مانچسٹر خودکش دھماکا،22 بے گناہ افراد ہلاک


مانچسٹر خودکش دھماکا،22 بے گناہ افراد ہلاک

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں واقع برٹش ایرینا میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 22 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ گریٹ مانچسٹر پولیس کے چیف کانسٹیبل ایان ہوپکنز کا کہنا ہے کہ مرد حملہ آور دھماکا خیز مواد ساتھ لے کر ایرینا میں داخل ہوا تھا، جو خود بھی دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔

چیف کانسٹیبل کے مطابق ‘فرانزک تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس بات کا علم لگایا جاسکے کہ حملہ آور کے ساتھ کوئی ساتھی بھی موجود تھا یا نہیں’۔ایان ہوپ کنز کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں بچے بھی شامل ہیں تاہم انہوں نے متاثرین اور حملہ آور سے متعلق مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حملے کی ذمہ داری شدت پسند داعش نے قبول کرلی ہے جبکہ مزید حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

https://www.dawnnews.tv/news/1058279/

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ مانچسٹردھماکا دہشت گردی کی کارروائی ہے جب کہ دھماکہ شمالی انگلینڈ پرہونے والا بدترین حملہ ہے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے مانچسٹردھماکے پر میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مانچسٹردھماکا دہشت گردی کی کارروائی ہے، جس میں معصوم بچوں اورنوجوانوں کونشانہ بنایا گیا، یہ واقعہ شمالی انگلینڈ پرہونے والا بدترین حملہ ہے، ہماری تمام ہمدردیاں دھماکے میں مرنے والوں کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں جب کہ کنسرٹ میں دھماکا بیمار ذہنوں کی بزدلانہ کاروائی ہے۔برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ پولیس حملہ آوروں تک پہنچ چکی ہے، مانچسٹرمیں سیکیورٹی میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا ہے، سکیورٹی اہلکاروں اور امدادی کارکنوں نے کمال بہادری دکھائی جب کہ دھماکے میں معصوم بچوں اورنوجوانوں کونشانہ بنایا گیا۔

https://www.express.pk/story/824850/

حکام کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں 12 بچوں کی عمریں 16 سال سے کم ہے۔

http://www.bbc.com/urdu/world-40010470

آج کی دنیا میں دہشتگردی ایک عالمگیر عفریت بن گئی  ہے اور یورپ سمیت دنیا کا کوئی ملک  بھی دہشتگردوں کے خود کش حملوں  اور دہشتگردی سے محفوط نہیں۔ تمام  عالمی قوتوں کو دہشتگردی کے سدباب کے لیے سر جوڑ کراس مسئلہ کے سد باب کے لئے سوچنا ہو گا۔

خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور اسے حرام قرار دیا گیا ہے ۔

خود کش حملہ قابل مذمتہے اور اسلام بے گناہ انسانیت کے قتل جیسے جرائم سے بری ہے ، مسلمانوں اور اسلام کابے گناہ انسانیت کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے ، اور ایسا کرنے والے اسلام اور مسلمانوں کے دوست نہیں  بلکہ دشمن ہیں۔

جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں اور بچوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔

اسلامی شریعہ کے مطابق بچوں اور عورتوں کو حالت جنگ میں بھی نہ قتل کیا جا سکتا ہے۔ عورتوں اور بچوں کے قاتل اسلامی احکام کی حکم عدولی کے مرتکب ہیں۔

دہشتگردی انسانیت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھری ہے۔غیر جنگجووں کے قتل کی بھی اسلام میں ممانعت ہے۔

داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل  اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔

 داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔

 

 

Advertisements