ہلمند، خودکش کار حملے میں 6 افراد ہلاک


589f4615dd161

ہلمند، خودکش کار حملے میں 6 افراد ہلاک

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں خودکش کار دھماکے کے نتیجے میں5 فوجیوں سمیت 6 افراد ہلاک اور خواتین و بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔حکام نے کہا کہ خودکش حملے میں خواتین و بچوں سمیت 20 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔

afghan-875-gif

افغان صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکر گاہ میں کار سوار خود بمبار نے بینک کے باہر قطار میں کھڑے لوگوں کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک جب کہ خواتین اور بچوں سمیت 2 درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا۔

Taliban militants are seen in an undisclosed location in Afghanistan in this picture released to Reuters May 9, 2009. Picture taken May 8, 2009. REUTERS/Stringer (AFGHANISTAN CONFLICT POLITICS IMAGES OF THE DAY) - RTXF64I

lashkar-gah-afghanistan-blast-afp_650x400_71486833387

ہلمند پولیس چیف آغا نور کینتوز کے مطابق فوجی اہلکار تنخواہ حاصل کرنے کے لئے بینک کے باہر قطار میں کھڑے تھے کہ طالبان حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا جس کے نتیجے میں 5 فوجیوں سمیت 6 افراد ہلاک  اور21 زخمی ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے کے 21 فوجی مارے گئے جب کہ ہلمند کا حملہ حال ہی میں امریکا کی جانب سے ضلع سنگن میں کی جانے والی کارروائی کا جواب ہے۔طالبان نے حملے کو ضلع سنگین میں حالیہ امریکی فضائی حملے کا بدلہ قرار دیا۔

صوبائی گورنر کے ترجمان عمر زَواک نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی، جس کے نتیجے میں کئی فوجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام میں خود کش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے۔

اسلامی شریعہ کے مطابق عورتوں اور بچوں کو جنگ میں نشانہ نہ بنایا جا سکتا ہے۔

کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں ۔ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے  ۔ طالبا ن کا طرز عمل جہاد فی سبیل کے اسلامی اصولوں اور شرائط کے منافی ہے۔

اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ طالبان اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

بدلہ لینا جہاد نہ ہے کیونکہ جہاد ہمیشہ اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے خدا کی راہ میں کی جاتی ہے۔

دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا افغانستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔  نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔

 

Advertisements