طالبان دہشتگردوں کی دہشتگردی


طالبان دہشتگردوں کی دہشتگردی

دہشت گردی کی سادہ سی تعریف کچھ اس طرح ہے: دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گرد، دہشت گردی کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا کر خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ حکو مت کو دباو میں لا کرحکومت سےاپنے مطالبات منوا لیں۔

لاقانونیت، بدامنی، افراتفری و نفسا نفسی سے دہشت گرد ہمیشہ فائیدہ اٹھانے کے چکر میں ہوتے  ہیں ۔ دنیا کی کوئی  ریاست مسلح عسکریت پسندوں  و دہشت گردوں کو اس بات کی اجازت نہ دے سکتی ہے  کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں کیونکہ ایسا کرنے سے  ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی . دہشت گردوں نے پاکستان کے عام شہریوں کے خون سے بھی جی بھر کے ہاتھ رنگے اور ابھی تک رنگ رہے ہیں۔

جہاد و قتال  تو الہہ تعالی کی خشنودی و رضا حاصل کرنے کے لئے الہہ کی راہ میں کیا جاتا ہے۔ ذاتی بدلہ لینا قبائلی روایات اور پشتون ولی کا حصہ تو ہو سکتا ہے مگر جہاد نہیں ہے۔ اسلام میں حکم جہادکے متعلق مکمل ایک ضابطہ موجود ہے۔اسلام صرف غیرمسلموں سے جہاد کاحکم نہیں دیتا بلکہ اگر مسلمان بھی حکم الٰہی سے روگردانی اختیار کریں تو انھیں بھی بخشا نہیں جائے گا۔مثلاًوصال رسول ﷺ کے بعد کئی لوگوں نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کیا توسیدناصدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے ان کے خلاف اعلان جنگ بلندکیا۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ جلددوم کتاب الطہارت میں تحریر فرماتے ہیکہ’’امام الفقہاء امام المحدثین سیدناعبداﷲ ابن مبارک علیہ الرحمہ نے فرمایا:اگر بستی کے لوگ سنّت مسواک کے ترک پر اتفاق کریں تو ہم ان پراس طرح کا جہاد کریں گے جیسا مرتدوں پر کرتے ہیں تاکہ لوگ اس سنّت کے ترک پرجرأت نہ کریں۔(فتاوی رضویہ)۔

معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔

 اسلام سے متعلق طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ شیعہ اور بریلوی حنفی مسلمانوں کو وہ مسلمان نہ جانتے ہیں۔ طالبان ،جاہلان جہاد اور قتال کے فرق کو اور ان سے متعلقہ تقاضوں سے کماحقہ واقف نہ ہیں۔

قرآن کریم میں مفسد فی الارض اور محارب جو کہ دوسروں کی جان اور مال کو خطرہ میں ڈالتے ہیں ،کے لئے بہت سخت احکام بیان ہوئے ہیں ، اسی بات سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام ہمیشہ دہشت گردی سے پرہیز کرتا ہے اور اسلام کے عظیم قوانین پر عمل کرنے سے معاشرہ کو دہشت گردی سے چھٹکارا ملتا ہے۔ (سورہ مائدہ ، آیت ۳۲) ۔ جو شخص کسی نفس کو …. کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔ اس آیت سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ جواسلام اور قرآن کے نام پر دہشت گردانہ حملے کرتے ہیں وہ جائز نہیں ہیں۔

 طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں ،اس لئے وہ سب دوسرے مسلمانوں کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔ مزید براں طالبان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔ طالبان اقلیت میں ہونے کے باوجود اکزیتی فرقوں کے لوگوں کو بندوق کے زور پر یرغمال بنائے بیٹھے ہیں۔

ایک حدیث رسول کے مطابق جس میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے. طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستان  میں کون شخص یا طبقہ محفوظ ہے ؟

طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں  نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے، 50 ہزار کے قریب  معصوم اور بے گناہ  لوگ اپنی جان سے گئے جن میں پانچ ہزار سے زائد سیکورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں.. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔

دہشت گردی ایک ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ، دہشت گرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا اسلام اور پاکستان دشمنی ہے۔طالبان پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے میزبان ہیں۔

قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔

معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، تعلیمی اداروں ،طالبعلموںاور اساتذہ  اور مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے۔

سنی اتحاد کونسل سے وابستہ 50 مفتیوں نے دہشت گردی کے تازہ واقعات کے تناظر میں خودکش حملوں، قتل ناحق، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسلام میں خودکش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اور غیرملکی مہمانوں کو ہلاک کرنا بدترین جرم ہے۔ مسجدوں، مزاروں، ہسپتالوں، جنازوں، تعلیمی اداروں، مارکیٹوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے جہاد نہیں فساد ہیں۔ بے گناہ طالبات، غیرملکی کوہ پیماﺅں اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں، دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جنت میں نہیں جائینگے۔ حکومت کی اسلام مخالف اور غلط پالیسیوں کی سزا بے گناہ شہریوں کو دینا خلافِ اسلام ہے۔پاکستان میں فساد برپا کرنے والے عہد حاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز اور اموال کو حلال قرار دیتے ہیںدہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں جاں بحق ہونیوالے فوجی، پولیس اہلکار اور دوسرے افراد شہید اور قوم کے ہیرو ہیں۔ پاکستانی طالبان اسلامی جہاد کی شرائط، ضابطوں اور اسلام کی تعلیمات کو پامال کر رہے ہیں۔ اسلام جنگ کے دوران بھی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے اور جانوروں اور درختوں کو بھی نقصان نہ پہنچانے کی ہدایت کرتا ہے۔اسلام اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ پرامن شہریوں کو دوسرے ظالم افراد کے ظلم کے بدلے سزا دی جائے۔

Advertisements