کابل میں جنازے میں دھماکوں سے 20 افراد ہلاک، درجنوں زخمی


کابل میں جنازے میں دھماکوں سے 20 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

کابل میں‌ جنازے کے دوران 3 دھماکوں میں 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ کابل کے علاقے خیر خانہ میں سینیٹر محمد عالم کے بیٹے کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کا عمل جاری تھا کہ قبرستان میں یکے بعد دیگرے 3 دھماکے ہو گئے جس میں 20 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہو گئے۔

زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیاگیا جہاں بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔نماز جنازہ میں افغان چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سمیت متعدد اعلیٰ حکام بھی موجود تھے تاہم دھماکوں میں محفوظ رہے۔طالبان ترجمان نے بھی جنازے میں ہونے والے دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے  مگر اس دہماکہ کے پیچھے طالبان و حقانی نیٹ ورک کا ہاتھ ہے۔

پاکستان نے کابل میں نماز جنازہ کے دوران دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ ایسے دہشت گرد حملے انسانی اقدار کے منافی اور قابل مذمت ہیں۔ جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔ افغان بھائیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے.​

’’اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے. ۔ البقرة، 2 : 195​

اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔طالبان و حقانی نیٹ ورک قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔

پشتون قبائلی روایات کے مطابق دشمنی بھی اصولوں کی محتاج ہوتی ہے۔ مساجد و عبادت گاہوں میں دشمنی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتااور نہ ہی مقامی باشندے ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی اور مکتبہ فکر سے ہو، وہ کبھی غیر انسانی و گھناﺅنی حرکت کا تصور کر سکتے ہیں۔ مگر طالبان ملک دشمنی میں اندھے ہوکر قبائلی کلچر کی روح کو بھی تباہ کررہے ہیں اور نتائج سے بے خبر ہیں۔

لوگوں کا عبادت کے لئے مساجد میں جانا ،طالبان کے حملوں کے خوف کی وجہ سے پہلے ہی بندہوچکا ،اب لوگ جنازوں میں شرکت کرنےسے بھی کتارنے لگیں گے۔ جنازوں میں شرکت کرنے کا مقصد ، مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کرنا اور موت کو یاد رکنا ہوتا ہے۔ مرحوم کے لواحقین و اعزا و اقارب سے تؑعزیت کر نا ہوتا ہے اور ہمدردی کا اظہار کر نا ہوتا ہے۔یہ فرض کفایہ اور سنت رسول ہے۔​

آنحضرت صلعم خود بھی لوگوں کے ہاں جا کر تؑعزیت فرمایا کرتے تھےاور ان کو صبر کی تلقین کرتے تھے۔ فقہاء کے نزدیک فرض نماز جنازہ ، جماعت سے ادا کر نا سنت موکدہ ہے تاہم متعداد احادیث میں نماز با جماعت کی تاکید اور فضیلت کے بیان اندازہ ہو تا ہے کہ یہ ایسی سنت ہے جسے بلاعذر ترک کر نا بد نصیبی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق المسلم علی المسلم خمس:رد السلام،وعیادۃ المریض،واتباع الجنائز، وإجابۃ الدعوۃ، وتشمیت العاطس (صحیح بخاری:۱۲۴۰)​

’’مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازہ کے لئے جانا، دعوت قبول کرنا، چھینک کا جواب دینا۔‘‘ طالبان جنازوں پر حملے کر کے لوگوں کو اسلامی شعائر کی ادائیگی سے روک رہے ہیں۔

 طالبان دہشت گرد انسانی ، اسلامی اور اخلاقی اقدار سے بالکل عاری ہیں۔ نمازِ جنازہ پر حملہ کر کے دہشت گردوں نے اپنے بے دین اور منافق ہونے کا کُھلا ثبوت دیا ہے۔طالبان ملک میں صرف افراتفری اور عدم استحکام کی فضا برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انھیں جمہوریت اور ملک کی سالمیت کے خلاف اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کا موقع مل سکے۔ خود کو اسلام کا ٹھیکیدار سمجھنے والے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے قیمتی جانوں کےضیاع کو نہایت معمولی فعل تصور کرتے ہیں۔ ان کے لیے نہ ہی دینی تعلیمات کی کوئی قدروقیمت ہے اور نہ ہی پختون ولی کے صدیوں پرانے رسم و رواج کا پاس۔ یہاں تک کہ جنازہ گاہ کو مقتل گاہ بنانے جیسے قبیع فعل سے بھی گریز نہیں کرتے۔ طالبان مسلمانوں کو اسلامی شعار کی ادائیگی سے بھی روک رہے ہیں۔

وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء93

Advertisements