کشمیری چائے اور کلچے


tea-1

کشمیری چائے اور کلچے

سردیوں کی ہر دل عزیز کشمیری چائے، جو ذائقے اور فوائد کے اعتبار سے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے، موسم سرما میں جاڑے کی سرد ہواؤں میں گرما گرم  گلابی کشمیری چائے سردیوں کا مزہ دوبالا کر دیتی ہے۔موسم سرما اور چائے لازم و ملزوم ہیں ۔ اس کی وجہ اس منفرد مشروب کی بدولت جسم میں پیدا ہونے والی حرارت ہے جو سردیوں کی منجمد کر دینے والی ہواؤں میں بھی ہمیں متحرک رہنے کی ہمت دیتی ہے۔

kashmiri-chaye_10892-jpg

1480173435-8967

guj-kasmiri-tea-pkg-baig-01-12

index-jpg%d8%a8%da%be%d8%a6

image_1479915023_38699105

kashmiri-chay_13624-jpg

کشمیری چائے کے ساتھ کشمیری کلچے بھی کھاتے ہیں۔کلچے ناشتے میں چائےمیں ڈبو کر کھائے جاتے ہیں۔ یہ سیالکوٹ اور مظفر آباد میں بکثرت ملتے ہیں اور شادی بیاہ کے موقع پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔کلچہ مظفرآباد کی خاص سوغات سمجھی جاتی تھی۔ میدے سے بننے والی ان خستہ ٹکیوں کو لوگ ناشتے سے لیکر رات گئے تک بہانوں بہانوں سے کھاتے رہے ہیں۔کلچوں کا مسالہ میدے، نمک یا چینی، سوڈے، گھی اور مکھن کو ایک خاص تناسب سے ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔کلچے نہ صرف نمکین اور میٹھے بلکہ کئی اور طرح کے بھی ہوتے ہیں۔ خاص آرڈر پر بننے والے کلچوں میں زیادہ گھی یا مکھن، خشخاش اور الائچی بھی ڈالی جاتی ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کے لیے بھی کلچے خاص طور پر بنوائے جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سبز چائے کا استعمال انسانی صحت کے لئے بہت ہی مفید ہے ، اس کے استعمال سے مختلف بیکٹیریا اور وائرس سے بچاؤ ممکن ہے، سبز چائے کا استعمال ذیابطیس اور دل کے امراض سمیت کئی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتا ہے۔

پہلوانوں کے شہر کے کھابے ہی مشہور نہیں، کشمیری چائے کا بھی ذائقہ لاجواب ہے، سیالکوٹی دروازے کے قریب ملنے والی کشمیری چائے سردی کے ماروں کو دور دور سے کھینچ لاتی ہے۔ اسی طرح لاہور کی پرانی انار کلی کی کشمیری چائے اپنے ذائقہ کے اعتبار سے بڑی مشہور ہے۔

کشمیری چائے کو خاص مواقع پر بنیادی طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جیسے شادیوں میں جبکہ موسم سرما کے مہینوں کے دوران یہ بہت سی دکانوں پر فروخت کیا جاتا ہے. میٹھی کے ساتھ ساتھ لوگ نمکین کشمیری چائے بھی پسند کرتے ہیں۔

اکثر ہماری خواتین کو یہ شکایت رہتی ہے کہ کشمیری چائے گھر میں ویسی نہیں بنتی جیسی بازار اور ریستوران میں ملتی ہے۔ اگر اس کے تمام اجزا اور مقدار ساتھ میں طریقہ کار کو ہم ٹھیک طرح سے ذہن میں رکھیں، تو ہم بازار اور ریستوران کا ذائقہ گھر میں ہی حاصل کر سکتے ہیں۔

کشمیری چائے کی بے حد آسان اور مختصر ترکیب دیکھیں۔

سبز چائے کی پتیاں – ایک کھانے کا چمچہ

لونگ – چار عدد( بعض لوگ لونگ استعمال نہ کرتے ہیں)

