پاکستان میں جماعت الاحرار کی دہشتگردی


ttp-jamaat-ul-ahrar-lashkar-e-islam-tehreek-e-talibanpakistan-ttp_3-13-2015_178007_l

پاکستان میں جماعت الاحرار کی دہشتگردی

جماعت الاحرار ایک مسلح،شدت پسند و دہشتگرد گروہ ہے جو تحریک طالبان پاکستان سے اگست 2014ء میں الگ ہوا۔یہ پاکستان کے موجودہ شدت پسند گروپوں میں سب سے زیادہ شدت پسند اور مضبوط گروپ گردانا جاتا ہے۔حالیہ حملوں میں 100 سے زائد معصوم لوگوں کی موت کی ذمہ دار جماعت الاحرار موجودہ وقت میں افغان سرحدی علاقے سے کارروائی کرنے والی پاکستان کی عسکریت پسند تنظیموں میں سب سے بڑی اور مہلک تنظیم ہے۔ یہ نیٹ ورک داعش کے ساتھ اپنی وفاداری کا عہد کر چکا ہے جس نے صورتحال کو اور بھی زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔

images-jpgbhu

ttp-sanctuaries-editorial-of-dawn-newspaper18557_l

images

images

243829_82721748

یہ تنظیم پشاور کےآ رمی پبلک سکول اور لاہور کے ایک پارک پر حملہ کی زمہ دار بھی ہے۔ مہمند ایجنسی کو اس شدت پسند تنظیم کا گڑھ کہا جاتا ہے۔لاہور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ لاہور میں ہونے والا دھماکا خودکش حملہ تھا جس کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔ 2014 سے لیکر اب تک جماعت احرار 116 دہشتگرد حملوں میں ملوث ہیں۔

اس کی قیادت مولوی محمد عمر قاسمی کررہا تھا جو کہ لشکر جھنگوی العالمی کا سربراہ بھی بتایا جاتا تھا۔مولوی عمر قاسمی سپاہ صحابہ پاکستان کی رکنیت کے بعدمنظر عام پر آیا تھا اور اسے عمر خالدخراسانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جماعت الاحرار پاک افغان سرحدی علاقوں میں سرگرم ایک شدت پسندتنظیم ہے۔ اس تنظیم کے کارکن خیبر ایجنسی، مہمند ایجنسی اور افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ پائے جانے والے علاقوں میں موجود ہیں، جبکہ اس جماعت کے سہولت کار اور انٹیلی جنس نیٹ ورک پورے پاکستان کے اندر پھیلا ہوا ہے۔.جماعت الاحرار کی جانب سے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے بیعت کا اعلان بھی سامنے آیا تھا۔پاکستانی فوج نے 2010ء میں مہمند ایجنسی میں داخل ہو کر تمام شدت پسند تنظیموں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ اب دوبارہ سے مہمند ایجنسی میں جماعت الاحرار کی موجودگی کو محسوس کیا جاتا ہے۔

لاہور کی حالیہ دہشتگردی کے بعد جماعت الاحرار نے ایک ویڈیو پیغام میں مسلح حملوں کی ایک نئی لہر کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ملک میں دہشت گردی کے ایک نئے سلسلے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ جماعت الاحرار نے اسی نوعیت کے اور حملے کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ ”لاہور کے اقبال پارک میں جس خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا اس کی تربیت افغانستان میں کی گئی تھی۔ اس کے بعد اسے پاکستان لایا گیا اور اس کے ذریعے حملہ کروایا گیا۔ ہم ایسے ہی مزید خوفناک اور تباہ کن حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے، جسسے ملک دشمن،سماج دشمن اور اسلام کے دشمنوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ دہشت گردی پاکستان کی ریاست اور معاشرہ کو درپیش خطرات میں سب سے بڑا اور مہیب خطرہ ہےجس نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ دہشت گردی سے پاکستانی معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

جماعت احرار نے پولیس اور دفاعی افواج پر براہ راست حملے کر کے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہوا ہے جس سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات دو چند ہو گئے ہیں۔ان مسائل کی وجہ سے ملکی وسائل کا ایک بڑا حصہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اُٹھ رہا ہے. آج پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کا مرکز سمجھاجا تا ہے۔

