امن مذاکرات کیلئے پاکستان کی افغان طالبان رہنماﺅں سے بات چیت


امن مذاکرات کیلئے پاکستان کی  افغان طالبان رہنماں سے بات چیت

افغان حکومت سے امن مذاکرات پر قائل کرنے کیلئے پاکستانی حکام نے یہاں گزشتہ ہفتے 7 طالبان رہنماﺅں سے بات چیت کرلی۔ امن مذاکرات اپریل میں ماسکو میں ہونگے جس میں پاکستان، چین، افغانستان، ایران اور بھارت کے نمائندے شامل ہونگے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق اسلام آباد نے عالمی دباؤ کے تحت پاکستان میں رہائش پذیر ان طالبان رہنماؤں کو کابل کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے جنہوں نے افغانستان پر 2001 میں امریکی حملے کے بعد پاکستان میں رہائش اختیار کرلی تھی۔

جن طالبان سے بات چیت ہوئی ہے، ان میں ملا عباس، ملا عامر خان متقی، ملا ترابی، ملا سعد الدین، ملا داﺅد، یحییٰ اور لطیف منصور شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ملا عباس جولائی 2015ء میں افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں بھی شریک تھے۔ پاکستان میں رہائش پذیر طالبان کو مذاکرات پر قائل کرنے کیلئے اسلام آباد پر دباﺅ بڑھایا جاتا رہا ہے۔ ماسکو میں مذاکرات کرانے کیلئے پاکستان، چین اور روس کوشاں ہیں۔ گزشتہ ہفتے مذاکرات کے دوران طالبان رہنماﺅں نے مطالبات پیش کئے ہیں جن میں پاکستان میں طالبان کی رہائی بھی شامل ہے۔ ادھر عالمی برادری نے بھی افغانستان میں امن کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں کیونکہ طالبان نے 2014ءکے بعد افغانستان میں حملے بڑھا دیئے ہیں۔

داعش کی جانب سے خطے میں قدم جمانے کے خطرے اور طالبان کے ساتھ جنگ کے طول پکڑ جانے کی وجہ سے افغانستان کی خراب سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری نے افغانستان کے لیے ایک پر امن حل تلاش کرنے کی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔

ان کوششوں سے بظاہر ماسکو اور بیجنگ کو کچھ کامیابی ملی ہے اور اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے افغان طالبان رہنماؤں کے نام دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ امن مذاکرات میں حصہ بننے کے لیے اقوام متحدہ کی دہشت گرد فہرست سے ناموں کا اخراج افغان طالبان کا دیرینہ مطالبہ ہے۔

مذاکرات میں طالبان کے اتحادی حقانی نیٹ ورک گروپ کے سینیئر رکن یحیٰ اور طالبان قیادت کی کونسل کے سیکریٹری لطیف منصور نے بھی شرکت کی۔

جنگ مسائل کا حل نہ ہےاور یہ مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔ سیاسی تصفیے کے لیے امن مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے۔

طالبان کو بالاآخر مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہی ہو گا۔ افغانستان میں مسلسل خانہ جنگی، خودکش حملے، تباہی و بربادی اور ہر روز بے شمار معصوم اور بے گناہوں لوگوں، عورتوں اور بچوں کا طالبان کے ہاتھوں ناحق قتل ،طالبان پر جنگ کو ختم کرنے سے متعلق عوامی دباو میں اضافہ کر رہا ہے اور طالبان ایک لمبے عرصہ تک اس دباو کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہ ہیں۔
طالبان کو بھی زمینی حقائق کا ادراک ہونا چاہئے کیونکہ لمبی خانہ جنگی اور آئے روز کی بڑہتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ سے افغانستان کے لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق مایوس ہیں اور وہ جنگ سے بھی تنگ آچکے ہیں اور امن کو موقع دینے کے خواہاں ہیں۔ طالبان کو مذاکرات میں شامل ہو کر ، اورافغانستان کے آئندہ سیاسی عمل میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ ایسے مواقع تاریخ بار بار بہم نہ پہنچاتی ہے۔ یہ موقع کھونے سے طالبان پیچھے رہ جائیں گے اور ان کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔

افغان امور کے ماہر جناب رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق افغانستان کا معاملہ کئی سال پرانااور پیچیدہ ہے۔اس میں کئی عناصر ملوث ہیں۔،گورنمنٹ،نان سٹیٹ ایکٹرز اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ جلد حل ہو جائے گا،یہ اس کی خام خیالی ہوگی۔
اس پیچیدہ مسئلہ کے دیرپا حل کیلیے اصل فریقین یعنی افغان حکومت اور طالبان کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا، دونوں فریقین کوانتہائی سنجیدگی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کئی سال سے بدامنی و خانہ جنگی کے شکار،افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموارہوسکے۔طالبان کو بھی ان مذاکرات میں بلاکسی شرط ،شامل ہو کر اس کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے فریقین کے رویوں میں لچک ضروری ہے دونوں فریقوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے رویوں میں لچک نہ ہونے کے باعث انہیں عالمی رائے عامہ کے عدم اعتماد اور برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Advertisements