مصالحے دار کھانے مختلف امراض کے لئے فائدہ مند


مصالحے دار کھانے مختلف امراض کے لئے فائدہ مند

مصالحے دار کھانے ذیابیطس اور قولون کے ورم کی روک تھام کے علاوہ غذائی نالی سے جڑے امراض اور دیگر امراض کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

کنیکٹیکٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق مرچوں میں پائے جانے والے کیمیکل کیپسیکن معدے کے ورم سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران چوہوں کو یہ کیمیکل استعمال کرایا گیا جس سے یہ نتیجہ سامنے آیا۔محققین کا کہنا تھا کہ  کیکیپسیکن ایک ریسیپٹر ٹی آر پی وی 1 کو حرکت میں لاتا ہے جو  غذائی نالی کے خلیات میں پایا جاتا ہے۔

ان کے بقول جب یہ ریسیپٹر حرکت میں آتا ہے تو خلیات anandamide نامی جز بنتا ہے جو کہ جسمانی دفاعی نظام کو پرسکون کرتا ہے۔anandamide ریسیپٹرز دماغ میں بھی پائے جاتے ہیں اور محققین کے خیال میں دفاعی نظام اور دماغ ایک دوسرے سے اس کے ذریعے ہی بات کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق جسم میں اس جز کی مقدار میں اضافہ ایسے خلیات کی تعداد بڑھاتا ہے جو کہ ورم کو کنٹرول کرتے ہیں۔محققین نے تحقیق کے دوران ٹائپ ون ذیابیطس کے شکار چوہے کا علاج بھی مرچیں کھلا کر کیا۔

یہ جنسی امراض کے لئے بھی بڑی مفید ہوتی ہے۔ مرچ کو ادرک کے ساتھ ملا کر کھانے سے کینسر کے مرض سے افاقہ ہوتا ہے۔

حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے کھانوں میں شامل ہونے والے متعدد مصالحے یا جڑی بوٹیاں متعدد طبی فوائد کی حامل ہیں اور اگر آپ ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو درج ذیل مصالحے اپنی روزمرہ کی خوراک میں لازمی شامل کریں۔

دارچینی

دار چینی بریانی، قیمہ اور دیگر مزیدار کھانوں میں شامل کی جاتی ہے بلکہ اسے کچھ میٹھے پکوان اور چائے وغیرہ تک میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ خوشبودار مصالحہ مینگنیز اور ایسے کیمیائی اجزاءسے بھرپور ہوتا ہے جو ہڈیوں، پٹھوں اور ٹشوز وغیرہ کی نشوونما کے لیے فائدے مند ہوتے ہیں، اس کے علاوہ یہ جوڑوں کے درد کے شکار افراد کے لیے بھی بہترین دوا ہے۔

دارچینی کا مستقل استعمال شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور جسم میں بیکٹیریا کے خلاف مدافعت بڑھاتا ہے۔

میتھی

میتھی کو سفوف یا پاﺅڈر کی شکل میں سالن اور دالوں وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے، اس کے مستقل استعمال سے جسم میں خراب کولیسٹرول اور مضر صحت چربی کی شرح کم ہوتی ہے اور دل کے امراض یا ذیابیطس کے شکار افراد میں بلڈ شوگر کی سطح معمول پر رہتی ہے۔

رات کو سونے سے پہلے ایک گرام میتھی کو پانی میں بھگو کر صبح اٹھ کر پی لینے سے جسمانی وزن بھی کم ہوتا ہے۔

سونف

سونف عام طور پر روٹی اور کیک وغیرہ پر پکانے سے پہلے بکھیری جاتی ہے جبکہ پلاﺅ اور سبزیوں وغیرہ کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے، تاہم اس میں شامل اجزاء بینائی کی کمزوری اور موتیہ وغیرہ کی روک تھام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

سونف کی چائے کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس سے دماغی افعال میں بہتری آتی ہے، مایوسی کم ہوتی ہے اور ڈیمنشیا جیسے مرض کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔

زیرہ

زیرہ کھانوں کا ذائقہ تو بڑھاتا ہی ہے مگر اس کا مستقل استعمال خون کے صحت مند خلیات کو نشانہ بنانے والے اجزاءکی مقدار بھی کم کرتا ہے۔

اسی طرح اس کا روزانہ استعمال جگر کو زہریلے اثرات دور کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جبکہ گرم پانی کے ساتھ ایک چمچ زیرہ کو نگلنے سے نظام ہاضمہ اور پیٹ کے درد میں بہتری آتی ہے۔

ہلدی

ہلدی ہر طرح کے کھانوں کا رنگ روپ سنوارنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے مگر یہ وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے اور اس میں سوجن یا ورم اور کینسر کی روک تھام جیسی خوبیاں بھی موجود ہیں۔

ہلدی کا جوس عالمی سطح پر اپنے اینٹی آکسائیڈنٹ خوبی کی وجہ سے بہت مقبول ہے جس سے دل کی شریانوں سے متعلق امراض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

Advertisements