دہشت گردی  سےعالمی اور علاقائی امن کو مسلسل خطرہ لاحق ہے، گزشتہ چند سالوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے ہاتھوں سخت جانی و مالی نقصانات اٹھائے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کوششوں اور قربانیوں کے بدولت اب ہماری عوام امن و خوشحالی کی طرف گامزن ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ قریبی علاقائی تعاون سے زیادہ موءثر انداز میں ہو سکے گا۔
عام پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا سکون غارت ہوا ،بیروزگاری میں اضافہ ہوا، دنیا میں ہم اور ہمارا ملک رسوا ہوگئے ۔نفرتوں اور تعصبات نے ہمارے معاشرے تار و پود کو تباہ کرکے رکھ دیا اور ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ گیا۔مسلسل دہشت گردی سے پاکستان کمزور ہوتا جارہا ہے. ہماری مسجد، پگڑی اور داڑھی کا تقدس پامال ہوگیااور پاکستان سے محبت رکھنے والا ہر دل ، پاکستان اور مسلمانوں کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ، اور ہم پھر بھی خاموش ہیں؟ آخر کیوں؟
جماعت احرار کو سمجھنا چاہیے کہ بم دہماکے اور خودکش حملے غیرشرعی اور حرام فعل ہیں۔ بے گناہ و معصوم طلبا وطالبات، عورتوں، بوڑھوں، ، جنازوں، ہسپتالوں، مزاروں، مسجدوں اور مارکیٹوں پر حملے اسلامی شریعہ کے منافی ہیں.

علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں کیونکہ ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔

 اﷲ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی اَہمیت کعبۃ اﷲ سے بھی زیادہ ہے۔ ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘ رسول اکرم کی ایک اور حدیث میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور امن کے مقاصد کو آگے بڑہاتا ہے۔

 معصوم اور بیگناہوں کےناحق قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور پاکستان اور امن کے دشمن ہیں ، ان کی اختراع وسوچ اسلام و پاکستان مخالف ہے ۔اسلام کا پیغام امن ،محبت، بھائی چارگی اور احترام انسانیت ہے۔ دہشتگرد پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔
دہشتگردی و قتل و غارت گری کی راہ ملک و قوم کی تباہی و بربادی کا راستہ ہے۔ دہشتگردی کا راستہ ترک کر کے ملک و ملت میں امن قائم کرنا،ترقی ، بہتری اور عوامی بہبود کے لئے کام کرنا عین عبادت ہے۔ملک میں معاشی ترقی امن و آشتی کے ماحول ہی میں ممکن ہے .مجلس احرار کی دہمکی ایک چوری دوسری سینہ زوری والی بات ہے۔ دہشتگردوں کا اسلامی نافذ کرنے والا اعلان محض دھوکہ اور فریب دہی ہے۔یہ نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان بلکہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔

جب تک ہم اچھے اور برے طالبان میں تمیز ختم نہیں کریں گے، دہشت گردی ختم نہیں ہو گی۔کالعدم تنظیموں کے ارکان آج بھی پنجاب اور بلوچستان میں کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ ہم اپنی سیاسی مجبوریوں کے تحت ان کو اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ایک تجزیہ نگار نے ان دہشت گردوں کو قومی دھارے میں لانے کی تجویز بھی پیش کر دی ہے۔ قومی دھارے میں سیاسی کارکنوں کو لایا جاتا ہے، جو کم از کم آئین پاکستان پر تو یقین رکھتے ہیں۔ کوئی بھی گروہ، چاہے وہ جماعت الاحرار ہو پنجابی طالبان ہوں، حقانی نیٹ ورک ہو یا دیگر کالعدم تنظیمیں ہوں، اگر وہ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے تو ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ دہشت گردی اسی طرح جاری رہے گی اور اس میں مزید شدت بھی آ سکتی ہے۔‘‘

صحافی حسن عبداللہ نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ،  کہ ضرب عضب آپریشن میں عسکریت پسند گروہوں کا آپریشنل ڈھانچہ تباہ ہوا تھا لیکن یہ ختم نہ ہوئے تھے۔ جماعت الاحرار کے شدت پسند ٹی ٹی پی میں بھی انتہائی سخت گیر سمجھے جاتے تھے اور وہ آج بھی بہت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔‘‘

Advertisements