اسلام کے نام پر دہشت گردی حرام ہے


اسلام کے نام پر دہشت گردی حرام ہے

تنظیم اتحادِ امت پاکستان اور اتحادا مت اسلامک سینٹر کے شریعہ بورڈ کے شیوخ الحدیث اور مفتیان کرام نے درگاہ سیہون شریف اورملک میں حالیہ جاری دہشت گردی کے خلاف فتویٰ  میں کہا ہے کہ اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی حرام ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان،القاعدہ، داعش، بوکو حرام، الشباب اور اُن جیسی دوسری نام نہاد جہادی تنظیموں کا فلسفہ جہاد گمراہ کن، طرزِ عمل غیر اسلامی اور فہم اسلام ناقص ہے۔

فرقہ وا را نہ قتل و غارت میں ملوث عناصر فساد فی الارض کے مجرم ہیں۔ اسلام فرقے کے اختلاف کی بنیاد پر کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں شہید ہونے والے عوام پاکستان ،فوجی، پولیس اہلکار اور دوسرے افراد قوم کے حقیقی ہیرو ہیں جبکہ عوام پاکستان ، پاک فوج اور سیکورٹی فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے مرنے والوں کو شہید قرار نہیں دیا جا سکتا۔شریعت کے نفاذ کے لیے بندوق اٹھانا درست نہیں ہے۔ حکومت تمام مکاتبِ فکر کے جیّد علماء اور مفتیوں پر مشتمل ’’علماء بورڈ‘‘ قائم کرے اور تکفیری فتویٰ صرف اِس بورڈ کی طرف سے جاری ہو۔ حکو متِ وقت پر لازم ہے کہ وہ ریاست کے باغیوں کے خلاف جنگ کرے۔ پاکستان کے وزیراعظم پاکستان کی سلامتی کے دشمن ہر طرح کے مذہبی و غیر مذہبی دہشت گردوں کے خلاف قومی جہاد کا اعلان کریں اور پوری قوم متحد ہو کر پاکستان بچانے کے اِس جہاد میں شریک ہو۔ دہشت گردی میں ملوث مدارس کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے۔ اجتما عی شرعی اعلامیہ مفتی مسعود الرحمن ،مفتی ابو بکر اعوان ایڈوو کیٹ ،مفتی ڈاکٹر کریم خان ،مفتی محمد قیصر شہزاد نعیمی ، علامہ خلیل الرحمن قادری مفتی رضائے مصطفیٰ نقشبندی ،مفتی غلام حسن قادری ،مفتی محمد حسیب قادری، مفتی تصدق حسین،مفتی انتخاب احمد نوری،،مفتی میاں غوث علی قصوری ،مفتی لیاقت علی صدیقی ، مفتی محمد عارف نقشبندی، مفتی اللہ بخش محمدی سیفی، دیگر نے جاری کیا۔

http://search.jang.com.pk/print/272186

اس سے پہلے جماعت اہلسنّت اور سنی اتحاد کونسل کے مفتیان کرام نے سانحہ درگاہ شاہ نورانی کے تناظر میں جاری کئے گئے اجتماعی شرعی اعلامیہ میں کہا ہے کہ خود کش حملے خلاف اسلام اور حرام ہیں۔ اسلام انسانی جان کی حرمت کا علمبردا ر اور قتل ناحق کا سب سے بڑا مخالف ہے۔ اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔ خود کش حملوں کے حرام ہونے پر پوری قوم متحد اور متفق ہے۔اسلام کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے اسلام کے باغی ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں دہشتگردی کی ہر شکل کو فساد فی لارض قرار دیا ہے۔ درگاہ شاہ نورانی پر خودکش دھماکہ کرنے والوں نے اللہ کے عذاب کو دعوت دی ہے۔

شرعی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ معصوم انسانوں کا خون بہانا اسلامی تعلیمات اور شرعی اصولوں کے منافی ہے۔ اسلام بے گناہ انسانوں کے قتل سے منع کرتا ہے۔ فتوی میں اپیل کی گئی ہے کہ حکومت دنیا بھر کے مفتیان کرام اور اسلامی سکالرز کا اجلاس بلاکر خود کش حملوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کروائے کیونکہ اسلام کے نام پر دہشتگردی کرنے والوں کا فکری توڑ ضروری ہو چکا ہے۔ اسلام امن و محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ خود کش حملے کرنے والے اسلامی تعلیمات سے روگردانی کررہے ہیں۔ اسلام کے نام پر ہونیوالی دہشتگردی سے مسلمان اور اسلام بد نام ہورہا ہے۔

