مہمند ایجنسی میں خود کش دھماکہ ،3خاصہ دار فورس کے اہلکار سمیت6 افرادشہید ،کئی افراد زخمی


739039-agency-1487136054-219-640x480

مہمند ایجنسی میں خود کش دھماکہ ،3خاصہ دار فورس کے اہلکار سمیت6 افرادشہید ،کئی افراد زخمی

مہمند ایجنسی میں پولیٹکل آفس کے باہر ایک خود کش حملہ آور خود کواڑا لیا جس کے نتیجے میں3خاصہ دار فورس کے اہلکار سمیت 6افراد شہید  جبکہ3لیوئز اہلکار وں سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے ۔مہمند ایجنسی کے ہیڈکواٹر غلنئی میں دو خودکش حملہ آوروں نے گھسنے کی کوشش کی جن کو روکنے پر ایک خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ سیکیورٹی اہلکار نےدوسرےدہشت گرد کو گیٹ پرفائرنگ کرکےہلاک کردیا۔ خفیہ اطلاع تھی کہ افغانستان سےخودکش بمبار مہمند ایجنسی میں داخل ہوئے ہیں۔

pak-army-during-kpk-operation-in-pakistan

c4rshkrwcam1kgt

58a42f1b65f51

news-1487133255-6346_large

مہمند ایجنسی کے پولیٹکل تحصیلدار عصمت اللہ وزیر نے  بتایا کہ یہ حملہ بدھ کی صبح ایجنسی کے صدر مقام میں واقع ایجنسی ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ پر ہوا۔

انھوں نے بتایا دو مبینہ خود کش حملہ آور ہیڈ کوارٹر کے احاطے میں واقع سرکاری دفاتر کی جانب جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس دوران وہاں گیٹ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔

عصمت اللہ وزیر کے مطابق اس دوران ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ دوسرے کو سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 2 دہشت گرد موٹر سائیکل پر سوار تھے اور دونوں مین گیٹ سے اندر گھسنے کی کوشش کر رہے تھے جسے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا ہے ۔

لیویز اہل کاروں کے مطابق ایک حملہ آور نے خودکش حملے سے  پہلے پولیٹیکل آفس کے مین گیٹ پر ہینڈ گرینڈ سے حملہ بھی کیا۔ دھماکے سے چار لیویز اہل کار شہید ، جب کہ پانچ زخمی ہوئے۔ کارروائی میں دو حملہ آور ہلاک ہوئے۔ شہید اہلکاروں نے ہاﺅسنگ کالونی میں موجود لیویز کے بہت سے دیگر اہلکاروں کی جانیں بچانے کے لئے اپنی جانیں قربان کیں۔

غلز ئی ہیڈ کوارٹرمیں پولیٹیکل انتظامیہ کے آفس اوردیگرسرکاری دفاتر ہیں۔دھماکے کے بعد علاقے میں سرچ آپرشن شروع کردیاگیا ہے ،یکہ غنڈ بازار سمیت تمام بازاروں اور مارکیٹوں کو بند کردیاگیا ہے ۔داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کردی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی ایجنسیز کو افغانستان سے خود کش بمباروں کی مہمند ایجنسی میں داخلے کی رپورٹس ملی تھیں، تاہم دہشت گردی کی کوشش ناکام بنادی گئی۔مزید کہا گیا کہ واقعے کے بعد مچنی اور غلانئی کے علاقوں میں سرچ اور اسٹرائیک آپریشن کا آغاز کردیا گیا۔

دوسری جانب واقعے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام میں خود کش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے۔

کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں ۔ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے  ۔ جماعت احرار  و طالبا ن کا طرز عمل جہاد فی سبیل کے اسلامی اصولوں اور شرائط کے منافی ہے۔

جماعت احرار و طالبان اور دوسری کالعدم  دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔

اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جماعت احرار ، طالبان اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جہاد نہ کر رہے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s