افغان طالبان نے صوبہ غزنی میں ہر قسم کے سپورٹس کھیلنے پر پابندی لگا دی


افغان طالبان نے صوبہ غزنی میں ہر قسم کے  سپورٹس کھیلنے پر پابندی لگا دی

افغان میڈیا کے مطابق  اٖفغان طالبان نے جنوبی صوبے غزنی میں کرکٹ سمیت ہر قسم کی سپورٹس کھیلوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ عوامی شکایات کی بنا پر صرف دیہی علاقوں میں کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ایک مقامی نوجوان صاحب خان کا کہنا ہے کہ اندار ضلع میں طالبان کی جانب سے ہر قسم کے کھیل پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ کچھ روز پہلے ہم کرکٹ کھیل رہے تھے کہ ایسے میں طالبان جنگجو آئے اور ہمارا سارا سامان ضبط کرلیا۔ اب نوجوان لڑکے کرکٹ، فٹ بال،والی بال اور دوسری کھلیں ، طالبان کے زیر تسلط علاقوں میں نہ کھیل سکتے ہیں۔علاقے کے لوگوں نے ان طالبانی پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ طالبان چاہتے ہیں کہ آئندہ کو ئی بھی یہاں گیم نہ کھیلے۔

عبدالرحمن جو کہ ڈھک یاک ضلع کے علاقہ سلیمان زئی کا رہنے والا ہے ،بتایا کہ  والی بال ان کے گاوں کا ایک پسندیدہ کھیل ہے اور وہ دوسرے گاوں سے اس کھیل کا مقابلہ بھی کیا کرتے تھے تھے مگر طالبان کی حالیہ پابندی نے اس کھیل کو بند کر دیا ہے۔ رحمن کے مطابق   Deh Yak, Giro, Zana Khan, Rashidan, Ajiristan, Gilan, Qarabagh and Andar ضلع میں تشدد پسند طالبان نے تمام سپورٹس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محمداللہ جو کہ غزنی شہر سے تعلق رکھتا ہے کہا ہے کہ نوجوانوں میں کرکٹ کھیلنے کے شوق و ذوق میں اضافہ ہوا تھا۔ یاد رہے حال میں افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم نے دنیا میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں اور مختلف علاقوں میں کھیلنے والے قومی کھیلوں کی نرسریوں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد جو کہ طالبان کے ترجمان ہیں نے کہا ہے کہ طالبان  نے بعض دیہی علاقوں کے مکینوں کی شکایت پر کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی ہے۔ مگر انہوں نے اسی سانس میں کہا کہ طالبان نے کرکٹ کھیلنے والوں کو کہا ہے کہ وہ گاوں سے باہر  کھلے میدان میں کرکٹ کھیلیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طالبان بھی کرکٹ اور دوسری سپورٹس کے کھلنے کی پابندیوں سے انکاری نہ ہیں۔

 یاد رہے کہ ان طالبان نے لڑکیوں کے سکول جانے پر بھی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور یہ آئے روز سکولوں اور ہسپتالوں کو دہماکہ سے بھی اڑاتے رہتے ہیں۔

پاکستان کے سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے افغان خبر رساں ادارے کی یہ خبر سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی اور ساتھ ہی افغان طالبان کو دھمکی بھی دے دی۔ حامد میر نے کہا کہ طالبان نوجوانوں کو غزنی میں کرکٹ کھیلنے کی اجازت دیں نہیں تو میں ان تمام طالبان لیڈرز کے نام بے نقاب کردوں گا جو چپکے چپکے اور چھپ چھپ کر کرکٹ کھیلتے ہیں۔ اس سے طالبان کی دوغلی پالیسیوں بے نقاب ہوتی ہیں۔

طالبان نے ایک طویل عرصہ سے افغانستاں کے عوام پر  ہولناک جنگ مسلط کی ہوئی ہیں اور ان معصوم عوام کے پاس دن رات گولہ بارود کی بو اور معصوم و بے گناہ افراد کے بے رحمانہ اور بزدلانہ قتل و خون کے نظاروں اور خبریں دیکھنے و سننے کے علاوہ دیکھنے،کھیلنے و کو دنے اور کرنے کو کچھ بھی نہ ہے یہ سپورٹس ان نوجوانوں کو ایک طرح کی تفریح مہیا کرتی تھی اور جو ان کی نفسیاتی، ذہنی و جسمانی نشوو نما کرتی تھی اور  نفسیاتی صحت و بہبود میں ممد و معاون  بھی ہے، اس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اب ان نوجوانوں کے پاس کچھ بھی نہ بچا ہے۔

ر اقم کے خیال میں طالبان کی اس پابندی کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ نوجوان بجائے کھیلیں کھیلنے کےطالبان کی باغیانہ و دہشتگرد سرگرمیوں میں ،طالبان کا ساتھ دیں۔ اس طرح طالبان  افغان نوجوانوں کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو زبردستی دہشتگردی کی طرف دہکیل رہے ہیں جس کی ان کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ افغان طالبان کی افغان نوجوانوں کے بر خلاف گیمز کھیلنے پر  پابندیاں ،انسانیت کے خلاف  جرائم کے زمرہ میں آتی ہیں۔

 

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s