کابل کےفوجی ہسپتال پر داعش کے حملے میں 38 افراد ہلاک


کابل کےفوجی ہسپتال پر  داعش کے حملے میں 38 افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت میں  ملٹری اسپتال پر دہشت گردوں کے حملے میں38 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے جب کہ فورسز کے آپریشن میں 4 حملہ آور مارے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارتخانے کے قریب ملک کے سب سے بڑے سردار داؤد خان ملٹری اسپتال پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔

افغان ملٹری اسپتال حملے میں مرنے والوں کی تعداد 49 ہوگئی۔حکام کے مطابق مرنے والوں اور زخمیوں میں ڈاکٹرز، مریض اور اسپتال کا عملہ شامل ہیں، 4مسلح دہشتگردوں نے گزشتہ روز ملٹری اسپتال پر حملہ کیا تھا۔

http://urdu.geo.tv/latest/160946-attack-on-afghan-military-hospital-death-toll-rises-to-49

افغان میڈیا کے مطابق پہلے اسپتال کے گیٹ پر زور دار دھماکا ہوا جس کے بعد ڈاکٹرز کا روپ دھارے دہشت گرد اسپتال میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔یہ کارروائی چھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد اختتام کو پہنچی اور وزارتِ داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی نے بتایا کہ افغان فوج کے خصوصی دستوں نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ہسپتال کے ایک میل نرس عبدالقدیر نے اے ایف پی کو بتایا، ‘میں نے ایک حملہ آور کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھا، جو اے کے 47 رائفل کے ذریعے مریضوں اور گارڈز پر فائرنگ کر رہا تھا’۔افغان وزارت دفاع کے مطابق کابل اسپتال حملے میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مریض، ڈاکٹرز اور نرسز شامل ہیں۔

داعش نے کابل کے ملٹری اسپتال پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ اس حملے نے انسانی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام مذاہب میں ہسپتال کو حملوں سے محفوظ مقام قرار دیا گیا ہے اور اس پر حملہ کرنا پورے افغانستان پر حملہ کرنا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں نے انسانیت کو للکارا ہے۔انھوں نے کہا کہ مشکل وقت میں افغان عوام کے ساتھ ہیں، عوام حوصلے سے کام لے۔

خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل

 اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔  داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔ ہسپتال پر حملہ اور بے گناہ مریضوں ،نرسوں اور ڈاکٹروں کا ناحق قتل خلاف اسلام ہے۔

کوئی گروہ یا شخص خود سے جہاد کا اعلان نہیں کر سکتابلکہ یہ اختیار صرف حکومتِ وقت کو حاصل ہے کہ وہ جہاد کرنے کےلیے باقاعدہ اعلان کرے۔ داعش کی قتل و غارت گری کو نہ تو جنگ کا نام دیا جا سکتا ہے اور نہ جہاد کا کیونکہ نہ صرف اسلام بلکہ دنیا کے ہر قانون نے جنگ کے کچھ اصول وضع کر رکھے ہیں اور داعش کے اقدامات ان تمام قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

 

Advertisements