طالبان کا لاہور میں خودکش بچوں کے ذریعے دہشت گردی کرانے کا منصوبہ


2071942

طالبان کا لاہور میں خودکش بچوں کے ذریعے دہشت گردی کرانے کا منصوبہ

محکمہ داخلہ پنجاب نے حساس اداروں کی رپورٹ پر صوبائی دارالحکومت میں 10 سے 12 سال کے بچوں کے ذریعے ممکنہ دہشتگردی کا خطرہ ظاہرکرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو چوکنا رہنے کی ہدایت کردی ہے۔

 

Taliban-attacks-Afghan-court

ایکسپریس نیوزکے مطابق حساس اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے تحت محکمہ داخلہ پنجاب نے متعلقہ اداروں کو مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے شہرکنڑ میں تحریک طالبان سوات نے خودکش بمباروں کو تیار کیا ہے جن میں 10 سے 12 برس کے بچے بھی شامل ہیں۔ ان بچوں کو لاہورسمیت دیگر شہروں میں بھیجا جائے گا۔ لاہور کے ابدالی چوک کے قریب دو منزلہ اسکول کی عمارت کو ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے۔

721119-polioe-1485505533-962-640x480

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں، شہرمیں ججز اورعدالتوں کے باہر بھی سکیورٹی بڑھائی جائے، شہر کے داخلی اورخارجی راستوں پرناکہ بندی کی جائے، افغان بستیوں میں پولیس اورحساس ادارے مشترکہ سرچ آپریشنز کریں۔

https://www.express.pk/story/721119/

طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔اسلامی تعلیمات کے مطابق بچوں پر جہاد واجب نہ ہے اور نہ ہی بچوں کو جنگ کا ایندہن بنایا جا سکتا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردوں کی ایک تعداد ان علاقوں سے فرار ہو کر مختلف علاقوں میں چھپ گئی‘ اب ان دہشت گردوں کی باقیات وقفے وقفے سے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی واردات کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے.

اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔ ۔طالبان مسلمانوں اور اسلام کی دشمن ہے اس کی اسلام اور مسلم کش سرگرمیوں کی وجہ سے مسلمانوں اور اسلام کا بہت نقصان ہوا ہے۔

پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔طالبان ، پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناسور ہیں۔
طالبان دہشتگرد ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور وہ انارکسٹ فلسفہ کے پیروکار ہیں اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر دین اسلام اور پاکستان کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں۔ دونوں تکفیری اور اسلام دشمن ہیں۔
طالبان جہاد نہ کر رہے ہیں ۔ ان کا نام نہاد جہاد اسلامی جہاد کے تقاضون کے منافی ہے۔
طالبان کےدہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں .طالبان دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئےنہ لڑ رہے ہیں بلکہ یہ اپنے اقتدار کےلئے لڑ رہے ہیں۔ یہ گمراہ لوگ ہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔
دہشتگرد، پاکستان ،پاکستانی عوام اور اسلام کےد شمن ہیں اور ہمیں ان سے ہر دم چوکنا و ہوشیار رہنا ہو گا اور ان کو دوبارہ اپنے گل کھلانے کا موقع بہم نہ پہنانا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان اور اسلام دشمنی ظاہر کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں۔

Advertisements