دار چینی – ایک بڑا ٹکرا

بادیاں ختائی ایک پھول

چھوٹی الائچی- چار پانچ عدد

کھانے کا سوڈا – ایک چٹکی

نمک – ایک چٹکی

چینی– حسب ذائقہ

دودھ – ایک کلو

پانی – چار پیالی

بادام اور پستہ – حسب ذائقہ

ایک بڑے  پین میں پانی ڈالیں، اس کے بعد اس میں سبز چائے کی پتیاں، لونگ، دار چینی،بادیاں ختائی، الائچی اور نمک ڈال کر ابال لیں، جب پانی ابلنے لگے، تو اس میں سوڈا ڈال کر اچھی طرح پھینٹ لیں، یہاں تک کہ پانی کا رنگ گلابی ہو جائے۔ اس کے بعد اس میں ایک کپ ٹھنڈا پانی ڈال لیں۔

پھر اس کو اتنا پکائیں کہ پانی خشک ہو کر ایک پیالی رہ جائے۔اس کے بعد اس میں دودھ اور چینی شامل کر کے پکائیں اور بادام اور پستے پیس کر اس میں شامل کردیں اور گرما گرم مزے دار کشمیری چائے کا لطف اٹھائیں۔

کشمیری چائے میں موجود ہر اجزا سبز چائے، الائچی ، لونگ ، بادام ، پستے اور دودھ کی اپنی اہمیت اور افادیت ہیں، جن لوگوں کو دودھ پسند نہ ہو وہ کشمیری چائے کی صورت میں اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

Advertisements

“کشمیری چائے اور کلچے” پر 4 تبصرے

  1. سوڈا ۔ دارچینی ۔ الونگ اور بایہ ختائی بہت کم استعمال کئے جاتے ہیں اور چھوٹی الائچی ۔ بادام اور پستہ ہمیشہ استعمال نہیں کئے جاتے ۔ کچھ لوگ نمک بھی نہیں ڈالتے کیونکہ بنیادی طور پر یہ چائے نمکین ہوتی ہے ۔ اسے سبز چائے کہا جاتا ہے

  2. بھوپال صاحب:
    بلاگ پر آپکی تشریف آوری باعث صد افتخار ہے۔مجھے آپکے کمنٹ کا انتظار تھا۔
    ہمارے گھر میں اور شادی بیاہ کے موقع پر ہمیشہ نمکین چائے بنتی ہے مگر بازار میں جو چائے ملتی ہے وہ شکر کے ساتھ ہوتی ہے۔گھروں میں تو اکثر پستہ و بادام کے بغیر بنتی ہے مگر بازار میں ملنے والی میں یہ اجزا شامل ہوتے ہیں۔بادام کی جگہ وہ خوبانی کی گھٹھلی کا بیج استعمال کرتے ہیں۔ میں خود ایسی سبز چائے پرانی انارکلی لاہور سے کئی بار بی چکا ہوں۔

  3. جناب نواز شریف کا شکریہ. آپ درست کہا ہے کہ آجکل لوگ چینی ڈال کر پیتے ہیں حالانکہ کہ اس چائے کے دو نام ہیں سبز چائے اور نمکین چائے. میں جموں کشمیر کا رہنے والا ہوں ہمارے گھر میں صبح سبز یا نمکین چائے پی جاتی ہے اور شام کو چائے جسے آجکل چائنیز گرین ٹی کہا جاتا ہے. اسے ہم چاء کہتے ہیں. سبز چاء اور چاء

  4. جناب عالی: ہم بھی نمکین چائے کے ساتھ پلے بڑہے ہیں۔ناشتہ میں چائے بنا کر سماوار میں رکھ دی جاتی تھی اور میں تو ناشتہ میں کم از کم دو پیالی چائے پیا کرتا تھا۔

تبصرے بند ہیں۔