پاکستان و افغانستان کے امن کو داعش سے خطرہ


پاکستان و افغانستان کے امن کو داعش سے خطرہ

پاکستان  و افغانستان میں داعش کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ علاقوں کے عوام کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔افغانستان میں داعش کا بڑھتا اثر علاقائی امن کے لئے خطرہ ہے۔داعش، مشرق وسطیٰ کو بربادی کے جہنم میں جھونک کر اور وہاں سے پسپا ہو کر ،اب جنوبی ایشیا اور افغانستان میں قدم جما رہی ہے۔افغانستاں میں یہ بیک وقت طالبان اور افغان و اتحادی فوجوں سے بر سر پیکار ہے۔مشرقی افغانستان میں داعش نے چار روز تک جاری رہنے والی گھمسان کی جنگ کے بعد طالبان کو پسپا کرتے ہوئے پاکستان سے ملحقہ اہم ترین سرحدی علاقے تورا بورا پر قبضہ کر لیا۔ داعش نے کابل کی شیعہ  مسجد زہرا پر خودکش حملہ کر کے 4 افراد کو ہلاک کر دیا۔

داعش نے،ازبکستان اسلامی موومنٹ، ایسٹ ترکمانستان لبریشن موومنٹ، پاکستان طالبان نے آپس میں غیر رسمی اتحاد بنا لیا ہے۔ ان پانچ، چھ جماعتوں کا اتحاد بنیادی طور پر مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے ایک دوسرے کی مدد کی خاطر بنایا گیا ہے۔ داعش اور ٹی ٹی پی کے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ جبکہ ازبک اور ایسٹ ترکمانستان تحریک، چین کے بعض حصوں کو الگ کر کے ایک آزاد اسلامی ریاست بنانے کیلئے دہشت گردی کے راستے پر چل رہی ہے۔ امریکہ نے جن 98 تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیکر ان پر پابندی لگائی۔ ان میں سے 20 افغانستان کی سرزمین پر موجود اور برسرپیکار ہیں۔افغانستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں اور داعش کے نقش پا میں اضافہ ہوا ۔داعش ، افغانستان میں کابل حملے سمیت، کئی بڑے حملوں میں ملوث ہے۔اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنظیم اس ملک کے 34 میں سے 25 صوبوں میں نئے جہادی بھرتی کرنے میں مصروف ہے۔

داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل  اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔  داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش  کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔

 داعش کو پاکستان کی کئی کالعد م تنظیموں کی حمایت حاصل ہے جن میں تحریک طالبان، جند اللہ، لشکر جھنگوی مبینہ طور پر پیش پیش ہیں آج ۔داعش کا شمار دنیا کی سرفہرست جہادی تنظیموں میں کیا جانے لگا اور آج یہ تنظیم، القاعدہ سے بھی زیادہ طاقتور تصور کی جارہی ہے۔تحریک طالبان کے ترجمان سمیت اورکزئی، کرم، خیبر اور ہنگو ایجنسیوں کے طالبان کمانڈروں نے بھی داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرکے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

داعش سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کو خطرات لاحق ہیں بلکہ دنیا کے دیگر دوسرے ممالک بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی ایک ملک اس سے نمٹ سکتا ہے یہ اس پورے خطے کا مسئلہ ہے ہم مل جل کر ہی اس کا خاتمہ کر سکتے ہیں غیر ریاستی عناصر کا خاتمہ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں سے ہی ہو گا۔ داعش افغانستان کی سیاسی حکومت اور پاکستان کے لئے مشترکہ دشمن کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ دونوں  کو مل کر اس برائی کو ابتدا سے ہی روکنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔

داعش ایک ناسور  ہے اورکسی صورت میں بھی اُسے پاکستان میں پذیرائی نہیں ملنی چاہئے۔ پاکستان میں کچھ کالعدم تنظیموں کے ارکان داعش کے ساتھ روابط کے دعویدار ہیں پاکستان اور افغانستان میں داعش کا تنظیمی ڈھانچہ قائم ہو چکا ہے جبکہ حکومت یہاں داعش کے وجود سے انکاری ہے۔

سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما رحمٰن ملک نے دو سال قبل کے بیان کا تکرار کرتے ہوئے ایک بار پھر تاکید کی ہے کہ پاکستان میں داعش کا نیٹ ورک موجود ہے اور وہ تیزی کے ساتھ مضبوط ہورہی ہے۔

رحمٰن ملک کے مطابق، القاعدہ کا نیٹ ورک کمزور ہوا ہے، جبکہ داعش اس وقت پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرگرم شدت پسند اور دہشت گرد گروہ آپریشن ضرب عضب کے دوران ہی یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اپنی بقا کے لئے اب داعش کا نام استعمال کریں اور عوام میں پہلے سے زیادہ خوف و ہراس پھیلا کر دیگر دہشتگرد گروہوں سے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی توجہ ہٹادیں۔

رحمان ملک نے دو سال قبل بیان دیا تھا کہ ان کے پاس داعش کی صوبہ پنجاب میں موجودگی کے ثبوت موجود ہیں جس کا اصل مرکز گوجرانوالہ ہے جبکہ حالیہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ کچھ ایسے واقعات کا انہیں علم ہے جن میں داعش کے لوگ یہاں سے تربیت لینے کے لیے عراق اور مصر جیسے ممالک جاتے ہیں اور جب وہ وہاں سے واپس آتے ہیں تو لشکرِ جھنگوی جیسے گروہ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ یہی طریقہ القاعدہ نے بھی استعمال کیا تھا اور اُن کے دہشت گرد افغانستان سے تربیت لے کر پاکستان آئے اور یہاں آکر انھوں نے بڑی کارروائیاں کیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں حال ہی میں ہونے والے دو بڑے حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا نیٹ ورک ایک کم وقت میں ناصرف منظم ہوا ہے، بلکہ وہ اب بڑی کارروائی کرکے اپنا رنگ بھی دکھا رہی ہے۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت میں شامل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ داعش موجود ہے، جبکہ کچھ اس سے انکار کرتے ہیں، لہٰذا قوم کو واضح طور پر بتانا چاہیئے کہ حقیقت کیا ہے۔

یہ ایسے موقع پر ہے کہ حکومتی نمائندے اوائل میں پنجابی طالبان کی موجودگی کو بھی مسترد کرتے رہے تاہم بعد میں انہیں اس سلسلے میں اعتراف کرنا پڑا۔

اگرچہ سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو یقین ہے کہ ملک میں داعش سرگرم ہورہی ہے، لیکن حکومت پاکستان میں داعش کے وجود سے انکار کرتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سالوں کے دوران 60 ہزار سے زائد عام شہریوں کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینکڑوں اہلکار دہشت گرد گروہوں بشمول تحریک طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، جند اللہ اور دیگر کے ہاتھوں شہادت پر فائز ہو چکے ہیں۔

ابھی حال ہی میں سیکورٹی فورسز نے مستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف ایک آپریشن کیا ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن کے دوران دو خود کش حملہ آوروں سمیت 12 انتہائی خطرناک دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو افسران سمیت فورسز کے 5 اہلکار زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ 10 سے 15 کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر یکم جون سے 3 جون تک مستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا۔

دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات اسپلنجئی، کوہ سیاہ، کوہ مروان میں تھیں اور ان دہشت گردوں کا تعلق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور لشکر جھنگوی سے تھا جبکہ یہ تنظیمیں داعش کے ساتھ مواصلاتی رابطے میں تھیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ کالعدم تنظیمیں داعش کو بلوچستان میں قدم جمانے کے لیے سہولت فراہم کررہی تھیں۔پاک فوج نے دعویٰ کیا کہ کامیاب آپریشن کے باعث داعش کا بلوچستان میں انفرااسٹرکچر قائم کرنے سے پہلے تباہ کردیا گیا۔مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ کرنے والا دہشت گرد بھی اسی پناہ گاہ سے بھجوایا گیا تھااور اس حملہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔میجر جنرل آصف غفورکے مطابق دہشتگرد بلوچستان میں داعش کی بنیادرکھنا چاہتے تھے۔ تاہم جوانوں کی جرات و بہادری نے کئی ممکنہ حملوں سے پاکستان کو محفوظ بنا دیا ترجمان نے واضح کیا کہ بلوچستان سمیت پاکستان کے کسی بھی حصے میں داعش کی موجودگی برداشت نہیں کی جائےگی۔

