مذہبی علماء نے اسکولوں کو نذر آتش کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کابل کے ایک مذہبی عالم ولی محمد نے کہا کہ کسی اسکول کو نذر آتش کرنا غیر اسلامی اور غیر انسانی فعل ہے۔ اسکولوں کو نذر آتش کرنے والے افغانستان اور اس کے مستقبل کے دشمن ہیں۔

داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل  اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔  داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔

افغانستان میں اب تک عسکریت پسندوں نے تعلیمی اداروں پر جو حملے کیے ہیں ان کے نتیجے میں بہت سے اسکول جلائے جا چکے ہیں۔ کئی واقعات میں شدت پسندوں نے اسکولوں میں پینے کے پانی میں زہر بھی ملا دیا۔ اس طرح زہر ملا پانی پینے کے بعد سینکڑوں بچوں کو علاج کے لیے ہسپتالوں میں بھی داخل کرانا پڑا۔ عسکریت پسندوں نے تعلیمی اداروں کو بند کروانے کے لیے بہت سے اساتذہ پر حملے بھی کیے۔

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اعتراف ازل سے ہر مہذّب معاشرہ کرتا آیا ہے اور ابد تک کرتا  رہے گا۔  21صدی میں تعلیم کی اہمیت پہلے کی نسبت زیادہ تسلیم  کی جا رہی ہے۔ آج کی زندگی میں تعلیم سب سے زیادہ  اہم اقتصادی مسئلہ ہے۔ آج کے ترقیاتی دور میں تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے ۔ تعلیم انسان کو اپنی صلاحیت پہچانے اور ان کی بہترسے بہتر تربیت کرنے میں معاون ثابت و مدد گار ہوتی ہے یقیناً تعلیم یافتہ لوگ ہی ایک بہتر سماج اور ایک ترقی یافتہ ملک و قوم کی تعمیر کرتے ہیں۔

                  قوموں کے عروج و  زوال کی کہانی میں تعلیم کا کردار  بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جس قوم نے اس میدان میں  عروج  حاصل کیا، باقی  دنیااس قوم  کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی گئی ۔ قران کا پہلا لفظ ہی اقرا تھا۔اور یہ  ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس میدان میں اپنے قدم جمائے رکھے دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ اور جیسے جیسے ’اقراء‘ کا درس ان کے ذہنوں سے محو  ہوا ،غلامی  نے اپنا گیراتنگ  کر دیا۔ انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف علم و آگہی کی بدولت حاصل ہے۔ دین و دنیا کی تمام تر ترقیاں اور بلندیاں علم ہی کے دم سے ہیں۔ اس لئے اسلام نے سب سے زیادہ زور علم حاصل کرنے پر دیا ہے۔علم حاصل کرنے کے لئے پیدائش سے لحد تک وقت کی کوئی قید نہیں۔ صرف عزم و ہمت اور جہد مسلسل کامیابی و کامرانی کا واحد  راستہ ہے۔

 

 

Advertisements