حقانی نیٹ ورک، ایک منظم دہشتگرد گروہ


image_1483876009_63380525

حقانی نیٹ ورک، ایک منظم دہشتگرد  گروہ

حقانی نیٹ ورک کے دو سینئر کمانڈرز جن کے نام عمران خان المعروف ڈاکٹر ذکریا اور شاہین،  ناصافی گاوں ،لال پور ڈسٹرکٹ ،ایسٹرن ننگرہار صوبہ میں ایک آپریشن کے دوران، افغان نیشنل پولیس،سپیشل فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سربلند اور ضیا رحمن ،دو دہشتگردوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور ان کے قبضہ سے 11 ہینڈ گرنیڈ اور کچھ ہتھیار برآمد کر لئے گئے ہیں۔ان سنئیر حقانی کمانڈرز کا افغانستان میں دہشتگردانہ حملوں اور خودکش حملوں کو منظم کرنے میں کلیدی کرداررہا ہے۔

حقانی نیٹ ورک ایک موثر اور فعال دہشتگرد گروہ ہے جو کہ پاکستان و افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم  ہے اوریہ پاکستان اور افغانستان کے لئے ایک صاف،واضع اور موجودہ خطرہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک نےحکومت،افغانستان کے عوام کے خلاف مسلسل ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں مسلسل دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے حقانی نیٹ ورک ، پشتون ولی کے اصولوں سے قصدا روگردانی کرتا ہے ۔ کابل میں ہونے والے اکثر دہماکوں کے ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کے لوگ ہیں جو ملک میں خودکش حملوں کے ذریعہ بد امنی اور تشدد پھیلا رہے ہیں اور پر امن شہریوں، بچوں اور عورتوں کی  ناحق اموات کے ذمہ دار ہیں۔ ملک میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں تاکہ  لوگوں کا اٖفغان حکو مت میں بھروسہ و اعتماد کو ختم کیا جا ئے۔

حقانی نیٹ ورک , جنوبی ایشیا اور دنیا کیلئے مسلسل خطرہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں شدت پسندوں کے مضبوط مرکز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔سراج الدین حقانی،حقانی نیٹ ورک کا کرتا دھرتا اور انچارج ہے اور خلیفہ کہلاتا ہے۔حقانی نیٹ ، دہشتگردوں کا سب سے مضبوط گروپ تصور کیا جا تا جن کے پاس ٹرینڈ جنگجو ہیں اور مشرقی افغانستان میں زیادہ تر حملوں میں ملوث ہیں۔

حقانی نیٹ ورک پکتیا،پکتیکا،خوست غزنی، وردک اور صوبہ کابل کے علاقوں میں خاصا متحرک ہے۔حقانیوں کا تعلق زدران قبیلہ سے ہےجو کہ زیادہ تر پکتیا اور خوست صوبہ میں رہتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں حقانی مدرسہ منبہ العلوم بھی چلاتے تھے مگر اب کرم ایجنسی میں منتقل ہو چکے ہیں۔حقانیوں کے بن لادن اور القائدہ کےساتھ بڑے قریبی تعلقات تھے۔
حقانی نیٹ ورک، پاکستان کے علاوہ افغانستان میں اس علاقے پر کاروائیاں کرتےہے جسے”خوست کا پیالہ” کہا جاتا ہے اور جس میں پکتیکا، پکتیا اور خوست شامل ہیں۔حقانی پاکستان میں مہمان بن کر آئے اور مالک بن کر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ میں قبائلی عمائدین کو قتل کر اکے قبائلی معاشرہ کی ساخت کو کمزور کر رہے ہیں اور قبائلیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں، اپنے ایجنڈا کی تکمیل کے لئے افغانستان میں یہ بے گناہ اور معصوم لوگوں، عوتوں اور بچوں کے قتل میں ملوث ہیں۔

دہشت گردی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے غیر ملکی دہشت گردوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب ہر گروپ دوسرے سے استفادہ کرتا ہے۔ اور بالآخر اس تعلق سے سب سے زیادہ فائدہ القاعدہ کو پہنچتا ہے کیونکہ حقانی اور تحریک طالبان پاکستان دونوں ہی اسے سرحدوں کے دونوں جانب سہولیات اور دیگر امداد فراہم کرتے ہیں۔
حقانی نیٹ ورک پاکستان اور افغانستان کے لئے ایک صاف،واضع اور موجودہ خطرہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے افغانستان میں بے پناہ مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔حقانی نیٹ ورک پورے جنوبی ایشیا کےخطہ کے لئے اور دنیا کے لئےایک خطرہ ہیں۔ حقانی نیٹ ورک اغوا برائے تاوان کے لئے عورتوں اور بچوں اٖغوا کرتے ہیں اور اس سے دولت کماتے ہیں۔حقانی نیٹ ورک ایک مجرمانہ تنظیم ہے۔حقانی نیٹ ورک نان نہاد جہاد کا قائل و پرچارک ہے۔ حقانی نیٹ ورک جوپاک افغان سرحدی علاقوں میں موجود ہیں اس وقت بھی خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک خطرہ ہیں۔

Advertisements