کرم ایجنسی میں مسافر وین کے قریب دھماکا ، بچوں اور عورتوں سمیت 14افراد شہید


کرم ایجنسی میں مسافر وین کے قریب دھماکا ، بچوں اور عورتوں سمیت 14افراد شہید

کرم ایجنسی کے علاقے گودر میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے سے 4بچوں اور 5 خواتین سمیت14افراد شہید اور 9 زخمی ہو گئے ۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے کا نشانہ بننے والی بس گودر سے پاراچنار جارہی تھی کہ راستے میں بارودی سرنگ کی زد میں آگئی۔ انتظامیہ کے مطابق مسافر گاڑی میں 23 افراد سوار تھے اور دھماکے میں مارے جانے والے تمام افراد عام شہری تھے۔

 

اے آر وائے نیوز کے مطابق کرم ایجنسی میں دہشتگردوں نے سڑک کنارے نصب بم سے مسافر وین کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں  سمیت 14مسافر شہید اور 9زخمی ہو گئے جنہیں تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔مسافر وین گودر سے سدہ جا رہی تھی کہ راستے میں حادثے کا شکار ہو گئی۔دھماکے کے بعد امدادی کاموں میں حصہ لینے کیلئے پاک فوج کا ایم آئی 17ہیلی کاپٹر پارا چنار پہنچ گیاہے تاکہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا سکے ۔

کالعدم جماعت الاحرار نے کرم ایجنسی میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ، گزشتہ روز مسافر وین کے قریب ہونے والے دھماکے میں 14افراد شہید ہوئے تھے۔”اے آر وائے نیوز “ کے مطابق جماعت الاحرار نے وسطی کرم کے علاقے گاودر میں صبح سویرے سڑک کنارے نصب بم سے مسافر وین کو نشانہ بنانے اور اس کے نتیجے میں 14 افراد کی شہادت کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔

وزیراعظم نوازشریف نے کرم ایجنسی میں مسافربس پرحملے کی مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کااظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو ہرممکن بہترطبی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔

ادھر وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

ضماعت احرار کی دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. ۔اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے ۔معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ عورتوں اور بچوں کا قتل ،اسلام میں ، حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔

جماعت احرار  اور طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو 28 ارب 45 کروڑ 98 لاکھ ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا۔

 دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔ یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ جہاد کے لئے یا دفاع کے لئے اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اوراستحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعا اجازت نہ ہے۔

اسلام امن،برداشت اور بھائی چارہ کا دین ہے۔جماعت احرار اور طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ہے۔جماعت احرار  کا نام نہاد جہاد ،اسلامی جہاد کے خیال کی نفی کرتا ہے.اسلام میں عورتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔

 

Advertisements