لاہور ڈیفنس میں دہماکہ، 9افراد جانبحق


58ae96d65af52

لاہور ڈیفنس میں دہماکہ، 9افراد جانبحق

لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں دھماکے کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوگئے۔ پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ دھماکا بارودی مواد پھٹنے سے ہوا ہے۔

746882-defence-1487835246-284-640x480

_94810378_mediaitem94810375

ایس ایس پی سی ٹی ڈی ڈاکٹر اقبال کے مطابق ‘اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں کہ دھماکا آئی ای ڈی یا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا’۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق لاہور کے علاقے ڈیفنس زیڈ بلاک میں ایک زیر تعمیر عمارت میں دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ جس مقام پر دھماکا ہوا، وہ لاہور کا ایک مصروف اور کمرشل علاقہ ہے جہاں کئی دفاتر اور کھانے پینے کے مراکز قائم ہیں۔

l_159833_025325_updates

58ae8f71d131c

l_272337_121239_updates

news-1487831300-3178

دھماکے سے پارکنگ میں کھڑی متعدد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو شدید نقصان پہنچا۔دھماکا ٹائم ڈیواس تھا جس کے لئے 20سے 25 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکا ٹائم ڈیوائس سے کیا گیا۔

زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جس سے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ دھماکے کے شہداءکی شناخت معظم ، عمران ، شعیب ، حبیب ، جاوید ، اسلم اور شبیر کے ناموں سے ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں میں احمد ، عدیل ، عاقب، افضل ، منشا، زیشان ، آصف ،فیصل ،طاہر ، جاوید ، عمران ، وسیم ، ریاض ، حفیظ، سنی ،حفیظ، شبیر، جعفر، حبیب ،ناصر، معظم پراچہ ، تاثیر،پرویز،سمیع کھوکھر،وقار قریشی، ارسلان اور حسیب شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے سروسز ہسپتال میں ہڑتال ختم کر کے ایمرجنسی کو کھول دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے فوری طور پر دھماکےکی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے انسپکٹرجنرل پولیس سےرپورٹ طلب کرلی۔

بم دھماکے اور دہشتگردی اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام میں قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے۔

اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ جماعت احرار و طالبان گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ 

جماعت احرار و پاکستانی طالبان جان لیں کہ وہ اللہ کی بے گناہ مخلوق کا قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول(ص) کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. دہشتگردوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ بم دہماکے اور دہشتگردی کر کے غیرشرعی اور حرام فعل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں ۔ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے  ۔ جماعت احرار  و طالبا ن کا طرز عمل ، جہاد فی سبیل کے اسلامی اصولوں اور شرائط کے منافی ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد ضرب عضب کے علاقوں سے فرار ہو کر مختلف علاقوں میں چھپ گئی‘ اب ان دہشت گردوں کی باقیات وقفے وقفے سے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی واردات کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ مجلس احرار وطالبان پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناسور ہیں  اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔

Advertisements