پارا چناردھماکہ میں 24افراد شہید، سے55 زائد زخمی


پارا چناردھماکہ میں 24افراد شہید، سے55 زائد زخمی

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی کرم ایجنسی میں دھماکے کے نتیجے میں 24بے گناہ افراد ہلاک جبکہ 55 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔شہر کے وسط میں نور مارکیٹ کے قریب واقع مرکزی امام بارگاہ کےدروازے پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا گیا ، دھماکے کی جگہ سے مارٹر کا ٹکرا بھی ملا ہے ۔ہسپتال ذرائع نے دھماکے کے نتیجے میں 24 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جبکہ پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق 55 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ چند حملہ آوروں نے بازار سے کچھ فاصلے پر موجود پھاٹک پر لیویز اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے بعد بازار میں دھماکا ہوا۔

اطلاعات کے مطابق دھماکا کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پاراچنار کے نور بازار میں ہوا، یہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر کا مصروف ترین علاقہ ہے، جہاں بہت سی دکانیں ہیں جبکہ اسی علاقے میں امام بارگاہ بھی موجود ہے۔

وزیراعظم نواز شریف اور وزیرداخلہ چوہدری نثار نے دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام اداروں کو ہنگامی اور موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو نکالنے کے لئے آرمی ایویکیوشن یونٹ سے تعلق رکھنے والے ہیلی کاپٹرجائے وقوعہ پر بھیجے،زخمیوں میں سے 20افراد کو سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیا گیا ہے ،جن میں سے 7کی حالت تشویشناک ہے ۔

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ دھماکا خودکش تھا جبکہ حملے سے قبل فائرنگ بھی کی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ دھماکا بازار کے مصروف علاقے میں ہوا، اس کا نشانہ مسجد بھی ہوسکتی تھی۔

شدت پسند تنظیم پاکستان جماعت الاحرار کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39440830

خیال رہے کہ کرم ایجنسی فرقہ وارانہ جھڑپوں کی وجہ سے انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ماضی میں فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام میں خود کش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے۔

اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ جماعت احرار گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔عورعتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی ممنوع ہے اور یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

جماعت احرار جان لیں کہ وہ اللہ کی بے گناہ مخلوق کا قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول(ص) کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. دہشتگردوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ خودکش حملے  اور بم دہماکےکر کے غیرشرعی اور حرام فعل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

یہ شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں ۔ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے  ۔ جماعت احرار   کا طرز عمل ، جہاد فی سبیل کے اسلامی اصولوں اور شرائط کے منافی ہے۔

اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جماعت احرار اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جہاد نہ کر رہے ہیں۔دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردوں کی ایک تعداد ضرب عضب کے علاقوں سے فرار ہو کر مختلف علاقوں میں چھپ گئی‘ اب ان دہشت گردوں کی باقیات وقفے وقفے سے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی واردات کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔

 

Advertisements