“دہشتگردی کے علاقائی اور عالمی تناظر میں پیراڈائم شفٹ کی نشاندہی کم وبیش تمام دفاعی مبصرین کرتے ہیں اور اس حوالہ سے بلوچستان ان مذموم عناصر کا ہدف بتایا جاتا ہے کیونکہ داعش سمیت مقامی دہشتگرد بھی تمام تر اختلافات کے باوجود ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے دوبارہ سرکشی کی مشترکہ کوششوں میں مصروف ہیں اور بلوچستان و افغانستان میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دہشتگردی اور خونریزی کے الم ناک واقعات اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔” یہ دل سوز سانحے عالمی سطح پر داعش کی وحشیانہ فعالیت سے جڑے ہوئے ہیں، پھر یہی نہیں افغانستان میں طالبان سے ماورا داعش کی ہولناک کارروائیوں سے ہونے والے بڑے جانی و مالی نقصانات کا ذکر عالمی میڈیا میں بھی شدو مد سے آرہا ہے، اس وقت دہشتگردی کے بین الاقوامی ماسٹر مائنڈز تباہی و بربادی کا عالمی دائرہ وسیع کررہے ہیں، پاکستان کو چوکنا رہنا چاہیے، جو عالمی اور علاقائی دہشتگردوں کا مشترکہ ٹارگٹ ہے اور اسی حقیقت کا درست ادراک کرتے ہوئے مستونگ میں کامیاب آپریشن ہوا۔

https://www.express.pk/story/837570/

سیکورٹی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں داعش کا خطرہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ داعش کی جانب سے اپنا اثر رسوخ پاکستان میں پھیلانے کی کوششوں کے آثار 2014ءمیں ہی نظر آگئے تھے لیکن جنوری 2016ءمیں تحریک طالبان پاکستان اورکزئی شاخ کے سربراہ حافظ سعید خان کو دولت اسلامی خراسان کا سربراہ مقرر کیا گیا تو اس عمل میں تیزی آ گئی۔ داعش نے افغانستان اور پاکستان کیلئے اپنی شاخ کو دولت اسلامی خراسان کا نام دے رکھا ہے۔ حافظ سعید خان کے ساتھ پانچ دیگر کمانڈرز اور طالبان کے ترجمان نے بھی ٹی ٹی پی کو چھوڑ کر داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ پاکستان میں داعش گروہ کے کارندے کسی دوسرے ملک سے نہیں آئے ہیں بلکہ پاکستان میں پہلے سے موجود دہشت گرد تنظیموں کے کارکن ہیں جو پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب، رد الفساد اور حکومت کی جانب سے جاری نیشنل ایکشن پلان سےخوفزدہ ہو کر داعش میں شامل ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اگر پاکستان و افغانستان میں داعش نے قدم جمالئے تو وہ ییاں پر بھی بے گناہ ،مردوں ،عروتوں اور بچوں کے قتل وغارت گری کا وہ کھیل کھیلیں گئے جو انہوں نے شام و عراق میں روا رکھا۔

اس سے پہلے کہ داعش اپنے اہداف کو پورا کرنے کے لئے مزید منظم ہو، ہمیںٹھوس اقدامات کرتے ہوئے ایسے عناصر کا ملک بھر سے سد باب کرنا ہو گابصورت دیگر داعش کے  مزید منظم اور مضبوط ہونے سے  پاکستان کو کئی گنا  زیادہ نقصان ہو نے کا اندیشہ ہے۔

 

Advertisements