قندھار خود کش دھماکہ، 11 افراد جاں بحق ،متحدہ عرب امارات کے سفیر اور قندھار کے گورنرسمیت16زخمی


920x920

قندھار خود کش دھماکہ، 11 افراد جاں بحق ،متحدہ عرب امارات کے سفیر اور قندھار کے گورنرسمیت16زخمی

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق دھماکے میں متحدہ عرب امارات کے سفیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔ قندھار سرکاری  گیسٹ ہاوس کے باہر  ہونے والے خود کش حملے  میں 11افراد جاں بحق جبکہ متحدہ عرب امارات کے سفیر  اور  گورنر قندھار سمیت 16افراد زخمی ہوگئے ہیں۔یو اے ای کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں سفیر جمعہ محمد عبداللہ الکعبی کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے حملے کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا گیا۔

1484117268692

1049463520

news-1484060620-8212_large

58752b4735317

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دھماکے میں متحدہ عرب امارات کے کتنے سفارتکار زخمی ہوئے، تاہم کہا گیا کہ وہ انسانی مشن کے سلسلے میں گورنر ہاؤس میں موجود تھے۔

مرنیوالوں میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتکاروں کے بھی شامل ہونے کا انکشاف ہواہے ۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق گورنر قندھار کے گیسٹ ہاوس میں ہونیوالے خودکش حملے میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتی اہلکاروں سمیت 11 افراد مارے گئے ، دھماکے وقت متحدہ عرب امارات کے سفیرجمعہ محمد عبداللہ الکابی اپنے ساتھیوں سمیت افغان حکام کے ساتھ میٹنگ میں مصروف تھے ، زخمیوں میں اماراتی سفیربھی شامل ہے ۔
بدھ کو متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ شہداءکے اعزازمیں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
دبئی کے امیر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ’ایسے لوگوں کی قتل وغارت گری کی کوئی انسانی ، اخلاقی یا مذہبی دلیل نہیں جو لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہے تھے ‘۔

عرب میڈیا کے مطابق  سرکاری گیسٹ ہاوس کے باہر اس وقت  حملہ کیا گیا جب متحدہ عرب امارات کے سفیر اور قندھار کے گورنر مقامی ہوٹل میں میٹنگ کررہے تھے،اس بم دھماکے کے نتیجے میں  11 افراد جاں بحق جبکہ متحدہ عرب امارات کے سفیر  اور  گورنر قندھار  ہمایوں عزیزی سمیت 16افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملہ خود کش تھا،ابھی تک کسی گروپ کی طرف سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے مگر یہ حقانی نیٹ ورک کا کام لگتا ہے۔

ادھرپاکستان نے کابل اور قندھار دھماکوں کی مذکت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، حکومت پاکستان اور عوام بم دھماکوں کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔

اس بم دہماکہ اور قتل کا  کوئی انسانی، اخلاقی یا مذہیبی جواز نہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ناحق قتل کیا جائے جو کہ انسانی ہمدردی کے تحت دوسروں کی مدد کر رہے تھے۔

دہشت گردی اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے ۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔
اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔ دہشتگرد تنظیم جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘
یہ آیت دو طرح کے لوگوں کی وضاحت کرتی ہے۔ ایک تو وہ جو انسانی جان کا احترام نہ کرنے والا ایسا سنگ دل قاتل ہے، جو معصوم و بے گناہ انسانوں کی جان لینے سے بھی نہیں ہچکچاتا، ایسے سفاک قاتل نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ اس کا سخت دل انسانی عظمت کا احترام نہیں کرتا اس لیے وہ پوری انسانیت کا دشمن ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کسی کو قتل کرنا اور زمین میں فساد پھیلانا دونوں جرم اور عظیم گناہوں کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے یعنی دونوں گناہ ایک ہی زمرے میں آتے ہیں۔

