ماہ رمضان کے فضائل


ماہ رمضان کے فضائل

یا أیّھا الّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون .
ترجمہ:اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ۔

ماہ رمضان ، جس کی آمد آمد ہے،نیکیوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، خدا کی رحمتوں اور عنایتوں کا مہینہ، عفو ودرگزر اور دوزخ سے نجات کا مہینہ ہے اور اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ مسلمان کواجرو ثواب دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور برکتیں اس ماہ میں ہم پر سایہ فگن ہوتی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہیں اسی سلسلے میں رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ ـ” جس نے روز رکھا ایمان اور احتساب کے ساتھ اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیںگے۔

رسول اکرم کا ارشاد ہے:
” لوگو ! خدا کا مہینہ برکت و رحمت اور مغفرت کے ساتھ تمہاری طرف آ رہا ہے وہ مہینہ جو خدا کے نزدیک بہترین مہینہ ہے جس کے ایام بہترین ایام جس کی راتیں بہترین راتیںہیں اور جس کی گھڑیاں بہترین گھڑیاں ہیں ، (اس مہینہ میں ) تمہاری سانسیں ذکر خدا میں پڑھی جانے والی تسبیح کا ثواب رکھتی ہیں تمہاری نیندیں عبادت ، اعمال مقبول اور دعائیں مستجاب ہیں اپنے پروردگار کے سامنے سچی نیتوں اور پاکیزہ دلوں کے ساتھ روزہ رکھنے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی توفیق کی دعا کرنی چاہئے وہ شخص بڑا بدقسمت ہے جو اس عظیم مہینے میں خداکی ان برکات سے بہرہ مند نہ ہو سکے“۔

حضرت عبداﷲبن عمر سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ا نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ ۱۔ گواہی دینا کہ اﷲ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور بے شک حضرت محمد ا اﷲ کے رسول ہیں ۔ ۲۔ نماز قائم کرنا ۳۔زکاة ادا کرنا ۔ ۴۔ رمضان المبارک کے روزے رکھنا ۔ ۵۔ بیت اﷲ کا حج کرنا۔

روزہ گناہوں سے بچنے کےلئے ڈھال ہے ، اس سے انسان شہوانی خیالات اور گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ ہوجاتا ہے ۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود سے روا یت ہے کہ رسول اﷲ انے ارشاد فرمایا :
”اے نوجوانوں کی جماعت : جو شخص شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ شادی کرلے کیونکہ شادی سے نگاہ نیچی رہتی ہے اور شرم گاہ محفوظ ہوجاتی ہے۔ اور جس میں شادی کرنے کی استطاعت نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے ۔ روزے اس کےلئے گناہوں کے مقابلے میں ڈھال ہیں۔

اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن قید کردئیے جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، پس اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا، اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، پس اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا، اور ایک منادی کرنے والا (فرشتہ) اعلان کرتا ہے کہ: اے خیر کے تلاش کرنے والے! آگے آ، اور اے شر کے تلاش کرنے والے! رُک جا۔ اور اللہ کی طرف سے بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کردیا جاتا ہے، اور یہ رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔” (احمد، ترمذی، ابنِ ماجہ، مشکوٰة۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ دیا، اس میں فرمایا: “اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت والا، بڑا بابرکت مہینہ آرہا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض کیا ہے، اور اس کے قیام (تراویح) کو نفل (یعنی سنتِ موٴکدہ) بنایا ہے، جو شخص اس میں کسی بھلائی کے (نفلی) کام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرّب حاصل کرے، وہ ایسا ہے کہ کسی نے غیررمضان میں فرض ادا کیا، اور جس نے اس میں فرض ادا کیا، وہ ایسا ہے کہ کسی نے غیررمضان میں ستر۷۰ فرض ادا کئے، یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا ثواب جنت ہے، اور یہ ہمدردی و غمخواری کا مہینہ ہے، اس میں موٴمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے، اور جس نے اس میں کسی روزہ دار کا روزہ اِفطار کرایا تو وہ اس کے لئے اس کے گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے اس کی گلوخلاصی کا ذریعہ ہے، اور اس کو بھی روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، مگر روزہ دار کے ثواب میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔” ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص کو تو وہ چیز میسر نہیں جس سے روزہ اِفطار کرائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرمائیں گے جس نے پانی ملے دُودھ کے گھونٹ سے، یا ایک کھجور سے، یا پانی کے گھونٹ سے روزہ اِفطار کرادیا، اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلایا پلایا اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض (کوثر) سے پلائیں گے جس کے بعد وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے (اور جنت میں بھوک پیاس کا سوال ہی نہیں)، یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا پہلا حصہ رحمت، درمیان حصہ بخشش اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی (کا) ہے۔ اور جس نے اس مہینے میں اپنے غلام (اور نوکر) کا کام ہلکا کیا، اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمائیں گے، اور اسے دوزخ سے آزاد کردیں گے۔” (بیہقی شعب الایمان، مشکوٰة)
ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “رمضان کی خاطر جنت کو آراستہ کیا جاتا ہے، سال کے سرے سے اگلے سال تک، پس جب رمضان کی پہلی تاریخ ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے (جو) جنت کے پتوں سے (نکل کر) جنت کی حوروں پر (سے گزرتی ہے) تو وہ کہتی ہیں: اے ہمارے رَبّ! اپنے بندوں میں سے ہمارے ایسے شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہم سے ان کی آنکھیں۔” (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، کما فی مشکوٰة، ورواہ الطبرانی فی الکبیر والأوسط کما فی المجمع ج:۳ ص:۱۴۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے خود سنا ہے کہ: “یہ رمضان آچکا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، اور شیاطین کو طوق پہنادئیے جاتے ہیں، ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی بخشش نہ ہو۔” جب اس مہینے میں بخشش نہ ہوئی تو کب ہوگی؟
اسی ماہ رمضان میں قرآن مجید دنیا پر نازل کیا گیا ۔ رب العالمین کا فرمان ہے :
”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ، جو لوگوں کے لیے باعث ہدایت اور حق وباطل میں فرق کرنے والا ہے“ ۔ (البقرة :185)
اسی مہینے میں لیلة القدر ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں( 83سال اور چار ماہ ) کی عبادت سے افضل ہے ۔ ارشاد ربانی ہے :
” لیلة القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے ، اس میں فرشتے روح القدس کی معیت میں بحکم الٰہی اترتے ہیں ، یہ رات طلوعِ فجر تک سلامتی سے بھر پور ہوتی ہے “۔ ( قدر :3۔5)
اس ماہ مبارک میں ایمان اور اخلاص ( اﷲ کی رضا اور خوشنودی کےلئے )روزہ رکھنے ، اس ماہ میں رات میں عبادت کرنے اور لیلة القدر کی عبادت سے اﷲ تعالیٰ تمام گذشتہ گناہوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں ( بخاری )
اس ماہ مبارک میں رسول اکرم اکی عطا وبخشش اور صدقہ وخیرات سال کے دیگر مہینوں کے مقابلے میں کئی درجہ بڑھ جاتی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ا فرماتے ہیں :
” رسول اکرم ا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مخیر تھے ، لیکن آپ ا کا جذبہ سخاوت اس وقت اور بڑھ جاتا جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ، اور آپ ا سے حضرت جبریل ںملاقات کرتے اور آپ اکے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے، جس وقت حضرت جبریل ںرسول اکرم اسے ملتے تو آپ اچلنے والی ہواؤں سے کہیں زیادہ فیاض ہوجاتے “۔ (متفق علیہ )
اسی ماہ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے : ”جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اسی وقت سے ہی شیطانوں اور سرکش جنات کو زنجیروں میں جکڑ ديا جاتا ہے اور جہنم کے تمام دروازے بند کردئے جاتے ہيں ،ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہيں جاتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دئے جاتے ہيں جو پورا مہےنہ بند نہيں کئے جاتے ۔ ہر رات ايک پکارنے والا پکارتا ہے :اے نيکی کرنے والے آگے بڑھ،اور اے برائی کرنے والے باز آجا ۔ اور اﷲ تعالیٰ رمضان المبارک کی ہررات مےں لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہےں“ ۔ ( ترمذی )
رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کی فضیلت سب سے زیادہ ہے ۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ بے شک نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اتنی عبادت کرتے تھے کہ اس طرح کسی اور دنوں میں نہیں کرتے تھے اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آخری عشرہ میں راتوں کوجاگتے اور عبادتِ الٰہی کے لئے کمر باندھ لیتے اور اہل خانہ کوبھی جگا لیتے تھے۔آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ان گنت برکتوں اور بے شمار رحمتوں والی ایک رات ہے، جسےلیلة القدر  کہاجاتاہے اس رات کی اہمیت وفضیلت سے متعلق قرآن کریم میں پوری ایک سورت نازل ہوئی ہے اور اسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیاگیا ہے ۔

(اشاعت مکرر

Advertisements