خودکش حملے حرام ہے، علمائے کرام کا مشترکہ فتوی


خودکش حملے حرام،علمائے کرام مشترکہ فتوی

پاکستان کے اکتیس جید علمائے کرام نے خودکش حملوں کو حرام قرار دے دیا ۔فتوے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی اور نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال بھی حرام ہے ۔فرقہ وارانہ منافرت اور مسلح فرقہ وارانہ تصادم، شریعت کے منافی، فساد فی الارض اور ملی جرم ہے ۔

علماء نے اپنے متفقہ فتوے میں قرار دیا کہ پاکستان اپنے آئین کے لحاظ سے ایک اسلامی ریاست ہے۔ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق سے ہوتا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے وہ ایک مقدس امانت ہے ۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔

علمائے کرام نے فتوے میں کہا کہ نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کے استعمال کو اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام ہے،ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی قطعی حرام ہےاور تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا پاکستان کو سامنا ہے قطعی حرام ہیں۔ نفاذ شریعت کے نام پرطاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی ، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے ، حرام قطعی ہیں ، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت ہیں ۔ یہ ریاست ، ملک و قوم اور وطن کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور ان کا تمام ترفائدہ اسلام دشمن اور ملک دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے ۔ لہذا ریاست نے ان کو کچلنے کے لئے ’’ضرب عضب ‘‘ اور ’’رد الفساد‘‘ کے نام سے جو آپریشن شروع کر رکھے ہیں اور قومی اتفاق رائے سے جو لائحہ عمل تشکیل دیا ہے ان کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔

علمائ نے فتویٰ دیا ہے کہ خودکش حملے حرام ہیں، خودکش حملے کرنے والے، کروانے والے، ان کی ترغیب دینے والے اور ان کے معاون باغی ہیں اور ریاست پاکستان شرعی طور پر ان کے خلاف اس کارروائی کی مجاز ہے جو باغیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔

علماء نے کہا کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔

علماء نے ریاستی اداروں سے درخواست کی کہ ایسی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کی جائے۔

علماء نے کہا کہ انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسندی جہاں بھی ہو ہماری دشمن ہے اور اس کے خلاف فکری و انتظامی جدوجہد ہمارا دینی تقاضا ہے۔

علماء نے فتویٰ دیا کہ جہاد کے جنگ اور قتال والے پہلو کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کو ہے، کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار نہیں، ریاست سے بالاتر کسی گروہ کی ایسی کارروائی فساد اور بغاوت ہے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے واجب تعزیر جرم ہے۔

علماء نے فتوے میں دشمنان پاکستان کے خلاف ضرب عضب اور ردالفساد کے نام سے جدوجہد کی بھرپور تائید کا بھی اعلان کیا۔

فتوے پر ملک بھر سے تمام مسالک اور مکاتب فکر کے اکتیس جید علماء نے دستخط کیے ہیں، ان میں مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی،مولانا مفتی منیب الرحمٰن، مولانا محمد حنیف جالندھری،مولانا مفتی محمد نعیم،صدر وفاق المدارس پاکستان مولانا عبدالرزاق اسکندر،صدر وفاق المدارس الشیعہ اور جامعتہ المنتظر لاہور علامہ سید ریاض حسین نجفی،ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ مولانا محمد یاسین ظفر،مولانا غلام محمد سیالوی،مولانا زاہد محمود القاسمی،جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب ناظم تعلیمات مولانا مفتی محمود الحسن محمود اور نائب مہتمم جامع حقانیہ اکوڑہ خٹک مولانا حامدالحق حقانی شامل ہیں۔

فتوے پر مفتی رفیع عثمانی، مفتی منیب الرحمٰن، مفتی محمد نعیم، مولانا ریاض حسین نجفی اور دارالعلوم حقانیہ کے مولانا حامد الحق حقانی سمیت 31علما نے دستخط کیے ہیں ۔

پاکستان کے 31ممتاز ترین علمائے کرام کا یہ متفقہ فتویٰ قائداعظم یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کے موقع پر سامنے آیا۔

 

Advertisements