جن مفتیان کرام اور علماء نے شرعی اعلامیہ جاری کیا ہے ان میں علامہ پیر سید مظہرسعید کاظمی، علامہ سید ریاض حسین شاہ ، علامہ محمد اکرم شاہ جمالی، علامہ سید شمس الدین بخاری، مفتی محمد اقبال چشتی، سید شاہ عبد الحق قادری، مفتی محمد فضل جمیل رضوی، علامہ محمد اکرم سعیدی، علامہ بشیر القادری، علامہ حافظ فاروق خان سعیدی، مفتی لیاقت علی، علامہ سید غلام یسین شاہ ، علامہ خلیل الرحمن چشتی، علامہ قاضی محمد یعقوب رضوی، علامہ سید خضر حسین شاہ سیالوی، علامہ محب النبی طاہر، علامہ رفیق احمد شاہ جمالی، علامہ رضوان یوسف، مولانا محمد حنیف چشتی، علامہ محمد اشرف چشتی، علامہ منظور عالم ، علامہ حامد سرفراز، علامہ فیض بخش رضوی، علامہ شیر محمد نقشبندی، علامہ نذیر احمد قادری اور دیگر شامل ہیں۔

شہریوں کا ناحق قتل جہاد نہ ہے ۔ جہاد تو اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے اللہ کےر استہ میں کیا جاتا ہے،ایساجہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوگا۔

 کسی اسلامی ملک کے اندر عوامی مقامات پر خود کش حملے کرنا اسلام میں حرام ہے اور اسے ثواب سمجھ کر کرنے والا اسلام سے خارج ہے۔
اسلام محبت اور امن کا دین ہے۔ دہشت اور انتہا پسندی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں‘ خانقاہوں اور مزاروں کے انہدام کی مذمت کرتے ہیں‘ بے گناہ اور معصوم افراد پر خودکش حملے حرام ہیں۔ خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

مسلم ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد پر مبنی افکار و نظریات کے حامل لوگ ایک چھوٹا سا اقلیتی گروہ ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔خودکش حملہ ہر حال میں حرام ہے۔

اللہ تعالی نے قرآن میں واضح طور پر اسےمنع فرمایا ہے
۔ ارشاد ربانی ہے :
وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَةِج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَo
البقرة، 2 : 195
”اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہےo”
امام بغوی نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 30 کی تفسیر کے ذیل میں سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت نمبر 195 بیان کرکے لکھا ہے :
وقيل : أراد به قتل المسلم نفسه.
بغوی، معالم التنزيل، 1 : 418
”اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا خودکشی کرنا ہے۔”
ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ يَسِيْرًاo
النساء، 4 : 29، 30
”اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo”
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
رازی، التفسير الکبير، 10 : 57
”(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو)۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔”
مزید برآں امام بغوی نے ”معالم التنزیل (1 : 418)” میں، حافظ ابن کثیر نے ”تفسیر القرآن العظیم (1 : 481)” میں اور ثعالبی نے ”الجواھر الحسان فی تفسیر القرآن (3 : 293)” میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874
”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔”
یہ حکمِ نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خودکش حملوں (suicide attacks) اور بم دھماکوں (bomb blasts) کے ذریعے اپنی جان کے ساتھ دوسرے پرامن شہریوں کی قیمتی جانیں تلف کرنے کی اجازت دے! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
"شیخ الازہر کا کہنا ہےکہ دہشت گردی اول وآخر سوچ اور یقین کا نام ہے۔ اسے حرز جان بنانے والوں کے لئے یہ فلسفہ حیات ہے جس کی خاطر وہ مرنے اور خودکشی پر تیار ہو جاتا ہے۔ یہ نام نہاد سوچ کسی بھی سماوی دین کی پیداوار نہیں ہے بلکہ نفسیاتی اور فکری بیماری ہے جس میں مبتلا شخص اپنے موجودگی کا جواز دینی احکامات میں تلاش کرتا ہے۔ تاریخ اور معاصر حقائق سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ دہشت گردی کے سوتے صرف دین سے انحراف سے ہی نہیں پھوٹتے بلکہ دین کی جعلی تفسیر بھی اس کا اہم سبب ہےـ

۔ دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جہنمی ہیں۔ خودساختہ تاویلات کی بنیاد پر مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا اسلامی شریعہ کے مطابق درست نہ ہے ۔

۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔بے گناہ عورتوں اور بچوں و بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں۔

دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.دہشت گرد ان دہماکوں سے پاکستان کو تباہ اور پاکستانی شہریوں کو بلا دریغ ہلاک کر رہے ہیں۔

Advertisements