کابل بم دھماکے میں 90 افراد ہلاک، 463 زخمی


کابل بم دھماکے میں 90 افراد ہلاک، 463  زخمی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جرمن سفارتخانے کے قریب خوفناک بم دھماکے میں 90افراد ہلاک اور 463زخمی ہو گئے ۔دھماکے میں درجنوں گاڑیاں تباہ ہوگئیں جبکہ متعدد عمارتوں اور دکانوں بھی نقصان پہنچا ۔دھماکے میں فرانسیسی اور جرمن سفارت خانوںکی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔ بم حملے کے بعد جائے وقوعہ پر ہر طرف آگ اور خون پھیل گیا جبکہ آسمان پر دھوئیں کے بادل چھاگئے، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو منتقل کرتے دکھائی دیے ۔

افغان حکام کے مطابق یہ دھماکہ بدھ کی صبح آٹھ بج کی بیس منٹ پر وزیر اکبر خان نامی علاقے میں ہوا جسے شہر کا سفارتی علاقہ سمجھا جاتا ہے.حملے کے وقت لوگ اپنے کام پر جارہے تھے اور سفارتی علاقے میں لوگوں کا ہجوم تھا ۔

http://search.jang.com.pk/print/323784-todays-print

بتایا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کسی ٹرک یا پانی کے ٹینکر میں لایا گیا تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ شہر کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں یہ گاڑی کیسے پہنچی۔

افغان وزارتِ صحت کے اہلکار اسماعیل کاؤسی نے بتایا ہے کہ دھماکے میں اب تک 80 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ زخمیوں کی تعداد 350 سے زیادہ ہے۔

سپتال ذرائع کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان بصیر مجاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’بم حملہ جرمنی کے سفارتخانے کے قریب ہوا لیکن اس علاقے میں کئی دوسری اہم عمارتیں اور دفاتر ہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ حملہ آور کا ہدف کیا تھا۔

اس واقعے کو اس سال افغانستان میں ہونے والی سب سے بڑی دہشت گردی کی کارروائی بھی قرار دیا جارہا ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں آنے والے گھنٹوں کے دوران مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اب بھی کئی زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

اس کاروائی پر حقانی نیٹ ورک کی چھاپ دکھائی دیتی ہے کیونکہ وہ کابل اور کابل کے اطراف میں حملے کرنے کے ماہر ہیں اور ماضی میں بھی اس طرح کے حملے کرتے رہے ہیں۔

طالبان کے خودکش حملے، دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا .معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب خلاف شریعہ ہے۔یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ بچوں اور عورتوں کو حالت جنگ میں بھی قتل نہ کیا جا سکتا ہے، نیز یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ طالبان کو رمضان کے مقدس مہینہ  کے تقدس کا کوئی خیال نہ ہے۔
علمائے اسلام ایسےنام نہاد جہاد کوفی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ کہتے ہیں۔طالبان کےانتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنےمعصوم و بے گناہ لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مزید براں سفارتخانوں پر حملہ اسلامی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔

Advertisements