افغان صوبے پروان کے مدرسہ میں دھماکہ سےعلماءکونسل کے سربراہ سمیت8 طالبعلم جاں بحق


افغان صوبے پروان کے مدرسہ میں دھماکہ سےعلماءکونسل کے سربراہ سمیت8 طالبعلم جاں بحق

افغانستان کے صوبے پروان کے مدرسے میں دھماکے سےصوبائی علماءکونسل کے سربراہ سمیت 8 طالبعلم جاں بحق ہوگئے ۔ یہ واقعہ چراکر شہر میں ہوا ۔ افغان میڈیا کے مطابق دھماکہ مدرسے کے اندر کلاس روم میں ہوا جس سے علماءکونسل کے مولوی عبدالرحیم شاہ حنفی سمیت 8 طالبعلم جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں ۔دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق صوبے کے نائب گورنر شاہ ولی شاہد نے اس بات کی تصدیق کی کہ مدرسے کے اندر ہونے والے دھماکے میں پروان علماء کونسل کے سربراہ مولوی عبدالرحیم حنفی ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں مولوی عبدالرحیم کو ہی نشانہ بنایا گیا جو کہ منگل کی صبح صوبائی دارالحکومت چراکر کے ایک مدرسے میں ہوا۔دھماکے کے وقت مدرسے میں متعدد بچے حصول تعلیم میں مصروف تھے۔ شاہ ولی شاہد نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’دہشتگردانہ عمل‘ قرار دیا اور کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ بم کس طرح کلاس کے اندر لایا گیا۔

دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.معصوم اور بے گناہوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔ عورتوں اور بچوں کو حالت جنگ میں بھی قتل نہ کیا جا سکتا ہے۔
طالبان کایہ عمل جہاد نہ ہے اور ایسے جہاد کو جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ کہا جاتا ہے کیونکہ جہاد کرنا حکومت وقت اور ریاست کی ، نا کہ کسی گروہ یا جتھے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ مزید براں جہاد اللہ کی خاطر ، اللہ کی خوشنودی کے لئے کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی جہاد اللہ کی راہ میں الہہ کی خوشنودی کےل ئے کیا جاتا ہے۔
جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئےہوتا ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔

حدیث رسول مقبول ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔

 

 

Advertisements