درگاہ لعل شہباز قلندرؒمیں خودکش دھماکا، 88 بے گناہ افراد شہید


pakistan-suicide-attack-qalandar

درگاہ لعل شہباز قلندرؒمیں خودکش  دھماکا، 88 بے گناہ افراد شہید

سندھ کے علاقے سیہون شریف میں واقع درگاہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ میں ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں 88 بے گناہ افراد شہید جبکہ ڈھائی سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔دہشت گردوں نے سیہون میں حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی درگاہ کو نشانہ بنایا ہے، جو 8سو سال سے برصغیر اور خصوصاً سندھ کے عوام کے لیے فیوض و برکات کا مرکز رہی ہے۔دھماکا شام 7 بجے اس وقت ہوا جب مزار میں دھمال جاری تھا اور اس کے احاطے میں سیکڑوں لوگ موجود تھے، دھماکا انتہائی زور دار تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے فوری بعد درگاہ میں مکمل طور پر دھواں پھیل گیا، دھماکے کے بعد مزار میں افراتفری مچ گئی جس سے متعدد افراد پیروں تلے بھی دب گئے جب کہ مزار کے بعض حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔

l_186748_123523_updates

pakistan-shrine-victim

_94682237_gettyimages-635645004

740959-image-1487278539-732-640x480

740959-image-1487278565-212-640x480

740959-image-1487278329-684-640x480
گزشتہ روز درگاہ لعل شہباز قلندر میں خود کش حملے میں زخمی ہونے والے مزید 13 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد سانحے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 88 ہوگئی جبکہ زخمی ہونے والے 200 افراد میں سے 50 کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

واقعے میں 76سے زائد افراد کے شہید ہونے کی تصدیق سینئر پولیس حکام نے کی ہے۔سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے احاطے میں دھماکہ ہو اہے جس کے باعث88 بے گناہ   افراد شہید ہو گئے ہیں جبکہ 250 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ،ابتدائی طور پر دھماکے کو خود کش قرار دیا جارہاہے،دھماکہ اس وقت ہوا جب دھمال جاری تھی،جس کے باعث شہادتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔الجزیرہ کے مطابق درگاہ پر خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔

فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ سیہون کے خودکش بم دھماکے کے شہداء میں 43مرد، 9 خواتین اور 20 بچے شامل ہیں۔

pakistan_f97fb90c-f484-11e6-bee8-7b74d3637aa8

sehwan-sharif-blast-2

news-1487260774-8816_large

740551-qalandarblast-1487276536-467-640x480

news-1487260774-8816_large

ایس ایچ او سہیون شریف کا کہناہے کہ 100 سے زائد افراد شہید ہو گئے ہیں جبکہ شہادتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے ۔ایم ایس سیہون شریف ہسپتال کا کہناہے کہ 50 سے زائد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 250 سے زائد زخمی ہیں جبکہ ڈاکٹرز کی کمی تھی لیکن اب وہ ختم ہو گئی ہے اور زخمیوں کو بھرپور طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

دہشت گردوں نے سہون شریف حملے میں ایک معمر خاتون کا سب کچھ ہی اجاڑ دیا، بے سہارا خاتون غم سے نڈھال مزار پر پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق سہون شریف دھماکے میں شوہر، بیٹے، بہو اور بیٹیوں سے محروم ہو جانے والی بے سہارا معمر خاتون آج بھی مزار پر پہنچ گئی اور اپنی روداد کچھ اس طرح بیان کی۔ ”بچے زیارت کیلئے درگاہ کے اندر گئے تو دھماکہ ہو گیا، میرا شوہر، دو بیٹیاں، بیٹا اور بہو سب چلے گئے، میرا خاندان ہی اجڑ گیا ہے، مجھے بھی مار دو۔۔۔ اب میں کس کے گھر جاﺅ ںگی، مجھے بھی مار ہی دو ۔ اے میرے اللہ میں کہا جاﺅں۔۔۔ کہاں جاﺅں۔۔ “

740959-image-1487278511-251-640x480

sehwan3

وزیراعظم نوازشریف نے سہون شریف میں دہشت گردحملےکی شدید مذمت کرتےہوئے کہا ہے کہ درگاہ لعل شہباز قلندرؒ پر حملہ ترقی پسند پاکستان پر حملہ ہے۔وزیراعظم نوازشریف کا اپنے مذمتی بیان میں کہنا ہے کہ ہم میں سے ایک پر حملہ سب پر حملہ ہے، یہ حملہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوفیان کا تشکیل پاکستان کی جدوجہد میں اہم حصہ ہے، ہم ایسے حملوں سے سختی سےنمٹیں گے،گزشتہ چند روز مشکل رہے ہیں۔وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرا دل متاثرین کے ساتھ ہے، ہم ایسے واقعات سے خود کو تقسیم نہیں ہونے دےسکتے، پاکستان کی شناخت کے لیے ہم اس جدوجہد میں متحد کھڑے ہیں۔

صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل ملک بھر میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے ہم لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں ، اسلام میں خودکش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے، مزاروں، تعلیمی اداروں، مارکیٹوں، پولیس، سرکار ی افسروں اور سکیورٹی فورسز پر حملے فساد ہیں۔انہوں نے کہا کہ  بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں، دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جہنمی ہیں۔

بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسانیت اور اسلام کے دشمن ہیں۔یہ عوام میں خوف وہراس پیدا کرکے ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش ہے۔

 “مزارات صرف امن ومحبت اور بقائے باہمی کی علامت ہی نہیں بلکہ کئی غریبوں کا گھر بھی ہیں، جہاں انہیں کھانا اور رہائش بھی ملتی ہے ، ایسی جگہوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کا کوئی دین، مذہب اور نظریہ نہیں ہوتا ،وہ  انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کے خلاف پوری قوم متحد ہے،ان دہشت گردوں کی ہمارے معاشرے، مذہب اور ثقافت میں کوئی جگہ نہیں۔ دہشت گرد انسانیت اورامن کے دشمن ہیں ۔دہشتگردوں کا کوئی دین ومذہب نہیں ، ان شدت پسندوں کی دہشتگردانہ کارروائیوں سے کوئی شہری بھی محفوظ نہیں۔ جب تک دہشتگردوں کو کیفرکردارتک پہنچا یا نہیں جاتا اس وقت تک ملک میں امن و استحکام ممکن نہیں۔

خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل

 اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔  داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش  کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔ اسلام میں بچوں اور عورتوں کا قتل حالت جنگ میں بھی منع ہے۔

 

Advertisements