سورہ النسا میں ارشاد ربانی ہے ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اﷲ اس پر غضب ناک ہوا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘
مندرجہ بالا آیت مبارک میں قتل عمد (یعنی جان بوجھ کر قتل کرنا) کی سزا بیان ہوئی ہے۔ اس آیت کو پڑھ کر ایک مسلمان کا دل لرز اٹھتا ہے کہ اﷲ نے صاف الفاظ میں فرما دیا ہے کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر خالق کائنات غصے ہوتا ہے اور نہ صرف غصے، بل کہ اپنی رحمت سے بھی دور کردیتا ہے۔ اس پر اﷲ کی لعنت ہے اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار ہے۔
غرض یہ کہ بے گناہ انسانوں کا قتل ایک سنگین جرم، قابل لعنت و مذمت کام ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اس کی شدید مذمت ان الفاظ میں کی گئی ہے۔ ’’خبردار کسی جان کو جس کا مارنا اﷲ نے حرام کردیا ہو، ہرگز ناحق قتل نہ کرو‘‘
سورۃ النسا میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو، بے شک اﷲ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے۔‘‘
مذکورہ آیت مبارکہ میں اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کا مطلب نہ ہی دوسروں کی جان سے کھیلو اور نہ ہی اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالو ہے۔ اپنے آپ کو ہلاک کرنے کا ہر اقدام ’’خودکشی‘‘ کہلاتا ہے، خواہ وہ کسی صورت میں ہو، اسلام میں قطعاً حرام ہے۔ بہ حیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ زندگی اور موت اﷲ کے اختیار میں ہے جب کہ خودکشی کرنے والا اس عقیدے کی نفی کرتا ہے۔
خودکشی کی طرح خودکش حملے بھی اسلام میں قطعاً حرام اور ناجائز ہیں۔ خودکش حملہ آور اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ جہاد کر رہا ہے اور سیدھا جنت میں جائے گا تو یہ قطعاً غلط ہے۔ جہاد تو اس وقت فرض ہوتا ہے جب ریاست کی طرف سے جہاد کا اعلان ہو اور غیر مسلموں کے ساتھ جنگ ہو۔ اپنے طور پر گنجان آبادی میں جاکر ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک کتاب پر ایمان رکھنے والوں اور دیگر بے قصور لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ہرگز جہاد نہیں ہے۔

اسلام نہ صرف کسی بھی اسلامی ملک کے مقامی باشندوں کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہے بلکہ وہ تمام غیر ملکی مسلمان یا غیر مسلم جو کسی بھی اسلامی ملک میں پروانہ اجازت لیکر آئیں انکی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری لیتا ہے۔ غیر ممالک سے آنے والے افراد خواہ وہ تاجر ہوں، سفارتی عملہ ہو یا سیاح، استاد ہوں یا طالب علم انکی حیثیت ایک سفیر کی سی ہوتی ہے اور جب ہم نے انہیں ملک میں آنے کی اجازت دے دی تو وہ مقررہ مدت تک اپنے آپ کو محفوظ طریقے سے رکھ سکتے ہیں آپ جب دنیا سے تشریف لے جا رہے تھے جو آپ نے چند وصیتیں فرمائیں ان میں سرفہرست یہ تھی کہ تمہارے پاس جو بھی وفد آئیں انکی عزت، تکریم اور مہمان نوازی کرنا۔ یہاں ہم نجران کے وفد کی مثال دے سکتے ہیں کہ وہ جب مدینہ منورہ میں آیا تو آپ نے انکی مہمان نوازی کی اور انہیں اپنے پاس ٹھہرایا۔ وفد کے ارکان نے اللہ کے پیارے نبی سے دریافت کیا کہ اتوار کا دن عبادت کا دن ہے ہم یہاں کہاں عبادت کریں۔ آپ رحمت اللعالمین کا جواب بھی سن لیجئے۔ فرمایا میری مسجد میں عبادت کر لو اس سے بھی بڑی مثال ملاحظہ ہو کہ جب نبوت کا دعویٰ کرنے والے مسلیمہ کذاب کا دو رکنی وفد مدینہ منورہ میں اللہ کے پیارے نبی کے پاس آیا تو اپنے جھوٹے نبی کا یہ پیغام دیا کہ آپ اپنی رسالت میں مسلمہ کذاب کو بھی شریک کر لیں اس پر اللہ کے پیارے نبی نے جو جواب دیا وہ تاریخ میں سنہری حروف سے رقم ہے کہ اگر سفیروں کو قتل کرنے کی اجازت ہوتی تو میں تمہیں قتل کر دیتا۔ آپ یہ ملاحظہ فرمائیں کہ پیارے نبی کی موجودگی میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے مسلیمہ کذاب کے سفیروں کو آپ کچھ نہیں کہتے اور ناگواری کا اظہار فرماتے ہیں۔ کسی ملک میں آنےوالے بدھ مت کے پیروکاروں، عیسائی، پارسی، ہندو یا دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی مہمانداری اور حفاظت اللہ کے پیارے نبی کی سنت ہے۔ انہیں نشانہ بنانے والے کا اللہ کے رسول، مدینہ منورہ کی ریاست اور اسکے آئین سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ مہمان کو قتل کرنا کسی کلچر اور اسلامی شریعہ و تعلیمات کے منافی ہے۔

 

 

Advertisements